مجلس۲۵    جون     ۲ ۲۰۲ءعصر :الہامات ربانی سے تعلیم  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

03:06) حضرت والا رحمہ اللہ کا علماء میں کیسا بیان ہوتا تھا۔۔۔

03:07) الہامات ربّانی:اصلی عقل مند کون لوگ ہیں؟ تو حضورﷺنے اس سوال کے جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ عقل مند وہ لوگ ہیں جو کار اور بنگلے والے ہیں یا سائنس پڑھ کر چاند پر جانے والے عقل مند ہیں، بلکہ فرمایااَکْثَرُهُمْ ذِكْرًا لِّلْمَوْتِ وَاسْتِعْدَادًا لِّلْمَوْتِ عقل مند وہ ہے جو موت کو زیادہ یاد کر تا ہے،جو زیادہ موت کی تیاری کر رہا ہے، آخرت میں یہاں کے نیک اعمال سے کرنسی جمع کر رہا ہے۔میدان ِمحشر میں بھی ایک منادی آواز دے گا:کہ عقل مند لوگ کہاں ہیں ؟شاید اس وقت بھی وکلاء کی بار ایسوسی ایشن اور سائنس دانوں اور پروفیسروں کی جماعت جن کو دانشوروں کی جماعت کہا جا تا ہے، شاید یہ لوگ اس وقت بھی یہی کہیں کہ ہم نے دنیا میں بھی بازی مار لی اور ملّانوں کو یہاں بھی ہرادیا،دیکھو!عقل مندوں کو پکارا جا رہا ہے اور دنیا میں ہم سب سے زیادہ عقل مند تھے،دنیا میں بھی کلبوں میں ننگے ناچتے رہے، یہاں بھی ہم ہی بازی لے گئے، یہاں بھی ہمیں آوازدی جا رہی ہے کہ عقل مند کہاں ہیں؟یہ ملّانے تو معاشرے پر ناسور تھے،ہمارے ناچ گانے، عیش کی محفلوں کو موت کی یاد دلا کر تلخ کیا کرتے تھے، ہم تو ان کو دنیا ہی میں دریا برد کرنا چاہتے تھے۔آہ!لیکن اس وقت ایک جماعت کھڑی ہوگی اور سوال کرےگی اَيُّ اُولِي الْاَلْبَابِ تُرِيْدُ عقل مندوں سے تمہاری کیا مراد ہے ؟اس وقت منادی دینے والا فرشتہ قرآن کی اس آیت کی تلاوت کرے گا اَلَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللهَ قِيَامًا وَّقُعُوْدًا۔۔۔الخ۔

وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے تھے جب کھڑے ہوتے تھے اور جب بیٹھے ہوتے تھے، اور اللہ ان کے دل میں اس قدر اُترگیا تھا،ان کی جانوں کو اللہ سے اس قدر شدید تعلق تھا کہ جب کروٹ بھی لیتے تھے تو اللہ کا نام لبوں پر آجاتا تھا۔ اس وقت عدالتوںکی بار ایسوسی ایشن اور بڑے بڑے سائنس دانوں کے چہروں پر ذلت چھاجائے گی، ہونٹ کاٹتے ہوئے ہاتھ مَلیں گے کہ آج معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ ذلیل اور احمق تو ہم ہی لوگ تھے کیونکہ ہم نے اللہ کو راضی نہیں کیا تھا۔

08:07) سب لو گ ایسے نہیں ہوتے ہر جگہ اللہ کے پیارے موجود ہوتے ہیں۔۔۔ایک لطیفے کی بات۔۔۔

10:53) اب خطبہ میں جو آیت میں نے تلاوت کی تھی، اس کی کچھ تفسیر عرض کرتا ہوں، اس آیت کا پس ِمنظریہ ہے کہ ایک مرتبہ سرور ِعالمﷺ کی خدمت میں ایک مشرک عاص بن وائل آیا، اس نے ایک بوسیدہ ہڈی آپﷺ کو دکھائی،اتنی پرانی ہڈی تھی کہ اس نے ہاتھ سے مَل کر پھونک مار کر اُڑا دیا اور کہا: ﴿مَنْ يُّحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيْمٌ۝﴾ (سورۃ یٰسۗ : آیۃ ۷۸) اس ہڈی کو قیامت کے دن دوبارہ کون زندہ کرے گا؟ قیامت کیسے قائم ہوگی؟ جبکہ یہ اتنی بوسیدہ ہوگئی ہے کہ میں نے پھونک مار کر اس کو اُڑا دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿ اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ﴾ (سورۃ یٰس : آیۃ ۷۷) کیا آدمی کو یہ نہیں معلوم کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا ہے۔

اس سوال ہی کے اندر حق تعالیٰ شانہٗ نے دوبارہ پیدائش اور اثباتِ قیامت کا نقشہ کھڑا کردیا ہے۔یعنی اللہ نے اس سوال سے یہ بتادیا کہ اے انسان! تیرا یہی نشرِ اوّل تیرے نشرِثانی کے لئے نمونہ اور دلیل ہے جسے ہر وقت تُو اپنے اندر دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے فرمایا کہ آپ اس مشرک کو جواب دیجئے کہ یہ جو پوچھتا ہے کہ میں اس کو دوبارہ کیسے پیدا کروں گا: ﴿ قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ﴾ (سورۃ یٰس : آیۃ ۷۹) جس نے پہلی دفعہ اس کو پیدا کیا وہی اس کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔

13:56) میرے شیخ شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ نے علم کا سمندر رکھ دیا ہے کہ جس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کیا، وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔ جب تمہاری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی، تم ہوائوں میں اُڑ جائوگے، تمہیں اگرجلاکر راکھ کردیا جائے جیسے ہندوئوں کے یہاں ہوتا ہے، اور اگر کبھی پانی میں جنازہ اُتار دیا جائے جسے مچھلیاں کھالیں تو وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ وہاں بھی میں اپنی مخلوق کو اپنے دائرۂ علم میں رکھتا ہوں،تم میرے احاطۂ علم سے باہر نہیں جاسکتے

لہٰذا حضرت نے فرمایا کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا، وہی دوبارہ پیدا کرے گا،اور پہلی دفعہ کیسے پیدا کیا؟اس کو عرض کرتا ہوں: ﴿ اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ﴾ (سورۃ یٰس: آیۃ ۷۷) کیا انسان غور نہیں کرتا کہ میں نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا، باپ کی منی سے پیدا کیا اور باپ کی منی کہاں تھی؟کیسے پیدا ہوئی؟ غذا سے۔ غذا سے خون بنا، خون سے منی بنی اور منی سے اللہ نے بندوں کو پیدا کیا۔ تو یہ غذائیں کہاں تھیں؟ ماں باپ نے زندگی بھر جو غذائیں کھائیں، کیا یہ سب ایک جگہ جمع تھیں؟

15:33) حضرت نےفرمایا کہ ہم دنیا میں جہاں جہاں بکھرے ہوئے تھے، آفاق ِعالَم میں ہمارے اجزائے تخلیقیہ، ترکیبیہ، تعمیریہ یعنی ہماری پیدائش کے ذرّات جہاں جہاں چھپے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے ماں باپ تک پہنچایا،اگر ہم آسٹریلیا کی گندم میں چھپے تھے تو حکومت ِپاکستان کے خیال میں آئے گا کہ اس گندم کو منگائو،وہ گندم بازار میں آئےگی تو ماں باپ اس کو خریدیں گے اور کھائیں گے،اگر ہم مدینہ شریف کی کھجوروں میں چھپے تھے تو ہمارے ماں باپ کو اللہ حج نصیب کرے گا،یا کوئی حاجی ان کو وہاں کی کھجور ہدیہ کرے گا،وہ مدینہ پاک کی کھجور کھائیں گے،اس کھجور میں ہمارا جو ذرّہ چھپا ہوا تھا، وہ ان کےخون میں آجائے گا،اور اگر ہم کوئٹہ کی بکریوں میں تھے تو کوئٹہ کی بکریاں یہاں آئیں گی،اوراگر ہم گھاس کے ان ذرّات میں تھےجویہ بکریاں پہاڑوں پرچَر رہی تھیںتو بکریوں کو حکم ہوگا کہ اس گھاس کو چَرلے، مجھے ایک بندے کو پیدا کرنا ہے، اس گھاس میں میرے ایک بندے کا ذرّئہ تخلیق ہے، پھر اس بکری کو اللہ کراچی بھیجے گا،پھر اس کے محلہ کا قصائی بکری کو خرید کر لائے گا اور اس کا گوشت ہمارے ماں باپ تک پہنچے گا۔

17:38) ٹنڈو آدم کی با ت کے دودھ کے ٹرک کراچی کی طرف آرہے تھے دودھ کہاں سے آیا اور کہاں پہنچا۔۔۔؟

19:24) اسی طرح اگرقندھار کے اناروں میں ہماری پیدائش کا کوئی ذرّہ ہے تو انار قندھار سےدرآمد ہوگا اور وہ انارشہرکی سبزی منڈی پہنچے گا،پھر اللہ ماں باپ کے دل میں ڈالے گا کہ وہ جاکر اس انار کو کھائیں گے، اس سے ان کے خون میں وہ ذرّہ آجائے گا،اور اگر کشمیر کے سیبوں میں ہمارا کوئی ذرّہ چھپا ہے تو کشمیرکے سیب یہاں آئیں گے، اگر دریائے سندھ کے جہلم کے پاس کسی مٹی کےذرّے میں ہم چھپے ہوں گے تو دریائے جہلم وہاں سے اپنے ساتھ وہ ذرّہ دریائے سندھ میں لائے گا، جہاں سے وہ ذرّہ کراچی آکر اور فلٹر ہوکر ہمارے والدین کے معدے میں داخل ہوگا۔

21:12) غرض یہ کہ شاہ عبدالغنی صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم کا سمندر رکھ دیا ہے،جو ذرّہ ہمارا آسٹریلیا کی گندم کی صورت میں چھپا تھا، جو ذرّہ ہماراقندھار و کابل کے اناروں میں چھپا تھا، جو ذرّہ کوئٹہ کے پہاڑوں کی گھاس میں چھپا ہوا تھا تو وہ گھاس بکریاں چَر کر یہاں آئیں گی،اسی طرح مدینہ شریف کی کھجوروں میں ہمارا جو ذرّہ تھا ہمارے والدین یا تو خود جائیں گے یا کوئی حاجی لائے گا اور وہ کھجور ان کو کھلائے گا۔ غرض یہ کہ پیدا ہونے سے پہلے بھی ہم سارے عالَم میں بکھرے ہوئے تھے

22:46) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں گویا یہ فرمایا کہ اے ظالم،مشرک! اے نالائق! تُو سمجھتا ہے کہ تُو مرنے کےبعد بکھر جائے گا، پھر اللہ تجھے دوبارہ کیسے جمع کرے گا؟ تو سن لے! پہلے بھی تو تُو بکھرا ہوا تھا، اقصائےعالَم میں، آفاق ِعالَم میں، اطراف ِعالَم میں،اکناف ِعالَم میں، غرض تُو سارے عالَم میں بکھرا ہوا تھا، میں نے تجھے جمع کرکے نطفہ کی شکل میں ماں کے پیٹ میں پہنچایا، پھر نطفہ سے انسان بنایا:پھر تُو میرا کیسا دشمن بنا ہواہے جبکہ میں نے تجھے پیدا کیا۔اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے گویا اس مشرک کو یہ جواب دیا کہ ایک دفعہ تُو سارے عالَم میں بکھرا ہوا تھا تو خدا نے تجھے جمع کرکے ماں کے پیٹ میں رکھا، تو وہ بھی تیری قبر تھا،پھر ماں کے پیٹ کی قبر سے تجھے نو مہینے بعد نکالا تو اب جو تُو دنیاوی قبرستانوں میں دفن ہورہا ہے تو اس قبر سے بھی تجھے نکالوں گااور سارے عالَم سے تیرے ذرّات کو جمع کر دوں گا۔ 23:52) لہذا موت کو یاد کیا کرو،جو آج گنہگار ہے تو موت کی یاد اسے نیک بنادے گی،موت کی یاد ایسی چیز ہے جو گنہگار مسلمان سے گناہ کی عادت چھڑا دیتی ہے۔