اتوارمجلس ۲۸     جون  ۲۶ء:گناہوں کا زنگ اور دل کی اصلاح کا راستہ     !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

*15:35) بیان کے آغاز میں اشعار کی مجلس ہوئی۔۔*

*20:51) دین میں آگے بڑھنا ہے تو سب سے پہلے بدنظری سے حفاظت پھر اچھے اخلاق اور پپھر امانت کی صفت الخہ نصیحت۔۔*

*21:14) چوریاں آنکھوں کی اور سینوں کے راز الخہ*

*25:59) اللہ والوں کی قدر دانی کا مطلب۔۔*

*33:59) اصل دینداری کیا ہے؟*

*35:35) اپنے شیخ سے فائدہ کیوں نہیں ہوتا۔۔* *اس لیے کہ حسین رفاقت ہم نے رکھی ہی نہیں۔۔*

*42:51) گناہوں کا زنگ اور دل کی اصلاح کا راستہ:۔* *اصل کامیابی دنیا کی تعریفوں میں نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ خاتمہ ہونے میں ہے۔* *شیطان انسان کو مختلف حیلوں سے دھوکہ دیتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات بدنگاہی، نامحرم سے غیر ضروری تعلقات کو ہمدردی، شفقت اور احسان کا نام دے کر گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔* *حضرت والا رحمہ اللہ نے نصیحت فرمائی کہ مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی سے بچنا چاہیے اور اپنے نفس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔

گناہوں کی کثرت دل پر اسی طرح زنگ چڑھا دیتی ہے جیسے پانی میں پڑا ہوا لوہا رفتہ رفتہ زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سوال پر رسول اللہ ﷺ نے دل کے اس زنگ کو دور کرنے کا موت کی یاد اور اور تلاوتِ قرآنِ ۔ لہٰذا بندے کو چاہیے کہ گناہوں سے بچتے ہوئے قرآن، نماز اور اللہ تعالیٰ کی یاد کے ذریعے اپنے دل کو زندہ اور روشن رکھے۔*

*46:59) "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عاجزی: قربت کے باوجود خوفِ خدا"* *حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں بے مثال عاجزی، خوفِ خدا اور نبوت کے آداب موجود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبتِ مبارکہ کی برکت نے آپ کو صدیقِ اکبر کے بلند مقام تک پہنچایا۔ حالانکہ آپ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے، اپنی لختِ جگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اور اپنی جان، مال اور اولاد سب کچھ آپ پر قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔*

*اس کے باوجود آپ ہمیشہ اس فکر میں رہتے کہ کہیں ان سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو جائے جو شانِ نبوت کے خلاف ہو۔ ذرا غور کیجیے! اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ سوچتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت احسانات کیے ہیں، لہٰذا حضور کو میرا خاص خیال رکھنا چاہیے، یا میری عظمت ان کے دل میں ضرور ہوگی، تو کیا وہ صدیقِ اکبر بن سکتے تھے؟ ہرگز نہیں۔* *دوستی کا تعلق تو نبوت کے اعلان سے پہلے بھی تھا، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو سراپا ادب اور اطاعت بنا لیا۔ آپ نے کبھی یہ گمان نہیں کیا کہ میرے بغیر دین کا کام نہیں چل سکتا، بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو محتاجِ فضلِ الٰہی اور غلامِ رسول سمجھا۔*

*آج بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شیخ کسی مرید کے گھر چند مرتبہ تشریف لے جائے تو مرید کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں کہ شاید میں اپنے شیخ کی خاص نظر میں آگیا ہوں۔ حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جتنا مقام اور قرب بڑھتا ہے، اتنی ہی عاجزی، انکساری اور خوفِ خدا میں اضافہ ہونا چاہیے۔*