’’  اللہ والوں کی جواں مردی اور شیرانہ مزاجی  ! ‘‘
۱۷نومبر   ؁۲۰۰۲ء  کی یادگار مجلسِ اشعار و تشریح

محفوظ کیجئے!

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ   کی مجلس میں جناب تائب صاحب نے اپنے اشعار پیش فرمائے جس کی عاشقانہ تشریح حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے انتہائی درد بھرے انداز میں روتے ہوئے فرمائی۔۔۔۔۔۔ بار بار سنئے!!

ارشاد فرمایا:  پکا ارادہ کرلے کہ ہم نفس کی خواہشات کا خون بہا دیں گےمگر اللہ کو ناراض نہیں کریں گے۔ انتہائی جوش سے فرمایا : کرتے ہو کہ نہیں !!! ( سب حاضرین نے کہا پکا ارادہ کرتے ہیں )

ارشاد فرمایا:  اللہ والوں کی جواں مردی ، شیرانہ مزاجی کے سامنے بڑے بڑے باہمت  پہلوان بھی ہار جاتے ہیں ، حیرت رہتے ہیں کہ اللہ اکبر جس صورت سے لوگ پاگل ہورہے ہیں اور یہ اِس صورت کی طرف دیکھتا بھی نہیں! نظارہ خود اِس کو دیکھنے لگتا ہے، نظر بازی خود اُس کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے کہ یہ کیسا آدمی ہے  انسان ہی تو ہے  مگرہمت کا بادشاہ ہے۔

ارشاد فرمایا:  کسی کو نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتا اپنی بیوی کے علاوہ، کیونکہ عورتیں گھبراتی ہیں کہ صاحب آپ کو اِتنی حُسن کی توہین کرتے ہیں تو ہمارا شوہر بھی گھن کرنے لگے گا۔ تو میں حلال بیوی کو مستثنیٰ کرتا ہوں مطلب یہ ہے کہ حرام نظر ایک بھی نہ کرو تو  اپنی بیوی کے سوا کوئی محبوب نہیں ہوگا کیونکہ لے دے کہ محبوبہ وہی ہے۔

مزاحاًارشاد فرمایا:  لے دے کے بیوی ہی محبوبہ ہے اُس کی محبت میں مر بھی جاؤ تو شہادت کا ثواب ملے گا، بیوی کی محبت میں مان لو اُس کی روح نکل گئی تو شہادت ملے گی اُس کو!! کیونکہ جائز راستہ ہے نا!!

ارشاد فرمایا:  غیروں پر مرنے سے نہ تو شہادت ملے گی ، شہادت کیا جوتے پڑیں گے ، اُس کی دنیا میں ہی ذلت ہوجائے گی مگر افسوس ہے کہ لوگ اِس کو سمجھتے نہیں اور سمجھتے ہیں تو عمل نہیں کرتے، منہ دیکھو تو شیر کا سا ہے مگر اس قابل ہے کہ جوتے سے اُن سے بات کی جائے، جوتا کھانے کی عادتیں ہیں ۔ ہوشیار ہوجاؤ!!

ارشاد فرمایا:ہوشیار معنی کیا ہے ؟   یارِ ہوش یعنی ہوش کے دوست بن جاؤ، اپنے ہوش و حواس سے دشمنی نہ کرو! ہوشیار  یارِ ہوش۔ ہوش و حواس تو اللہ نے دیا ہےپاگل تو نہیں ہو تم ! کہ پاگل کی طر ح جہاں چاہوجس بل میں گھس جاؤ ، بل تو دیکھو کہ اِس بل میں سانپ بچھو تو نہیں ہیں یا سانپ اور بچھو کا عذاب تو نہیں ہے !

ارشاد فرمایا:حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ صحبت میں بھی اعتدال رکھو کہ جس سے تمہاری قوت محفوظ رہے ، اگر زیادہ کثرت کرو گےتو سمجھ لو انجن جو ہے وہ ٹھنڈا ہوجائے گااور تمہیں اللہ کے عشق میں بھی گرمی نہیں رہے گی، اللہ کے عشق و محبت کی گرمی بھی نکل جائے گی۔ ایسا شخص کو کثیر الجماع یعنی  جو صحبت کی کثرت کرتا ہے اُس کو سلوک میں بھی ترقی نہیں ہوتی اور جو اعتدال کے ساتھ رہتے ہیں ترقی کرتے ہیں وہی گرمی  دوسری طرف اللہ کی محبت میں کام آتی ہے، لہٰذا جن کی شادیا ں نہیں ہوئیں وہ بہت اونچے جاسکتے ہیں بشرطیکہ حرام سے بچیں  کیونکہ انجن اُن کا گرم رہتا ہے مگر گرمی کو نامناسب ، غلط  جگہ نہ نکالیں !!

ارشاد فرمایا:اللہ کے فرمان کے سامنے اپنے کو نافرمان نہ بناؤ، جو اللہ کے فرمان کے سامنے نافرمان نہیں ہوگا ، سر ڈال دے گا کہ سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے، جیسا آپ کا مزاج ہے ۔آپ کا جو مزاج الوہیت اور خداوندیت کا ہے۔میرے ارادوں ،  حوصلوں اور تمناؤں کے  آپ مالک ہیں  جس میں آپ خوش رہیں گے اُس میں ہم خوش رہیں گے اور جس عمل سے آپ ناخوش ہوں گے ہم اپنے کو ناخوش کردیں گے ، ہم آپ کے بندے ہیں ، بندگی سے خارج نہیں ہوسکتے ، بس سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔ ہماراسر کیا ہے سرِ تسلیم خم ہے!!  پھر کیا ملے گا !!! ( انتہائی درد سے زارو قطار روتے ہوئے فرمایا ) واللہ !!واللہ کہتا ہوں !!جو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر اپنے کو مٹا د ے اُس کو ایسی حکومت ایسی بادشاہت چٹائی پر ، بوریے پر ملے گی!! بوریہ تو حقیر چیز ہے مگر اُس کی قیمت بادشاہوں کے تحت و  تاج سے زیادہ ہے کیوں؟؟  کیونکہ اس میں بادشاہوں کو بادشاہت دینے والے کا نام لیا گیا ہے،( روتے ہوئے فرمایا)  اُس بوریے پر بادشاہت دینے والے کا نام لیا گیا ہے ، اس لئے یہ بوریہ بہتر  ہے قیمت میں  تاجِ شاہوں کے!!اُ س کی وجہ بھی تو دیکھوکہ اس پر بادشاہت دینے والے کا نام لیا گیا ہےاس لئے یہ بوریہ بادشاہوں کے تحت و تاج سے افضل ہے!!

ارشاد فرمایا:بہت ہی اُلو ہیں وہ لوگ وہ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کے پیچھے پھر رہے ہیں مرنے کے بعد جب قبر میں جائیں گے تو پھر اِن کو محسوس ہوجائے گاکہ ہم کس پر مرے تھے ۔ انتہائی جوش سے فرمایا: توبہ کرلو!!دیر مت لگاؤ بعض لوگ اِس لئے دیر لگاتے ہیں کہ ابھی ذرا  اور  حرام مزہ لے لینے دو پھر اکٹھی توبہ کریں گے !! کیا توبہ تمہارے اختیار میں ہے ظالم !! میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ توبہ کا لفظ نہیں نکلا ایک مرنے والے سے !! اُس کے دوست سے بہت کہا کہ توبہ کرلو، اُس نے کہا یہ لفظ نہیں نکل رہا ہے !!!   سائنس اس کا جواب دے کہ کون ہے جس نے اُس کی زبان پر قفل لگا دیا، اس لئے توبہ تمہارے اختیار میں نہیں ہے ، توفیق ِ توبہ آسمان سے اُترتی ہے اِس لئے آسمان والے کو یاد کرو!اُس کی یاد میں ایک دو دن بھی دیر نہ کرو۔