ایک شعر کی الہامی تشریح۔۔۔۔

( دوران مجلس بعد عشاء  ۲۰ جمادی اولیٰ ۱۴۳۶ ھ مطابق ۱۲ مارچ ۲۰۱۵ء)

مجلس محفوظ کیجئے

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے ایک شعر کی الہامی تشریح
بزبان :  مرشدی و مولائی حضرت اقدس میر صاحب دامت برکاتہم

 حسینوں کا جغرافیہ میر بدلا
کہاں جاؤ گے اپنی تاریخ لے کر

ارشاد فرمایا:  حسینوں کا جب ناک نقشہ بگڑ گیا تو یہ جو تمہاری تاریخ ِ عشق تھی وہ کہاں گم ہوگئی، اور کہاں اب اس کو لے کر پھرو گے!بلکہ اس کو یاد بھی نہیں کروگے، پچھتاؤگے کہ کس جغرافیہ پر اور کس ناک نقشےپر ہم مرے تھے اور دوسرا شعر ہے ؎

یہ عالم نہ ہوگا تو پھر کیا کرو گے
زحل مشتری اور مریخ لے کر

یعنی حسینوں کے حسن کا عالم! یہ دنیا کا عالم بھی مراد ہوسکتا ہے مگر اصل چیز یہ ہے کہ حسن کی دنیا کا عالم جب بدلے گا تو ؎

یہ عالم نہ ہوگا تو پھر کیا کرو گے
زحل مشتری اور مریخ لے کر

یہ حسینوں کے نام ہیں زحل ، مشتری اور مریخ! یعنی جب حسینوں کے حسن کا عالم بگڑ جائے تو پھر ان کو لے کر کیا کرو گے۔۔