فجر مجلس یکم جولائی ۲۶ء:حافظ قرآن کو ولی اللہ بننا نہایت آسان ہے ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم 09:10) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکر اسم ِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ 09:11) استغفاراوردرودشریف۔۔۔ 15:20) حافظ ِقرآن کوولی اللہ بننا نہایت آسان ہے: اورجو حافظ ہوگیا وہ ولی اللہ ہوگیا بس اب اخلاق ِ ولایت یعنی اولیاء اللہ کے اخلاق کوسیکھنا اس کے ذمہ ہے۔ میرے مرشد شاہ عبدالغنیh فرماتے تھے کہ حافظ ہونے سے آدمی آدھا مولوی تو بن گیا،بس تھوڑا سا صَرف ونحو ضَرَبَ یَضْرِبُ سیکھ لے، تو وہ سارے قرآن کا ترجمہ سمجھ سکتا ہے لہٰذا حافظوں سے میں کہتا ہوں کہ آپ نے جہاں اتنی محنت کی ہے، تو عالم بننے کا دو تین سالہ مختصر کورس بھی کرلیں۔ جس کے پاس دس سال عالم کورس کا وقت نہیں ہے یا اس میں صلاحیت نہیں ہے تو وہ مختصر کورس کے ساتھ بھی مولوی بن سکتا ہے۔بہرحال!عالم بنو نہ بنو، اللہ والے ضروربنوکیونکہ ایک ایک حافظ با عمل خود تو جنت میں جائے گا ہی،اپنے خاندان کے دس ایسے افراد کو اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گا جن کے لئے دوزخ کا فیصلہ ہو چکا ہوگا 16:51) حافظ ِقرآن کو دس افراد کی شفاعت کا حق ملے گا: یہ مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے کہ حافظ ِقرآن کو قیامت کے دن گیارہ پاسپورٹ ملیں گے،ایک سے خود جنت میں جائے گا اور باقی دس سے جسے چاہے گا ساتھ لے جائے گا۔اب فیصلہ آپ خود کر لیں کہ وہ کس کی شفاعت کرے گا؟جو اس کی عزت اور احترام کریں گے ان کی یا جو اس کو حقیر سمجھیں گے؟ اس حدیث کی شرح میں محدث ِعظیم ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (( فَاسْتَظْهَرَهٗ اَیْ مَنْ حَفِظَ الْقُرْاٰنَ وَطَلَبَ مِنْهُ الْقُوَّةَ اَوِ الْمُعَاوَنَةَ فِي الدِّيْنِ)) (مرقاۃ المفاتیح:(رشیدیہ) ؛ کتاب فضائل القراٰن ؛ ج ۵ ص ۴۱) فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن ِپاک کو دل میں محفوظ کرلیا،حفظ کرلیا اور اس کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام جانا،جس کا نام تقویٰ ہے،اس کے لئے یہ انعام ہے۔اس لئے ان حفاظ کی قدر کرلیں،ایسا نہ ہو کہ ان کی تحقیر کرنے پر روز ِمحشر تم سے نظریں پھیر لیں اور شفاعت نہ کریں۔ ان بچوں کے والدین بھی قابل ِمبارک باد ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو قرآن ِپاک حفظ کرنے میں لگایا، وہ استاد اور وہ مدرسہ اور مہتمم بھی مبار ک باد کے لائق ہیں جہاں حفظ کرایا جاتا ہے حتیٰ کہ میں ان لوگوں کو بھی مبارک دیتا ہوں جو مدرسوں کی امداد کرتے ہیں خواہ مالی طور پر یا کسی بھی طرح،یہ سب اللہ تعالیٰ کے سرکاری کام میں لگے ہوئے ہیں۔ 19:10) اب ایک بات اور حدیث شریف کی عرض کر دوں کہ اے حفاظ ِکرام! تمہارے لئے حدیث شریف میں ایک عمل بتایا گیا ہے،حضورﷺ فرماتے ہیں: (( اَشْرَافُ اُمَّتِیْ حَمَلَۃُ الْقُرْاٰنِ وَاَصْحَابُ اللَّیْلِ ۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان)) (مشکٰوۃ المصابیح:(قدیمی) ؛ باب التحریض علی قیام اللیل ؛ ص ۱۱۰) میری اُمت کے بڑے لوگ وہ ہیں جو حامل ِقرآن ہیں اور راتوں کو تہجد پڑھنے والے ہیں۔اس حدیث کی دو فضیلتوں میں سےایک فضیلت تو آج آپ پا گئے،بس تہجد کا مسئلہ رہ گیاکیونکہ ملا علی قاریh فرماتے ہیں: ((مَنْ لَّایَقُوْمُ اللَّیْلَ لَیْسَ مِنَ الصَّالِحِیْنَ الْکَامِلِیْنَ )) (مرقاۃ المفاتیح:(رشیدیہ)؛باب التحریض علی قیام اللیل ؛ ج۳ ص ۲۷۵) جو راتوں کی نماز نہیں پڑھتا اس کا شمار کاملین میں نہیں ہے۔ آج کل راتوں کو اُٹھ کر تہجد پڑھنا مشکل ہو رہا ہے،میں آپ کو آسان تہجد کا مسئلہ بتاتا ہوں کہ فرض ِعشاء کے بعد دو سنت پڑھ کر آپ دو رکعت نفل تہجد کی نیت سے پڑھ لیں پھر وتر پڑھیں، حدیث ِپاک میں ہے کہ قیامت کے دن آپ تہجد گذاروں میں اُٹھائے جائیں گے۔ اس کی دلیل کیاہے؟فتاوی شامی جس کو پڑھے بغیر کوئی عالم، مفتی نہیں بن سکتا،اس میں کتاب الصلوٰۃمیں لکھا ہے: ((وَمَا کَانَ بَعْدَ صَلٰوۃِ الْعِشَاۗءِ فَہُوَ مِنَ اللَّیْلِ وَ اِنَّ ھٰذِہِ السُنَّۃَ تَحْصُلُ بِالتَّنَفُّلِ بَعْدَ صَلٰوۃِ الْعِشَاۗءِ قَبْلَ النَّوْمِ )) ( رد المحتار:(دارالفکر،بیروت) ؛ باب الوتر والنوافل ؛ ج ۲ ص ۲۴) جو شخص عشاء کے چار فرض اور دو سنت پڑھ کر وتر سے پہلے چند نفل پڑھ لے تو تہجد کی سنت اس کو حاصل ہوجائے گی۔ اور علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کم سے کم دو رکعات تہجد بھی سنت سے ثابت ہے لہٰذا سونے سے پہلے اگر دو رکعات پڑھ لیں تو کاملین کی فہرست میں شامل ہونے کے قابل ہوجائیں گے۔ 25:35) آسان اوابین کا نسخہ: اسی طرح آسان اوابین کا بھی نسخہ ہے۔بزرگوں نے اوابین چھ رکعات بھی پڑھی ہیں، وہ بھی آپ پڑھ سکتے ہیں مگر جو دوسنت کے بعد چار رکعات پڑھ لے گا وہ بھی اوابین میں شامل ہوجائے گا۔مفتی رشید احمد صاحب دامت برکاتہم نے احسن الفتاوی میں لکھ دیا ہے کہ جو تین فرض پڑھنے کے بعد دو سنت مؤکدہ پڑھ لے، اس کے بعد دو، دورکعات نفل اَور پڑھ لے تو وہ مؤکدہ سنت مل کر سب اوابین ہوجائے گی ۔ لو بھئی!کتنا آسان ہوگیا! ہم لوگ چھ رکعات سے ڈرتے ہیں۔بھئی!تین فرض دو سنت دو نفل سب ہی پڑھتے ہیں یا نہیں؟صرف دو رکعات کا اضافہ کر لیا تو سنت کی دو رکعات بھی اوابین میں شامل ہوجائیں گی،وہ مؤکدہ مل کر چھ رکعات ہوگئیں۔ اب آپ کہیں گے کہ اوابین کا کیا فائدہ ہے؟اس کا فائدہ بھی سن لو۔ 27:14) تینوں قل تین تین مرتبہ۔۔۔ 28:47) لاحول ولاقوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔ دورانیہ 28:24 | ||