مجلس   ۲۵  نومبر ۲ ۲۰۲ءعشاء     :دین کے سب شعبے برحق ہیں   !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:47) حسبِ معمول مظاہر حق سے تعلیم ہوئی۔۔۔

01:48) مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعار پڑھے۔۔۔ جو وسعت میں ارض و سماکے نہ آئے کرم ہے مرے دل کو مسکن بنائے اگر صاحبِ عرش جلوہ دکھائے تو سینے میں پھر کون دل اپناپائے میں ان کی خلش میں ہوں اب محوِلذت جوچاہے وہ اب میری محفل میں آئے وہ غم جس پہ قربان ہوں دونوں عالم وہی چاہتا ہوں وہی ہاتھ آئے نہ چھیڑو کسی غم کے مارے ہوئے کو دکھے دل کو ناحق کوئی کیوں ستائے ہو آزاد فوراً غمِ دوجہاں سے ترا ذرّہ ٔ غم اگر ہاتھ آئے مرا وقت کیا آگیا واپسی کا یہ کس نے تجلی کے پردے اٹھائے رہِ عشق میں خاک بن کر کے آئو وہ محروم ہے جو یہاں سر اٹھائے جسے چاہیے ملک عشقِ حقیقی کسی اہل دل سے وہ دل لگائے عجب کیا کہ آئے کبھی وقت ایسا کرم ان کو اک دن مرے پاس لائے یہ گل اوربلبل کے قصے نہیں ہیں مری آہ دل ہے یقیں جس کو آئے تپِ عشق سے جب تجھے آگہی تھی مری رگ میں کیوں تونے نشتر لگائے ترے غم کی طالب ہے پروانہ فطرت مگس کومگر یہ کہاں راس آئے عجب درد میں ان کے لذت ہے اختر

10:03) ملاقاتِ دوستاں۔۔۔سفر کی کچھ کارگزاری۔۔۔مکہ شریف میں ایک نئے مسلمان کا تذکرہ۔۔۔

16:05) جتنے دین کے شعبے ہیں ان کی قبولیت کا ذریعہ اصلاح اور تزکیہ ہے۔۔۔

18:18) دین کے سب شعبے برحق ہیں۔۔۔

22:13) ایک گناہ آسمان سے ہمیں زمین پر گِرا دیتا ہے۔۔۔

25:46) دین کا کون سا شعبہ فرض ہے اس بارے میں مفتیانِ کرام سے پوچھنا چاہیے۔۔۔

28:08) حدودا للہ سے متعلق مفتی انوارالحق صاحب نے قرآن ِ پاک کی آیت بمع ترجمہ اور تفسیر کے سنائی۔۔۔

30:53) سفر سے واپسی پر ایک حادثہ پیش آیا اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی عطا کی۔۔۔اس وقت تینوں مشائخ کا ذکر ہورہا تھا اس سے متعلق۔۔۔

38:46) اصلاح خود بخود نہیں ہوتی۔۔۔

40:14) دین کے صرف کسی ایک شعبے کو فرض قرار دینا اور دوسرے شعبوں پر اعتراض کرنا۔۔۔مفتی صاحبان سے کیوں نہیں پوچھتے۔۔۔

42:31) عاملوں سے مانگنا۔۔۔حالانکہ خود روزانہ پانچ وقت نماز میں پڑھتے ہیں اياك نعبد واياك نستعين ۔

44:36) دین کے کسی شعبے پر اعتراض مت کرو۔۔۔

45:34) صراطِ مستقیم منعم علیہم کا راستہ ہے: ’’اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ اے اللہ ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں صراطِ مستقیم کیا ہے۔ اس کا بدل ’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ‘‘ ہے یعنی اے اللہ جن پر آپ نے انعام نازل کیا جو آپ کے پیارے بندے ہیں۔ ان کا راستہ دکھا یہ اللہ تعالیٰ نازل فرمارہے ہیں کہ سیدھے راستہ کا خواب مت دیکھنا خالی کتابوں، سیدھے راستہ کا خواب مت دیکھنا اسبابِ دنیویہ سے، سیدھا راستہ ان کا ہے جن کو میں نے انعام سے نوازا ہے، جو میرے مقرّب بندے ہیں۔

46:50) نئے مسلم عبدالرحمن کا واقعہ کہ کس طرح بدلے اور اللہ سے کیا دُعا مانگی۔۔۔

48:45) انعام یافتہ بندے کون ہیں؟ اب انعام کیا ہے؟ کلفٹن کے بنگلے؟ نہیں! کباب اور بریانیاں؟ نہیں! پھر انعام کیا ہے؟ ’’اُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ۔‘‘ میں نے جن پر انعام نازل کیا وہ انعام کیا ہے؟ ’’مِنَ النَّبِیّٖنَ ‘‘ جن کو نبوت عطا کی۔ ’’وَالصِّدِّیْقِیْنَ‘‘ جن کو اپنا صدیق بنایا۔ ’’وَالشُّھَدَآئِ‘‘ جن کو جامِ شہادت نوش کرنے کا شرف بخشا۔ ’’وَالصّٰلِحِیْنَ‘‘ جن کو نیک اور صالح بنایا، تو نبوت، صدیقیت، شہادت اور صالحیت چار نعمتیں جن کو حاصل ہیں سیدھے راستہ ان کا راستہ مراد ہے۔

53:04) ائیر پورٹ پر کیا حالت تھی۔۔۔ایک صاحب بیٹے کے لیے دُعا کرانے آئے تھے وجہ کیا ہے رات دن موبائل۔۔۔

55:19) مستند رستے وہی مانے گئے جن سے ہوکر تیرے دیوانے گئے ان کا راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے جو ان کی راہ پر نہ چلے گا اللہ تک نہیں پہنچ سکتا، واپس کردیا جائے گا ؎ لوٹ آئے جتنے فرزانے گئے تابہ منزل صرف دیوانے گئے صراطِ مستقیم کے لیے منعم علیہم بندوں کی رفاقت شرط ہے : ان سے تعلق قائم کرہ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بہترین رفیق ہیں۔ جملہ خبر یہ صورت امر میں ہے یعنی ہے تو خبر مگر اندر انشاء پوشیدہ ہے یعنی جب تم ان اللہ والوں کو، ان انعام یافتہ لوگوں کو اپنا رفیق، اپنا ساتھی بنائو گے تب جاکر تم کو صراطِ مستقیم ملے گی اور تب خدا ملے گا لہٰذا ان کو اپنا رفیق بنالو۔

56:12) شیخ کے جانے کے بعد خانقا ہ کو آباد کرنا۔۔۔مقصود کیا ہے ؟اللہ کی ذات ہے نا تو پھر؟۔۔۔شیخ کو مقصود بنایا اور اللہ کو مقصود نہیں بنایا۔۔۔

58:17) پہلی مرتبہ مدینہ شریف میں بارش کو دیکھا اور سبز گنبد کا منظر بس کیا بتاؤں؟کچھ بتا نہیں سکتا۔۔۔آہ اتنا خوبصورت منظر۔۔۔

01:01:21) اپنی زندگی کو سنوارنے کی فکر کریں اور توبہ کریں میں بھی توبہ کرتا ہوں۔۔۔

01:01:52) ’’وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا‘‘ حسین رفاقت اختیار کرنا۔ حسین رفاقت جب ہوتی ہے۔ جب اتباع بھی ہو۔ اپنے رفیق و مربی کے مشوروں پر عمل بھی کیا جائے۔ وہ شخص حُسنِ رفاقت سے محروم ہے جو شیخ کے بتائے ہوئے طریقوں سے الگ نفس کے کہنے پر عمل کرتا ہے۔

01:03:28) کتنے بھی گناہ ہوجائیں اللہ سے معافی مانگتے رہیں۔۔۔

01:04:00) اللہ کے عاشق معافی مانگتے رہتے ہیں۔۔۔توبہ سے متعلق حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا ملفوظ۔۔۔

01:08:49) دُعا کی پرچیاں۔۔

دورانیہ 1:12:01