دینی سفرفجر ۱۳ جون ۲۶ء:اسمارٹ فون تباہی کا راستہ ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں بمقام:مدرسہ تحفیظ القرآن دنین چترال مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم رات بعد مغرب حضرت شیخ کاجامع مسجد سین چترال میں بہت اہم اور جامع بیان ہوا۔۔ بیان میں بہت بڑا مجمع تھا۔۔ ایک بات اس میں یہ بتانا رہ گئی تھی کہ یہ مسجد بالکل دریا کے کنارے پر تھی اور جس راستے سے قافلہ اس جگہ پہنچا تو راستہ بھی خطرناک تھا اس راستوں سے ہوتا ہوا قافلہ یہاں پہنچا تھاایک جگہ راستہ ایسا تھا کہ مشکل سے وہاں سے کاریں گذری۔۔اور مسجد تک جانے کا راستہ بھی پیدل تھا کاروں کو باہر روڈ کے کنارے پر کھڑی کرکے پیدل احباب پہنچے یہ راستہ بھی پتھروں کے اوپر سے کراس کرکے جانا والا تھا یہ بھی مشکل راستہ تھا واپسی میں چونکہ رات ہوچکی تھی اس لیے احباب نے موبائل کی روشنی سے راستہ دیکھا کیونکہ چلنے والا راستہ بالکل ٹھوڑا سا تھا اور کھڈوں والا تھا اگر ٹھوڑا بھی بے احتیاطی ہوتی تو نیچے گرنے کا خطرہ تھا اور نیچے دریا تھا جو بہت گہرہ بھی تھا اور تیزی سے پانی چل رہا تھا پانی کی آواز سن کر ہی عجیب سی کیفیت ہورہی تھی کہ جب پانی کی اتنی آواز اور پانی میں اتنی طاقت ہے تو اللہ تعالی کیسی طاقت والے ہونگے اس لیے ان چیزوں کو دیکھ کر گناہوں سے بچ کر اللہ تعالی کو راضی کرنے کی فکر کریں۔۔ بیان کے بعد حسب معمول ترتیب رہی کھانے کے دوران اور بعد میں رات پونے ایک بجے تک مجلس چلتی رہی تقریبا رات ایک بجے تک حضرت والا نے آرام فرمایا۔ حضرت والا نے فجر مجلس بھی فرمائی الحمدللہ تمام احباب بھی مجلس میں شریک رہے مدرسے کے طلباء کرام بھی مجلس میں شریک تھے۔۔ | ||