مجلس۲۶    جون     ۲ ۲۰۲ء  :سیرت و تواضع      !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

11:00) بیان کے آغاز میں تعلیم ہوئی اور اشعار پڑھے گئے۔۔

15:30) تعلیم و تربیت میں آپ ﷺ کی شانِ شفقت کا جمال۔۔

16:45) مسجدِ نبوی میں ایک دیہاتی آکر پیشاب کرنے لگا۔۔۔

17:00) سیرت کا مضمون پڑھنا بھی آسان دوسروں کو بتانا بھی آسان لیکن اصل خود عمل کرنا ہے۔۔

17:45) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں درج ذیل باتوں کی تعلیم ہے جو ابھی بیان ہوئیں۔۔ ۱۔جاہل کے ساتھ نرمی سے بات کرنی چاہیے اور بغیت ڈانٹ ڈپٹ کے محبت کے ساتھ آداب سکھانے چاہیے۔۔ ۲۔معلوم ہوا جب ایک چیز میں زیادہ نقصان ہو اور ایک میں کم تو کم نقصان والی چیز کو برداشت کرلینا چاہیے

19:00) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت کہ ایک شخص آیا آپ ﷺ کے پاس اور کہا کہ میں ہلاک ہوگیا فرمایا کیا ہوا تو کہا روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی سے کچھ معاملات کر بیٹھا جو منع ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی غلام ہے جس کو تم آزاد کرسکو اُس نے کہا نہیں !ْپھر فرمایا کیا اس بات کی استطاعت ہے کہ دو ماہ متواتر روزے رکھ سکو کہا نہیں !کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے کہا ں نہیں ! روای کہتے ہیں آپ ﷺ نے کچھ دیر توقف فرمایا اور پھر فرمایا جس مسئلہ پوچھا تھا وہ کہاں ہے فرمایا یہ کھجورے لے جاو اور صدقہ کردو۔۔

20:27) آزاد بھی نہیں کرسکتا،روزے بھی نہیں رکھ سکتا،ساٹھ مسکینوں کو کھانا بھی نہیں کھلا سکتا کھجور کا تھال آپ ﷺ نے اس کو دیا اور فرمایا جاو اس کو صدقہ کرو تو کہنے لگا یارسول اللہ ! مجھ سے زیادہ مستحق کون ہے ۔۔

21:27) بھائی فرق ہے ایک نئے آدمی کو تڑی لگانا کہ ایک بار غلطی ہوئی تو چھوڑدیا لیکن ایک بار بار بے اصولی کررہا ہے ۔۔ تو کہنے لگا خدا کی قسم بستی میں کوئی بھی میرے اور میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔۔۔

23:50) ایک روایت بڑھیا سے متعلق جو خط نہیں دے رہی تھی جسمیں آپ ﷺ کے جنگی راز فاش کیے گئے تھے۔۔

25:50) آپ ﷺ کی خادموں کی غلطی معاف کرنے کا جمال۔۔

30:23) تواضع پر آج دو بیان ہوئے اب تھوڑا سا رہ گیا تو یہ بیان مکمل ہوجائے گا۔۔ اکابر کو اس کا قصد نہیں ہوتا تھا کہ اپنے اوپر سے طعن کو ہٹا دیں ۔۔

34:54) رشک اولیاء اور حیات اختر :۔ اورنماز ِ جمعہ کا قصہ حضرت والا رحمہ اللہ کا اسکول میں گیتا کی بجائے درود شریف پڑھنا حضرت والا نےارشاد فرمایا کہ قادی پور تحصیل جہاں ہم مڈل پڑھتے تھے تو شہر سے باہر ایک مسجد تھی، وہ مسجد جنگل میں کہلاتی تھی وہاں جنات وغیرہ بھی خوب لوگوں کو ڈراتے تھے۔ اسی مسجد میں مَیں اکثر نماز پڑھتا تھا،وہاں کبھی بھیڑیا وغیرہ بھی نکلتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ بہت پریشان ہوتی تھیں کہ اختر رات کو اُٹھ کر بھاگ جاتا ہے۔ لہٰذا پھر وہ دروازے کو تالا لگانے لگیں، کہنے لگیں اتنی رات کو مت جائو، کہیںبھیڑیا حملہ کردے لیکن چونکہ میری طبیعت میں جنگل، سناٹا، آسمان، ان سے اس وقت سے ہی مناسبت تھی۔ آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو مجھے کوئی ذات کھینچتی تھی کہ اس کو کون بنانے والا ہے؟ اس قسم کے خیالات آتے تھے کہ کون بنانے والا ہے آسمان و زمین، سورج و چاند کو۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ میرا کوئی کمال نہیں ہے، سب اللہ تعالیٰ کا جذب ہے ورنہ اتنی کم عمری میں کون مجھے سمجھانے والا تھا۔پھر جس کا خاندان بھی علم والا نہ ہو یعنی ہمارے خاندان میں کوئی بھی عالم مولوی نہیں تھا،اس وقت سارا ماحول فسق و فجور کا تھا، سب یہی چاہتے تھے کہ جیسا گردو پیش میں ہو رہا ہے ویسے ہی رہیں۔ہم تین سو طالب علموں میں صرف تین مسلمان تھے باقی سب ہندو تھے لیکن جب ہیڈ ماسٹر کہتا تھا پڑھو،صبح صبح اسکول شروع ہوتا تو وہ گیتا پڑھاتا تھا کہ کہو

36:36) اے پر بھواآنند داتا،گیان(سمجھ،عقل) ہم کو دیجئے تو میں کہتا تھا اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ، ہاتھ بندھے ہوئے میں درود پڑھتا تھا، میں نے سب مسلمان لڑکوں سے بھی کہا کہ خبردار!جو یہ کہے وہ مت پڑھنا، تم لوگ درود پڑھا کرو، منہ ہلاتے رہو، وہ ظالم کیا سمجھے گا؟وہ سمجھے گا اس کی کہی ہوئی بات پڑھ رہے ہیں۔ میں نے سب لڑکوں کوفرنٹ کردیا ہیڈ ماسٹر سے۔میں نے کہا یہ کتنا ہی کہےتم لوگ اے پربھوا مت کرو، سیدھے سیدھے درود شریف پڑھو، سب نے میری بات مان لی۔اچھا! پھر جمعہ کے لئے ہم نے ہیڈ ماسٹر سے چھٹی منظور کروائی،اس نے کہا کہ تم صرف تین لڑکے ہو،تمہارےلئے ہم کیوں چھٹی کریں؟ تمہاری اکثریت نہیں ہے،اکثریت تو ہندوئوں کی ہے۔میں نے کہا کہ جمعہ کے لئے تو آپ کو چھٹی دینی ہوگی، اگر نہیں دیں گے تو ہم بغیر چھٹی چلے جائیں گے، لہٰذا مجبوراً اس کو چھٹی دینی پڑی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے الحمدللہ یہ شوق عطا فرمایا تھا۔

41:05) مخلوق کی محتاجی سے بچنے کا ایک وظیفہ ارشاد فرمایا کہ کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی کے محتاج نہ ہوں یا مخلوق کا محتاج ہونا پسند کرتے ہیں؟کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اتنا دے کہ ہم دوسروں کو بھی کھلائیں یا جتنا ملے سب سمیٹ کر بکس میں رکھتے رہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو آج ڈھالکانگر میں دین کا یہ جو کام ہورہا ہے یہ نہ ہوتا،کیا میں پاکستان سے یہاں مفت میں آجا تا ہوں؟کیا جہاز کے ٹکٹ کے لئے رقم خرچ نہ ہوئی ہوگی؟آپ لوگوں کے جنہوں نے مجھے یہاں بلایا، ان کے پیسے لگے ہیں،زر ِکثیر صَرف ہوتا ہے۔ تو ہر انسان کی فطرت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میں کسی کا محتاج نہ رہوں اور یہ بھی چاہتا ہے کہ خدا ہمیں اتنا دے کہ دوسروں کو بھی کھلائیں۔ تو اگر آپ لوگ یہ چاہتے ہیں تو آپ(اپنے شیخ سے پوچھ کر)یہ وظیفہ پڑھا کیجئے:یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ آپ کہیں گے کہ ’’یا ذاالجلال والاکرام‘‘ پڑھنے سے رزق میں اضافہ کا کیا تعلق ہے؟ اب اس کی تفسیر سن لیں ان شاء اللہ! آپ کو مزہ آجائے گا۔

علامہ آلوسیh نے تفسیر روح المعانی میںاس کی تفسیر کی ہے: ((صَاحِبُ الْاِسْتِغْنَاءِ الْمُطْلَقِ وَ صَاحِبُ الْفَیْضِ الْعَامِ)) ’’یا ذاالجلال‘‘ معنی اللہ سارے عالم سے بے نیاز ہے، اسے پڑھنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ اپنے علاوہ آپ کو کسی مخلوق کا محتاج نہیںہونےدے گا۔اور ’’والاکرام‘‘ کی تفسیر ہے جس کی بخشش عام ہو کیونکہ استغناء میں خطرہ تھا کہ بندوں کو یہ وسوسہ آسکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بے نیاز ہیں تو شاید ہمارا خیال نہ کریں گے۔ جیسے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے بے نیاز ہیں، بہت مستغنی مزاج ہیں، کسی کا کام نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے اس اشکال کو دور کردیا کہ میں صاحب الاستغناء المطلق تو ہوں مگر تمہارےدکھ درد سے مستغنی نہیں ہوں، میں صاحب الفیض العام بھی ہوں، میرا فیض عام ہے۔اس نام کی برکت سے اﷲ ہم کو آپ کو اتنا دے گا کہ ہم دوسروں کو بھی دیں گے۔

45:50) ور اگر اس کو پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک کر اپنے چہرے پر مَل لیجیے تو آپ کے چہرے پر ایک عظمت، ایک عزت اور ایک جلال رہے گا، دوسرا آپ کو ستا نہیں سکے گا، کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ آپ سے آنکھ ملائے، اللہ آپ کے چہرے پر اپنی جلالت ِشان ڈال دے گا۔ ((اَلِظُّوْا بِیَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ)) حضورﷺ کا حکم ہے کہ اے میری اُمت کے لوگو!یا ذاالجلال والاکرام پڑھا کرو۔ یہ نبیﷺ کا بتایا ہوا وظیفہ ہے۔ کیوں جناب! کیا نبی کا وظیفہ پیروں کے وظیفہ سے اعلیٰ نہیں ہوتا؟