دینی سفرمغرب    ۱۶     جون  ۲۶ء:اسمارٹ فون کے 26 نقصانات  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*بمقام: جامعہ تعلیم القرآن تختہ بند سوات*

مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* آج صبح گیارہ بجے حضرت شیخ کا دیر میں جامعہ مظہر العلوم میں عظمت صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین پر انتہائی درد بھرا بیان ہوا احباب اس بیان کو بھی ضرور سن لیں اور زیادہ سے زیادہ آگے پھیلائیں ۔

بیان کے بعد قافلہ سوات کے لیے روانہ ہوا۔۔ راستے میں ایک جگہ تمام قافلہ رکا جس کی تفصیل بتادی کہ دریا کے کنارے پر حضرت والا دس منٹ رکے اور وہاں آٹھ منٹ کی نصیحت فرمائی جو جاری کردی گئی۔۔ حضرت والا نے فرمایا کہ کیسا منظر ہے کہ دریا کا کنارہ اور پھر کیسی تیز ہوا چل رہی ہے اور درخت کیسے سیدھے کھڑے ہیں اتنی تیز ہوا کے بعد بھی جھک نہیں رہے ہل بھی نہیں رہےاور پھر یہ پہاڑ کی دیزائن کیسی ہے او پھر ہم نے کتنے اونچے اونچے پہاڑ دیکھے ہر پہاڑ کا معاملہ الگ پھر ایک پہاڑ آگے دوسرا اُس کے پیچھے اور پھر تیسرا اُس کے پیچھے۔۔

فرمایا کہ گھانس بھی سامنے اور فصل بھی نظر آرہی ہے سب کے سب سبز۔۔ فرمایا کہ پہاڑ کے معاملے میں تو دماغ فیل ہے کہ کیسے ایک پہاڑ کے اوپر دوسرا پہاڑ اور پہاڑ دب بھی نہیں رہا۔۔ بس یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے کہ کن ہوجا تو فیکون ہوگیا۔۔ یہاں پر رکے اور گنے کا رس بھی سب نے پیا اور گنےکو پہلے حضرت والا نے دھلوایا پھر اس کا جوس نکالا۔۔ لیکن ان مناظر کے بارے میں فرمایا کہ کہ ایک دن یہ فنا ہونے وا لے ہیں اس لیے ان سے دل نہ لگاو۔۔ بس حُسنِ تباہ سے نباہ کرلو یہ مضمون سفر کی شروع کی تفصیل میں گذرچکا۔۔

حسین مناظر کو دیکھ کر اللہ تعالی سے جنت مانگ لیں۔۔ پھر ایک دعا حضرت والا نے سب سے تین بار پڑھوائی۔۔ َللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الدعاء، باب الجوامع من الدعاء،ص:۲۷۳) اے اللہ! ہم سب آپ سے جنت کا سوال کرتے ہیں،کیونکہ اس جغرافیہ پر تو قیامت آنے والی ہے، کتنا ہی حسین منظر ہو، کتنی ہی مفرح شکل ہو، مگر ہماری اس فرحت پر قیامت آنے والی ہے اور جنت پر کبھی قیامت نہ آئے گی، تو ہم عارضی بہاروں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے کیوں نہ دائمی بہار مانگ لیں۔ یہ عارضی بہار دیکھ کرجب دل میں مزہ آئے تو ہم دائمی بہار مانگ لیں کہ اےاللہ! ہمیں جنت عطا فرما اور جنت میں لے جانے والے اعمال بھی نصیب فرما،معلوم ہوا کہ مقرب عمل وہ ہے جو ہمیں جنت سے قریب کرے، اورجہنم سے پناہ نصیب فرما اور گناہوں سے بچا کیونکہ یہی جہنم سے قریب کرتے ہیں۔‘ پھر اس کے بعد قافلہ دوبارہ منزل مقصود سوات کی طرف روانہ ہوا۔۔ تقریبا تین بجے تک باعافیت وہاں پہنچ گئے اور فورا ہی کھانے کا نظم ہوا تاکہ کچھ دیر حضرت والا کو اور احباب کو آرام مل جائے۔۔

پھر عصر نماز چھ بجے ادا کی نماز ادا کرنے کے بعد جامعہ کا ایک باغ ہے حضرت والا اور تمام احباب وہاں تشریف لے گئے وہی پر حضرت والا اور سب احباب کے لیے چائے کا انتظام تھا۔۔ تقریبا مغرب میں دو گھنٹے کا وقت تھا حضرت والا وہی چمن میں تشریف فرما رہے کافی تعدا میں کتب اور حفظ کے طلباء جمع ہوگئے تھے کچھ دیر مزاح کی مجلس بھی ہوئی جس میں طلباء کرام خوب ہنسے اور حضرت والا نے حفظ کے طلباء کو نصیحت بھی فرمائی کہ حافظ قرآن اللہ والا کیسے بنتے ہیں۔۔ پھر مغرب نماز ادا کرنے کے بعد بیان کا آغاز ہوا۔۔

بیان کے کچھ اہم نکات:۔ جیسا ظاہر ہوگا ویسا ہی باطن ہوگا۔۔ ظاہر باطن دونوں کو بنانا ضروری ہے۔۔ سنت کی اہمیت۔۔ سکون چین گناہوں کی وجہ سے چھن جاتا ہے۔۔ تصویر کشی اور یر وقت ویڈیو چینل کی فکر اور مساجد اور جلسوں میں ہر وقت تصویر نکالنے کی کوشش۔۔اس پر اہم اور تفصیلی بیان ہوا۔۔ سمارٹ فون اور اس کے ۲۶ نقصانات۔۔ دوسری شادی یا زندگی کی تباہی؟؟ اصل زندگی اللہ کو راضی کرنے میں ہے۔۔