دینی سفرشام ۱۴ جون ۲۶ء:مدرسہ البنات سے متعلق اہم ہدایات ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں بمقام:مدرسہ احیاء السنۃ،ایوان چترال مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم آج حضرت شیخ کی دوپہر بارہ بجے چترال سے دوسری طرف روانگی ہوئی یہ جگہ بھی چترال میں ہے لیکن کافی اونچائی پر یہ جگہ واقع ہے اس جگہ ٹھوڑی ٹھنڈ بڑھ جاتی ہے یعنی ایسا موسم ہے کہ پنکھے چلتے ہیں تو ہلکی ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے رات میں ٹھنڈ بڑھ جاتی ہے یہ علاقہ بھی پہاڑوں کے درمیان واقع ہے بہت اونچے اونچے پہاڑ اور انکے درمیان راستہ بنا ہوا اور گھر بنے ہوئے۔ قافلہ بارہ بجے روانہ کردیا گیا ظہر نماز راستے کی ایک مسجد میں ادا کی۔۔ نماز ادا کرنے کے بعد ایوان پہنچے جہاں ایک مہمان خانے میں سب کی رہائش ہے۔یہاں پہنچ کر کچھ دیر میں ہی سب نے کھانا کھایا۔۔ کھانے کے بعد ایک گھنٹہ آرام کا موقع ملا۔۔ جس چترال کے راستے سے دوسری جگہ آئے یہ راستہ بھی خطرناک اور ٹوٹا ہوا تھا بعض جگہ ایسا موڑ تھا کہ کار کو ریورس کرکے پھر ٹرن لینا پڑا اور ایک ہی پتلا روڈ جو ٹوٹا ہوا کچا اور دونوں طرف سے گاڑیاں آرہی تھیں۔۔ یہ راستہ طے کرکے رہاش گاہ تقریبا ایک گھنٹے میں پہنچے۔۔ آج بیان کی ترتیب شام ساڑے چار بجے کی تھی حضرت شیخ نے قیلولہ فرما کر تیاری فرمائی پھر چار بجے تک روانہ ہوگئے مقامی ساتھیوں کا کہتا تھا کہ دس منٹ کا راستہ ہے لیکن راستہ بہت ہی کچا تھا بہت مشکل سے حضرت والا کی کار اور احباب کی کار آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچی کوسٹر کا تو راستہ ہی نہ تھا کوسٹر والے پیدل چل کر آئے جس گلی میں یہ مدرسہ تھا جب اُس گاڑی میں ٹرن ہوئے تو بس اتنی جگہ تھی کہ کار مشکل سے گذر سکتی تھی کار کی موجودگی میں کوئی پیدل والا آدمی بھی نہیں گذر سکتا تھا اور راستہ بھی بالکل کچا اور اوپر نیچے تھا۔۔ بعض جگہ ایسے گڑھے بھی آئے کہ بہت آہستہ سے کار کو نکالنا پڑا ۔۔ مقامی ساتھیوں نے بتایا کہ یہ چترال کا سب سے بڑا مدرسہ ہے اور یہ اس علاقے کا سنگم کہلاتا ہے اور یہ وادی قلاش بھی ہے یعنی قلاشوں کا علاقہ بھی کہلاتا ہے لیکن یہاں قلاش اب کم رہ گئے ہیں الحمدللہ زیادہ تر مسلمان ہوگئے ہیں اور انجیوز یہاں بہت زیادہ کام کررہی ہیں تاکہ جو مسلمان نہیں ہیں وہ مسلمان نہ ہوسکیں۔۔ ۔۔ بہت اونچائی پر یہ مدرسہ واقع ہے اور بہت ہی اونچے اونچے پہاڑ دیکھنے کوملے۔۔ اور یہ بھی مقامی ساتھی نے بتایا کہ افغانستان کا باڈر بھی یہاں سے قریب ہے یعنی زیادہ سے زیادہ ۵۰۰کلو میٹر دو باڈر لگتا ہے پہلے یہ علاقہ افغانستان میں ہی داخل تھا پھر چترال کےولی نے غالبا ۱۹۵۵ کا سن بتایا کہ اُس وقت کے ولی نے اس کو علاقے کو افغانستان سے الگ کردیا تھا۔۔ اس لیے باڈر یہاں سے قریب لگتا ہے جب بیا ن ہورہا تھا تو خوب تیز اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں اور مٹی بھی بہت زیادہ اڑ رہی تھی۔۔ یہ بیان بہت زیادہ اہم ہوا ہے احباب کو چاہیے اس بیان کو تو ضرور سنیں۔۔ | ||