بہت ہی خاص مجلس۔ رمضان کی ۲۷ شب رات ۳:۴۵ کا وقت اور حضرت والا میر صاحب کے اشعار اور خود ہی تشریح

خاص مجلس کی جھلکیاں:

  •  حضرت والا حضرت میر صاحب دامت برکاتہم دن رات اللہ تعالی کی محبت کی باتیں کرتے اور بتاتے رہتے ہیں اس کی مثال یہ پرنور مجلس ہے۔
  • مولانا ابراہیم کشمیری کی پرسوز آواز میں حضرت والا کے اشعار جن کو سن کر ہی عجیب کیف و مستی اللہ تعالیِ کی محبت کے دریا میں طوفان پیدا ہوجاتا ہے۔ تو جو حضرات اُس وقت حاضر خدمت سے ان کا کیا حال ہوگا؟ آہ۔۔
  • حاضرین نے عرض کیا کہ عجیب و غریب اشعار حضرت نے فرمائے ہیں تو حضرت میر صاحب نے فرمایا سب شیخ کا فیض ہوتا ہے ورنہ میرے قدرت میں نہیں کہ میں ایسے اشعار کہہ سکوں۔ عجیب تواضع
  • حضرت والا رحمہ اللہ  کے اشعار "دل گریاں ہے سینے میں تو کیوں خندہ سمجھتے ہیں۔۔۔
  • آخر میں حضرت والا رحمہ اللہ اشعار  " یاں تو جلوہ سے پردہ اٹھا دے" ۔۔۔۔ آہ عجیب اشعار نہ کبھی سنے نہ پڑھے یہ حضرت والا رحمہ اللہ کے مقام کی نشاندہی کرتے ہیں۔

محفوظ کیجیے