مجلس۲۱ ستمبر   ۲۰۲۱     فجر :آداب معاشرت سے تعلیم   !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:41) رات لسانِ اختر حضرت مولانا شاہ عبدالمتین بن حسین صاحب دامت برکاتہم سے پینتالس منٹ بات ہوئی۔۔۔ ایک شعر کی شرح فرمائی۔۔۔سارے عالم میں یہی اختر کی ہے آہ و فغاں چند دن خون تمنا سے خدا مل جائے ہے

07:04) آداب معاشرت سے تعلیم ہوئی۔۔طالبعلموں سے متعلق پڑھا گیا۔۔

12:53) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا ٹرین کا واقعہ۔۔

18:47) ایک طالبعلم کو سونے پر تنبیہ۔۔

20:06) ایک مچھر کا مقدمہ: ایک مچھر نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی عدالت میں مقدمہ پیش کیا کہ اے اللہ! کے نبی مقدمہ سن لو اور فیصلہ کردو کہ جب مجھے بھوک لگتی ہے اور خون چوستا ہوں تو ذرا سے خون سے میرا پیٹ بھرجاتا ہے، لیکن ہَوا تیز آتی ہے اور مجھے اُڑا دیتی ہے۔ میرے پیر نہیں ٹکتے اور میں بھوکا رہ جاتا ہوں۔ تو میرا مقدمہ ہوا پر ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ فیصلہ کے مدعی اور مدعیٰ علیہ دونوں کا ہونا اور دونوں کے بیان کا سننا ضروری ہے۔ مَیں ہوا کو حکم دیتا ہوں کہ وہ بھی آجائے۔ آپ نے ہَوا کو حکم دیا۔ ہوا جو دھر دھر کرتی ہوئی تیز آئی تو مچھر صاحب کئی میل بھاگ گئے۔ ہَوا نے بھگادیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ بھئی مدعی صاحب کیوں بھاگ گئے۔ ہوا سے کہ اچھا تم واپس جائو۔ پھر مچھر کو بلاکر کہا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ مدعی تم ہو اور تم نے جس پر دعویٰ دائر کیا میں نے اس کو بلایا تو تم بھاگ گئے۔ مچھر نے کہا کہ یہی تو رونا ہے اس ظالم کے آتے ہی میں ٹھہرنہیں سکتا۔ولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب تم اللہ کا نام لوگے تو خودبخود گناہوں کے مچھر بھاگنے لگیں گے۔ جب دل میں اللہ کے ذکر سے نور آتا ہے تو اس کو اندھیروں سے مناسبت ہی ختم ہوجائے گی۔

23:16) مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڈھی رحمۃ اللہ علیہ (جن کو مولانا محمد ایوب صاحب نے بھی دیکھا ہے) بڑے عجیب اللہ والے تھے۔ آہ! علمائے ندوہ سے فرمایا کہ ؎ تنہا نہ چل سکو گے محبت کی راہ میں یعنی علم کے زور سے اللہ والا بننا چاہتے ہو تو ہر گز نہیں بن سکتے ہو ؎ تنہا نہ چل سکو گے محبت کی راہ میں میں چل رہا ہوں آپ مرے ساتھ آئیے

27:39) اسی لیے شیخ کا نام ہے رہبر، راستہ بتانے والا۔ تو مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر یاد آیا ؎ اُف کتنا ہے تاریک گنہگار کا عالم اُف کا لفظ بتاتا ہے کہ گناہ کا اندھیرا بہت سخت ہوتا ہے ؎ اُف کتنا ہے تاریک گنہگار کا عالم انوار سے معمور ہے ابرار کا عالم

28:30) نیک بندوں کی دنیا میں نور ہی نور ہے۔ شاہوں کے سروں میں تاجِ گراں سے درد سا اکثر رہتا ہے آہ! بادشاہت کیا چیز ہے؟ ذکر کی مجالس، اللہ کی محبت اصل چیز ہے ؎ شاہوں کے سروں میں تاجِ گراں سے درد سا اکثر رہتا ہے اور اہلِ صفا کے سینوں میں اِک نور کا دریا بہتا ہے

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries