عشاءمجلس ۲۹ جون ۲۶ء:دوسری شادی شریعت کی اجازت ، سنت نہیں ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم عدل، تقویٰ اور ذمہ داری کا تقاضا دوسری شادی کا مسئلہ آج کل بہت زیادہ زیرِ بحث ہے۔ بعض لوگ اس موضوع کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ گویا ایک سے زیادہ نکاح کرنا ہر شخص کے لیے سنت عمل ہے، حالانکہ قرآن و سنت میں ایسا کچھ نہیں ملا۔۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء میں فرمایا:۔ "اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں دو، تین یا چار سے نکاح کر لو، پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو۔" اس آیت میں تعددِ ازواج کی اجازت دی گئی ہے، نہ کہ ہر شخص کو اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ قرآن کریم نے اجازت کے ساتھ ایک نہایت اہم شرط بھی بیان فرمائی ہے، اور وہ عدل ہے۔ اگر انسان بیویوں کے درمیان انصاف نہ کر سکے تو گناہ گار ہوگا افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ صرف "دو، تین، چار" والا حصہ بیان کرتے ہیں، مگر "اگر عدل نہ کر سکو تو ایک ہی کافی ہے" کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ یہی اصل شرط ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی کسی بیوہ کی کفالت کرنا چاہتا ہے تو شریعت نے اس کے کئی راستے رکھے ہیں۔ نکاح ہی واحد ذریعہ نہیں۔ مزید یہ کہ نکاح کو چھپ کر کیوں کرتے ہیں؟ اکابر نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے حقوق ادا نہیں کر رہا، ان کی ضروریات پوری نہیں کر رہا، ان کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کر رہا،اور دوسری شادی کرلی۔ ایسی صورت میں ظلم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اور ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں سے ہوگا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس بات کو وہ اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتا، کیا وہ کسی دوسرے کی بیٹی کے لیے پسند کر سکتا ہے؟ اسلام دوسروں کے ساتھ بھی وہی حسنِ سلوک سکھاتا ہے جو انسان اپنے لیے چاہتا ہے۔ | ||