ایک صاحب کو نہایت قیمتی نصیحتیں فرمائیں!
 ۶ مارچ ۲۰۱۵۔رات کی مجلس کی اختتام پرارشادات

محفوظ کیجئے

تفصیلات

مجلس کے اختتام پر ایک صاحب حاضر خدمت ہوئے جن کی  بڑی مونچھیں تھیں اُن کو نصیحت فرمائی    کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’جو بڑی بڑی مونچھ رکھے گا( ۱)میری شفاعت اُسے نصیب نہیں ہوگی۔(۲) حوضِ کوثر پر نہیں آنے پائے گا،(۳) قبر میں فرشتے حالتِ غضب میں آئیں گےاور(۴) اُ س کو سخت عذاب دیا جائے گا‘‘۔(اوجز المسالک شرح مؤطا امام مالکؒ )
  فرمایا ’’تو کیا فائدہ ایسی مونچھوں سے جو عذاب میں مبتلا کردیں ‘‘۔ (ڈاڑھی  بھی  ایک مٹھی رکھنے    کا فرمایا کہ یہ واجب ہے )ان صاحب نے عرض کیا  ’’آج کل شیطان کےگھیرےمیں ہوں، دُعا فرمائیں شیطان سے جان چھوٹ جائے‘‘ ۔ اس  پر فرمایا’’شیطان ایسا نہیں گھیرتا ، شیطان تو بس کان میں کہہ کر چلا جاتا ہے، اُس کے پاس اِتنا وقت نہیں، لیکن یہ اندر جو ہمارا نفس ہے وہی ہمیں کہتا رہتا ہے ، لیکن وہ بھی قابو نہیں پاسکتا بس اُس کےخلاف کرو، نفس مغلوب ہوجائے گا، چت ہوجائے گا، ہمت سے کام لو۔ اگر ہم ایسے ہی مغلوب ہوجاتے شیطان و نفس سے تو قیامت کے دن مواخذہ نہ ہوتا، کیونکہ مجبور تھے۔ لیکن مواخذہ اِسی وجہ سے ہے  کہ تمہیں اختیار تھا کہ تم نفس کودبا سکتے تھے اور شیطان کو بھی دبا سکتے تھے ، لیکن تم سے اُسے دبانے کی کوشش نہیں کی، تم نے خود نہیں چاہا کہ وہ دبے۔ اِس لئے اِس کی فکر کرو! کیونکہ ہمیں مکلف کیا گیا ہے کہ یہ اعمال تم کرسکتے ہو اور جو چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے  اُس پر مواخذہ بھی نہیں  ہے۔( پھر اختیاری اور غیر اختیاری اعمال میں فرق بیان فرمایا)۔
انتہائی درد سے فرمایا ’’ زندگی کی سانس کا بھروسہ نہیں ہے، ابھی گیا جا کے لیٹا اور ختم ہوگیا۔ ایک سانس کا بھروسہ نہیں ہے۔ زندگی کا ویزا  نامعلوم المیعاد اور ناقابلِ توسیع ہے۔
 
فرمایا ’’ یہ آپ کو صرف مسئلہ بتا دیا کہ آپ عمل کریں اِس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ مجلس میں آنا ہی چھوڑ دیں ، جیسا بھی حال ہو آتے جاتے رہوانشاء اللہ تعالیٰ فائدہ ہوگا۔
دیکھو! ہمارے بزرگوں نے تو شرابی کو بھی مجلس میں آنے سے منع نہیں کیا،( اس پر ایک بزرگ کا واقعہ بیان فرمایا جن کی خدمت میں ایک شرابی آیا کرتا تھا ،  اللہ تعالیٰ نے اُس کو جذب فرمالیا ، شراب چھوڑ دی اور بزرگ کے ساتھ حج میں عین کعبۃ اللہ کے سامنے سجدے کی حالت میں انتقال کرگیا۔)
یہ پورا واقعہ بیان کیا اور انتہائی درد سے فرمایا ’’ کسی کو کیا پتہ کسی کے اندر کیا بات ہے، بظاہر اعمال صحیح نہیں ہیں لیکن دل میں اُس کی کیا بات چھپی ہوئی ہے! اس لئے کسی کو حقیر سمجھنا حرام ہے، ہر شخص کو ہر شخص سے اپنے کو کم تر سمجھنا چاہیے، اس وجہ سے کہ پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کو اِس بندے کا کون سا عمل پسند آجائے۔حقیر سمجھ کر کسی کو تبلیغ بھی مت کرو، اپنے کو حقیر سمجھتے ہوئے تبلیغ کرو کہ یہ مجھ سے بہتر ہے میں اِ س سے ادنیٰ ہوں۔