عشاء  مجلس ۲۱     جون  ۲۶ء:سکینہ توبہ اور ایمان کی ترقی   !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

*بیان کے کچھ اہم نکات:۔* *حسب معمول بیان کے آغاز میں تعلیم:۔نبی کریم ﷺ کی چاندی کی انگوٹھی کے بارے میں فرمایا*

*احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس پر "محمد رسول اللہ" نقش تھا اور اسے خطوط پر مہر لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔* *یہ انگوٹھی حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضوان اللہ علیھم اجمعین کے پاس بھی رہی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بئر اریس میں گم ہوگئی۔* *تعلیم کے بعد بیان کا آغاز ہوا۔۔*

*سکینہ، توبہ اور ایمان کی ترقی۔* *فرمایا دل کا سکون (سکینہ) ہے۔*

*ارشاد فرمایا کہ حقیقی سکون صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، گناہوں سے توبہ، والدین اور اہلِ خانہ کے حقوق ادا کرنے اوراللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔*

*گناہوں کو دل کے "ائیر پورٹ" کی تباہی سے تشبیہ دی گئی اور بتایا گیا کہ توبہ دل کو دوبارہ آباد کر دیتی ہے، جس سے سکینہ کا نور نازل ہوتا ہے۔*

*دل کا حقیقی سکون توبہ اور اللہ کی یاد سے حاصل ہوتا ہے اور یہی ایمان کی ترقی کا ذریعہ ہے۔۔*