دینی سفرفجر ۱۴ جون ۲۶ء:طلباء کرام کو قیمتی نصیحتیں ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں بمقام:مدرسہ تحفیظ القرآن دنین چترال مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کل بعد مغرب حضرت شیخ کا مولانا عبدالاحد صاحب کے محلے کی مسجد میں بہت اہم اور جامع بیان ہوا۔۔ بیان کے بعد عشاء نماز ادا کی گئی۔۔ عشاء نماز کے بعد قافلہ اپنے مقام رہائش گاہ پر پہنچا۔۔ وہاں فورا ہی کھانے کا نظم ہوا۔۔ کھانے کے بعد ایک بزرگ اپنے دوبیٹوں کے سہارے تشریف لے آئے اور حضرت کے اکرام اور احباب کے لیے کچھ ڈارئ فروٹ اور فروٹ لے آئے اور وہ بزرگ جو تھے حضرت والا سے بہت ہی محبت کا اظہار فرمایا اُن کا یہ فرمانا تھا کہ آپ سب کل ہمارے ہاں آئیں اور کھانا سب ہمارےہاں کھائیں ہم گائے گرائے گا ایک پیسہ نہیں لے گا۔۔ حضرت والا نے فرمایا ایسا تو ممکن نہیں ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے کہ ہر جگہ اپنا کرایہ کھانے کا اپنا پیسہ اُن بزرگ نے بہت اصرار کیا پھر فرمایا کہ ہم پھٹان ہے تو حضرت والا نے فرمایاہم میمن پھٹان ہے پھر سب بہت ہنسے۔۔ بہت پُر لطف مجلس ہوئی بزرگ بہت ہسنے ہسانے والے بھی تھے ان بزرگ اور ان کے بیٹوں نے بہت اکرام فرمایا۔۔ ان بزرگ کا اصرار تھا کہ بس آپ ہمارے ہاں آئے تو حضرت والا نے پھر سمجھایا کہ کل تو ہماری واپسی ہے اگلی بار ہم آپ کے ہاں ضرور آئے گا لیکن کھانا ہمارا ہوگا لیکن بزرگ نہیں مانے کہ جتنے لوگ ہوں ہم کھانا کرے گا گائے گرائے گا پھر حضرت کے سمجھانے پر مان گئے اور کہا کہ اتنی اجازت دیں کے حضرت اور دس احباب کا میں کروں گا اور میرے ہاں رہیں حضرت نے فرمایا ان شاء اللہ ضرور اگلی بار آپ کے پاس آئیں گے۔ اُن بزرگ نے فرمایا کہ میری اہلیہ تو نہیں اور میرا عمر بھی ۸۶ برس ہے پتا نہیں اگلی بار ہوں لیکن آپ میرے بیٹوں کو فون کرنا یہ آپ کی خدمت کرے گااور ہمارے چاروں بیٹوں کے پاس گاڑیاں ہیں یہ سب گاڑی چلاتا ہے گاڑیاں بھی آپ کے لیے ہماری ہوگی۔۔ آج چونکہ چترال سے روانہ ہونا ہے تواُن کا اصرار تھا کہ راستے میں کم ازکم چائے پینے آجائیں لیکن حضرت نے یہی فرمایا کہ اگلی بار ضرور آئیں گے ابھی تو پھر ساری ترتیب آگے پیچھے کرنی پڑجائے گی۔۔ ان بزرگ نے بہت ہی حضرت سے محبت کا اظہار فرمایا یہاں تک کہا کہ میں نے ۸۶ برس میں آپ جیسا نہیں دیکھا آپ لوگ اللہ والا ہے آپ کو مسجد سے محبت ہے تو مجھے بھی آپ سے اتنی محبت ہوگئی کہ آپ کے پاوں میں جو ڈھول لگی ہے ہم اُس کو اپنے منہ سے صاف کرنے کو اپنی سعادت سمجھے گا۔۔ اور فرمایا کہ یہ ایک ہمارا بیٹا ہے حضرت والا نے سب کے نام پوچھے تو ایک کا نام خان بادشاہ تھا دوسرے کا نام امیر بادشاہ تیسرے کا نام وزیر بادشاہ تو حضرت نے فرمایا کہ فقیر بادشاہ کوئی نہیں یا غریب بادشاہ نہیں تو وہ بزرگ اور ان کے بیٹے اور سب احبا ب خوب ہنسے۔۔ اُن بزرگ نے فورا ہی فرمایا نہیں نہیں حضرت فقیر بادشاہ کوئی نہیں۔۔ پھر ان بزرگ نے تین بار یہ بات فرمائی کہ بس ہمارے بیٹے آپ لیے چاہے آپ ہمارے بیٹوں کو میرے سامنے ذبح کردیں بس یہ آپ کے ہیں ہم کچھ نہیں بولے گا ہم نے ۸۶ برس میں آپ جیسا لوگ نہیں دیکھا۔ پھر یہ مجلس ایک گھنٹہ چلتی رہی اور بہت پُرلطف مجلس رہی جس کو تحریر میں لکھ کر بیان نہیں کیا جاسکتا۔۔ جو موجود تھے وہی بتاسکتے ہیں۔۔ یہ بزرگ اتنے بوڑھے تھے کہ ان کا بیٹا ان کو سہارے سے پکڑ کر لایا تھا اور دوسرے ہاتھ سے عصا سے بھی سہارا لیا ہوا تھا لیکن حضرت کی زیارت کے لیے حاضر ہوگئے۔۔ پھر جاتے ہوئے یہ بزرگ حضرت سے گلے لگ کر زارو قطار ہچکیاں لے کر روتے رہے پھر حضرت کے ماتھے میں اور ہاتھوں پر کئی بار بوسہ دیا۔۔ ان کے بیٹے بھی حضرت سے گلے مل کر رو رہے تھے اور کئی بار ماتھے کو کبھی ہاتھ کو بوسہ دے رہے تھے ایک بیٹا بھی اسی طرح آنسووں کے ساتھ رونے ہی لگے تھے کہ کوئی ہنسی کی بات نکل آئی جب سب ہنس پڑے تو یہ بھی ہنس پڑے۔۔ ان بزرگ کی ماشاء اللہ سفید ڈاڑھی تھی اور دین دار بھی تھے ۔ان بزرگ کے جانے کے بعد ایک خان صاحب نے یہ بات بتائی کہ ہمارے ہاں یہ بات کہہ دینا کہ بیٹوں کو ذبح بھی کردیں تو یہ ایسے حضرات کی بے انتہاء اخلاص والی محبت کی دلیل ہے کہ بس یہاں ان کی محبت کی انتہاء ہوگئی اور ان بزرگ نے یہ بات تین چار بار فرمائی۔۔ پھر حضرت نے انکےجانے کے بعد نصیحت فرمائی کہ جب ہی تو کسی کو حقیر سمجھنا جائز نہیں کہ ان کے بیٹے گاڑیاں چلاتے ہیں ڈاڑھی نہیں ہے دیکھ لیں کیسے رورہے تھے اب سمجھیں کسی کو حقیر!۔ پھر ان کے جانے کے بعد جناب مصطفی صاحب نے شیخ کی محبت میں اشعار پڑھ کر سنائے۔۔ پھر آخر میں ریحان طائر بھائی نے چترال پر جو اشعار ہوئے حضرت کے حکم سے پڑھ کر سنائے وہ اشعار یہ ہیں۔۔ "سفر چترال" پر اشعار کیوں نہ مہکیں شب و روز ، چترال میں شیخ ہیں جلوہ افروز ، چترال میں اک نظر دیکھ کر ، دیکھتے رہ گئے مرشدی کو سبھی ROSE ، چترال میں کیسی انوار سے پر ہیں راتیں یہاں کیسے دن ہیں ، دل افروز چترال میں ہو گئے سارے منصوبے شیطان کے ایک ہی دن میں بلڈوز ، چترال میں آو، لے لو دعائیں ، ابھی وقت ہے ہیں ابھی شیخ فیروز ، چترال میں ہوں گے سالک نہ غافل ، اب اصلاح سے ایسے طائر ملے Doze ، چترال میں | ||