دینی سفرمغرب ۱۳ جون ۲۶ء:گناہوں کو چھوڑنے کا آسان راستہ ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں بمقام:جامع مسجد دواشش ،جغور چترال مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم حضرت شیخ کا بعد نمازِ ظہر جامعہ اسلامیہ ریحان کوٹ میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا بیان ہوا۔ یہاں کے ایک اللہ والےبزرگ جو اس مسجد کے بڑے ہیں انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ مسجد ہے جہاں جنید جمشید رحمہ اللہ کا آخری بیان ہوا تھا بیان کے بعد جنید جمشید رحمہ اللہ کے ساتھ کافی دیر بیٹھ کر بات چیت بھی ہوئی تھی اُس کے بعد اُن کی روانگی تھی اور اسی میں ان کا جہاز گر کر تباہ ہوگیا اور وہ شہید ہوگئے۔۔ پھر جو بزرگ تھے وہ بیان سے پہلے حضرت شیخ کو ایک جگہ دعا کے لیے گئے تھے انہوں نے فرمایا کہ یہ جگہ مسجد و مدرسہ کے لیے پانچ کڑوڑ میں لی ہے اب اسکی تعمیرات شروع کروانی ہے حضرت والا جگہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔۔ پھر بعد نماز ظہر بیان کے بعد تمام قافلہ رہائش گاہ آگیا وہاں فورا ہی کھانے کا نظم تھا ۔۔ کھانے کے بعد ایک گھنٹہ آرام کا موقع ملا۔۔ یہاں کے میزبان مفتی محمد کریم صاحب کے ساتھ مولانا عبدالاحد صاحب بھی ہیں جنہوں نے اور انکے بھائیوں نے مل کر سب نظم ترتیب دیا مولانا عبدالاحد بھی حضرت والا کی خانقاہ غرفۃ السالکین میں حضرت والا کی خدمت میں ہوتے ہیں۔۔ مولانا عبدالاحد کا گھر چترال میں ہیں ان کے والدین اور بھائی سب یہی ہیں آج بعد نماز عصر مولانا عبدالاحد حضرت والا اور تمام قافلے کو اپنے گھر لے گئے وہاں پر سب کے لیے چائے اور بسکٹ وغیرہ کا انتظام رکھا۔ مولانا عبدالاحد صاحب کا گھر بالکل دریا کے کنارے پر تھا۔۔ ما شاء اللہ موسم بہت خوشگوار تھا ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔۔ چائے کے بعد حضرت والا دریا کے کنارے تشریف لے آئے حضرت والا ،مفتی فرحان صاحب اور حضرت کے بھائی ضمیر بھائی کی کرسی بالکل دریا کے کنارے پر لگادی تمام قافلہ مقامی حضرات کو ملا کر ۸۰ سے بھی زیادہ تھا سب حضرت والا کے پاس آگئے مقامی کچھ لوگوں نے جب اتنا بڑا مجمع دیکھا کہ سب کی سفید ٹوپی سفید لباس تو حضرت والا کے پاس دعا اور مصافحہ لیے آگئے۔۔ حضرت والا کو ایک صاحب نے پریشانی کا عرض کیا تو حضرت والا نے فرمایا کہ پانچ وقت نماز کی پابندی کریں اور بس ایک گناہ نہ کریں اور اگر گناہ ہوگیا تو سچے دل سے توبہ کرلیں۔۔ پھر حضرت والا نے احباب کو فرمایا کہ دریا کو دیکھیں کیسی آواز ہے اور کیسی ٹھنڈی ہوائیں ہیں اور پانی کس تیزی سے آگے جاتا جا رہا ہے یہ بھی معرفت کی نشانی ہے اللہ کو پہچاننے کے لیے یہ سمندر ہی کافی ہے۔۔ دریا کے سامنے ہی فوجی کوائٹر بھی تھا اور فوج والوں کی مسجدبھی بنی ہوئی تھی۔۔ مولانا محمد کریم صاحب نے ایک مولانا سے ملوایا اور بتایا کہ حضرت یہ بھی مسجد کے امام ہیں اور بالکل دریا کے کنارے آگےہی ان کی مسجد ہے حضرت والا نے فرمایا کہ کیا ہی مزہ ہے دریا کے کنارے پر مسجد ۔۔ پھر حضرت والا نے وہاں پر پانچ منٹ پہلا کلمہ اور اللہ کے نام کا ذکر کروایا سب کو بہت مزہ آیا عجیب ہی پُر نور منظر تھا ماشاء اللہ۔۔ حضرت شیخ سے جو سنا تھا کہ بڑے حضرت والا رحمہ اللہ سمند ر کے کنارے تشریف لے جاتے تھے اور وہاں بیان فرماتے تھے اور ذکر بھی کرواتے تھے وہ منظر یاد آگیا سب احباب کو یہاں مولانا عبدالاحد صاحب کے گھر اور دریا کے کنارے بہت مزہ آیا۔۔ پھر حضرت والا اور تمام قافلہ پیدل ہی مسجد تک گئے مسجد دریا سے پانچ منٹ کے فاصلے پر تھی۔۔ پھر مغرب نماز ادا کی نماز کے بعد بیان ہوا۔۔ | ||