حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا دشمنوں  کو معاف کرنا

( ۶ مئی۲۰۱۴ء بعد عشاء دوران مجلس)

محفوظ کیجئے

تفصیلات

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد ایسا نور  کسی کے چہرہ پر نہیں دیکھا۔سرخی آرہی تھی، نور بڑھتا جا  رہا تھا، یہ معلوم ہوتا تھا کہ چہرہ ٔ مبارک جیسے  چاند کا ٹکڑا ہو - آخری  دفعہ جب میں نے حضرت کا  چہرہ  دیکھا   تو چاند سے بھی زیادہ حسین ہوگیا تھا۔

حضرت والا نے ہمیشہ برائی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کی ،جو دشمن تھے جنہوں نے قتل تک  کی سازش کی  ان کو ایک  ہزار روپےمہینہ( اُس زمانے کے ) بھجواتے تھے- جب حضرت کے شیخ   مولانا ابرار الحق صاحب  کو معلوم ہوا تو منع فرما دیا کہ  آپ تو سانپ کو دودھ پلا رہے ہیں-تو حضرت نے اپنے شیخ کے حکم سے یہ سلسلہ بند فرمایا لیکن پھر  وہی دشمن کے بیٹے آئے تو حضرت والا سے عرض کی کہ  میں تو مقروض ہو گیا ہوں ،ابا میرے بیمار  ہیں ، آپ میرا قرض ادا کر  یجیے، حضرت والا نے ۴۵ہزار روپےکا قرضہ  بھی ادافرما یا ۔ حضرت والا کے انہی اخلاق سے  دشمنوں کی اولاد سب حضرت سے محبت کرنے لگی۔