مجلس۲۴    جون     ۲ ۲۰۲ءعشاء  :ظلمت معصیت  و انوار و طاعت !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:39) حسب معمول بیان سے پہلے تعلیم ہوئی۔۔۔

04:03) مالداری اُس کے لیے مضر نہیں جو اللہ تعالی سے ڈر کر رہتا ہے۔۔

05:08) عمل والا خاموش بھی ہے تو اُس کی خوشبو اڑتی ہے۔۔۔

07:41) انجام کے اعتبار سے ہم بھی مردہ لڑکی اور حسین لڑکا بھی مردہ ۔۔

08:03) ایک بدنظری کی وجہ سے نہ چین ہے نہ سکون ہے نہ اطمینان ہے۔۔

08:41) مثال کہ نابینا والشروم میں گیا تو اُس کو صفائی کا کیا معلوم اُس سانپ بچھو کا کیا پتا چلے گا ۔۔۔

09:53) اللہ تعالی نے ہر گناہ چھوڑنے کی ہمت دی ہے۔۔

11:30) پوچھے نہ کوئی اُف دلِ برباد کا عالَم جیسے کہ جہنم میں ہو جلاّد کا عالَم واللہ کہوں کیا دلِ آباد کا عالَم جنت کی بھی جنت ہے تری یاد کا عالَم

12:57) جب جان سے زیادہ مولی پیارے ہونگے تو پھر عمل آسان ہوگا پھر شیخ سے اصلاح کرائے گا۔۔

14:28) درد دل کا امام ہوتا ہے جذب جس کا امام ہوتا ہے

16:44) جسم شاہی آج گدڑی پوش ہے سلطان ابراہیم بن ادہم نے فوراً دوسرے دن ایک فقیر سے گدڑی مانگی ، آدھی رات کو اُٹھے ، شاہی لباس اتارا، گدڑی پہنی اور سلطنت بلخ کی حدود سے نکل گئے۔ جس وقت وہ شاہی لباس اُتار رہے تھے اور گدڑی پہن رہے تھے اس وقت زمین و آسمان میں کیا غلغلہ مچا ہوگا کہ آہ یہ بادشاہ اﷲ کے عشق و محبت میں آج شاہی لباس اتار رہا ہے جسم شاہی آج گدڑی پوش ہے جاہ شاہی فقر میں رو پوش ہے فقر کی لذت سے واقف ہوگئی جانِ سلطان جانِ عارف ہوگئی 17:35) ماں کے حقوق پر نصیحت۔۔

18:54) بیوی کی صحت کا بھی خیال نہیں رکھتے۔۔

20:03) آج بس ہر وقت مہنگائی کا نعرہ۔۔۔

20:41) حضرت سلطان ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ اور ان کے وزیر کاواقعہ:۔ جب حضرت سلطان ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ نے سلطنت ِبلخ چھوڑی تو دریا کے کنارے بیٹھے گدڑی سی رہے تھے کہ ان کا ایک وزیر اُدھر آنکلا۔اس نے دل میں سوچا کہ اس ملّانے سلطنت ِبلخ چھوڑدی، یہ تو بہت ہی بے وقوف ہے، سلطنت چھوڑ کر جنگل میں گدڑی سی رہا ہے۔اس کا یہ وسوسہ سلطان پراﷲ تعالیٰ نے منکشف کردیا۔کشف اختیاری چیزنہیں ہے،جب اﷲ چاہتا ہے کشف ہوتا ہے، جب نہیں چاہتا کچھ نہیں ہوتا۔حضرت نے اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور فرمایا اے مچھلیو! میری سوئی لائو۔ اب وزیر دیکھ رہا ہے کہ کیا یہ اب دریا پر حکومت کرے گا؟مولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ؎ صد ہزاراں ماہی اللّٰئے سوزنِ زر بر لب ہر ماہئے ایک لاکھ مچھلیاں نمودار ہوئیںاورہرمچھلی کےمنہ میں ایک ایک سوئی سونے کی تھی، سلطان ابراہیم نے ڈانٹ کر فرمایا کہ میری لوہے کی سوئی لائو،سونے کی سوئی استعمال کرنا اس اُمت کے لئے جائز نہیں ہے۔

24:44) یہ سلطان ابراہیم ابن ادھم راستہ سے گذر رہے ہیں کہ دیکھا کہ ایک شرابی نشہ میں بے ہوش پڑا ہے۔ یہ پہچان گئے کہ کسی رئیس کا بیٹا ہے اور مسلمان ہے۔ افسوس سے ایک آہ کھینچی کہ آہ جس زبان سے یہ کلمہ پڑھتا ہے اسی سے شراب بھی پیتا ہے، زیادہ پی گیا تھا، قے ہوگئی تھی، چہرہ پر مکھیاں بھنک رہی تھیں۔ حضرت سلطان ابراہم ابن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ اے خدا! اگرچہ یہ آپ کی نافرمانی کی حالت میں ہے لیکن اس کو آپ سے نسبت ہے کہ یہ آپ کا بندہ ہے۔اور مسلمان ہے لہٰذا انہوں نے اس کی قے کو صاف کیا، منہ دھویا، منہ پر ٹھنڈا پانی لگنے سے ہوش میں آگیا۔ اس نے کہا کہ حضرت! آپ تو تارکِ سلطنت بلخ ہیں، اتنے بڑے ولی اللہ یہاں کیسے آگئے۔

26:25) توبہ کی پہلی شرط گناہ سے الگ ہوجائے۔۔۔

27:55) سکینے کا نور اللہ تعالی دل کے اندر نازل کرتے ہیں ۔

31:21) اللہ والا وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آجائے۔۔۔

33:42) جہاں جاتے ہیں ہم تیرا فسانہ چھیڑ دیتے ہیں کوئی محفل ہو تو تیرا رنگِ محفل دیکھ لیتے ہیں

35:22) فرمایا کہ تم بے ہوش تھے، میں نے تمہارا چہرہ دھویا اور یہ تمہاری قے دھوئی ہے۔ وہ رونے لگا کہ آہ! میں تو سمجھتا تھا کہ اللہ والے گنہگاروں کو حقیر سمجھتے ہوں گے، مگر آج معلوم ہوا کہ اللہ والوں سے بڑھ کر گنہگاروں سے محبت کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس نے کہا کہ مجھے ابھی توبہ کرائیے۔ خدا کی قسم! اب کبھی شراب نہیں پیوں گا اور حضرت سلطان ابراہیم ابن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر اس نے توبہ کی۔ اسی وقت شاہ ابراہیم ادھم نے اس نوجوان کو توبہ کرائی توبہ کی چار شرطوں کے ساتھ توبہ کی۔۔۔۔

37:14) اسی وقت شاہ ابراہیم ادھم کو کشف ہوا کہ توبہ کرتے ہی اس شخص کو ولایت کا بہت بلند مقام عطا ہوگیا اور اپنے وقت کے تمام اولیاء سے آگے بڑھ گیا۔

41:27) ایک مایوس دوست کو نصیحت۔۔

42:45) آپ ﷺ کی شفاعت کا جمال۔۔۔ بے شک دین آسان ہے