فجرمجلس ۲۹ جون ۲۶ء:اہل اللہ کے جنت سےافضل ہونے کی دلیل ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم 07:59) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکراسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ 08:01) استغفار۔۔۔ 12:33) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی ایک خاص نصیحت۔۔۔ 13:37) درودشریف۔۔۔ 15:54) اصلاح وتزکیہ کے کار ِنبوت ہونے پر قرآن سے استدلال: تو دوستو!جس طریقہ سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے دارالعلوم کھولنے کا شرف بخشا،اور جن اساتذۂ کرام کو تفسیر و حدیث پڑھانے کا شرف بخشا، اہلِ فتاویٰ نے دارالافتاء کھولا تو اس کے ساتھ ساتھ ایک شعبہ کی محنت اور کرلو کیونکہ وہ بھی کار ِنبوت ہے،صرف ولیوں والا کام نہیں ہے، نبیوں والا کام ہے۔ آج کل یہ بھی کہتے ہیں کہ صاحب!یہ خانقاہ وغیرہ اور تزکیۂ نفس کرانا یہ سب ولیوں والا کام ہے، نبیوں والا کام تو وہ ہے جو ہم لوگ کررہے ہیں۔ میں نے اس کا جواب دیا کہ کیا یُزَکِّیْھِمْ ولیوں والا کام ہے؟جہاں قرآن ِپاک میں حضور ﷺ کے منصب ِنبوت کے فرائض نازل ہورہے ہیں: ﴿ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْاعَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَیُزَکِّیْھِمْ ط اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ﴾ (سورۃ البقرۃ : آیۃ ۱۲۹) نمبر ایک: یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ اس آیت سے مکاتب ِ قرآن ِکریم کا ثبوت ملتا ہے،اور نمبر دو: وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ کے تحت دارالعلوم جوجاری ہیں،اور آخر میں وَ یُزَکِّیْھِمْ کیا ہے؟یہی تزکیۂ نفس ہی کا شعبہ تو ہے، جس سے انسان صاحب ِنسبت، صاحب ِتقویٰ، صاحب ِولایت ہوتا ہے۔ آپ ہی بتلائو کہ ایک شخص سو برس تک بخاری شریف پڑھاتا ہے اور ایک شخص سو برس تک تبلیغ میں رہتا ہے، ایک شخص سو برس تک قاری بناتا ہے اور ایک شخص سو برس تک جہاد کرتا ہے لیکن ان میں دِکھاوا ہےیا تکبر ہے تو اس حدیث کا کیا جواب دوگے کہ تکبر والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے: (( لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِهٖ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّنْ کِبْرٍ ۔ رواہ مسلم)) ( مشکٰوۃ المصابیح :(قدیمی) ؛ باب الغضب والکبر ؛ ص ۴۳۳) بلکہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے: 18:58) مستقل بالذات ہونے سے مستقل بد ذات ہوجاؤ گے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب تو ہم خود خلیفہ ہوگئے، اب ہمیں دوسرے شیخ کی کیا ضرورت ہے؟حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستقل بالذات مت رہو ورنہ مستقل بدذات ہوجائوگے۔ بزرگوں کا سایہ سر پر رکھنے سے کیوں گھبراتے ہو؟ ارے!اس میں تو مزہ ہی مزہ ہے۔ اگر بیوہ رہوگے تو روحانی روٹی، کپڑا اور مکان نہیں پائوگے لہٰذا مزہ اسی میں ہے کہكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ بنے رہو، عربی داں حضرات جانتے ہیں کہ كُوْنُوْا امر ہے اور امر بنتا ہے مضارع سے اور مضارع میں صفت ِ تجدد ِاستمراری ہے یا نہیں؟لہٰذا استمراراً اہل اللہ کے ساتھ رہو۔ 19:42) اہل اللہ کے جنت سے افضل ہونےکی دلیل: یہاں تک کہ جنت میں بھی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم دنیا میں استمراراً اللہ والوں کے ساتھ رہے، اب اس کا بدلہ لے لو: ﴿ فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ ﴾ (سورۃ الفجر: آیۃ ۲۹، ۳۰) جائو!پہلے میرے خاص بندوں سے ملو پھر جنت میں جاؤ۔ جنت کا درجہ ثانوی ہے، جنت اہل اللہ کا مکان ہے اور اہل اللہ اس کے مکین ہیں اور مکین افضل ہوتا ہے مکان سے لہٰذا پہلےجائو، اللہ والوں سے ملو۔اور اہل اﷲ کے ساتھ رہنے میں مزہ بھی بہت ہے، اتنا مزہ ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا اگر ذرا بھی ذوق ہو تو بغیر صحبت ِاہل اللہ کے بے چین ہوجائے گا ۔ 24:22) تینوں قل تین تین مرتبہ۔۔۔ 26:13) دس مرتبہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔۔۔ دورانیہ 26:22 | ||