فجر   مجلس ۷۔ اپریل ۳ ۲۰۲ء     :دوزخ سے بچنے کا راستہ !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

02:40) اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے آپ ﷺ کا نمونہ بھیج دیا نہ کم چاہیے نہ زیادہ۔۔۔

02:41) مختصر نصیحت کہ جس بات سے اللہ تعالیٰ خو ش ہوں وہ کر لو اور جس سے ناراض ہوں وہ چھوڑ دو جس بات سے آپﷺ خوش ہوں وہ کرلو اور جس سے ناراض ہوں وہ چھوڑ دو۔۔۔

03:22) چھ سیکنڈ کی نصیحت کہ أملك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك: آپﷺ نے فرمایا کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھ اور تیرا گھر تیرے لیے وسیع ہو جائے اور اپنی خطائوں پر روتے رہو۔

04:39) اعتراض کرنے سے پکڑ ہوتی ہے۔۔۔چشمہ ہمیشہ اچھے گمان کا ہونا چاہیے بدگمانی والا چشمہ چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔

10:05) دوزخ سے بچنے کا راستہ۔۔۔ أملك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك: آپﷺ نے فرمایا کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھ اور تیرا گھر تیرے لیے وسیع ہو جائے اور اپنی خطائوں پر روتے رہو۔

11:54) رمضان شریف میں چار کام کر لیں۔۔۔(۱) استغفار کی کثرت(۲)کلمہ طیّبہ کی کثرت(۳)جنت کو طلب کرنا (۴)جہنم سے پناہ مانگنا۔۔۔

12:41) ذکر کلمہ طیّبہ۔۔۔

19:16) ذکر سے متعلق مضمون۔۔۔مومن کا ذکر اﷲ، وکالۃً تما م کائنات کا ذکر ہے: تمام کائنات کی خدمات انسان کی تربیت میں مصرو ف ہیں۔ پس جب مومن اﷲ کہتا ہے تو تمام کائنات کی طرف سے بھی وکالۃً اﷲ کہتا ہے اور جب لا الٰہ الا اللہ کہتا ہے تو گویاتمام کائنات کی طرف سے کہتا ہے کہ کیونکہ اس کی تربیت میں زمین و آ سمان، چاند و سورج، پانی اور ہوا، سمندر اور پہاڑ ،غرض پوری کائنات کی خدمات شامل ہیں ؎ آب و باد و مہ و خورشید و فلک در کارند تا تو نانے بکف آری و بہ غفلت نخوری (پانی اور ہوا، خور شید و قمر، زمین و آ سمان، سب تیری خدمت میں مصروف ہیں تاکہ روٹی کا لقمہ جب تو ہاتھ میں لے تو اسے غفلت سے نہ کھائے) پس جب مومن نے اﷲ کہا تو ارض و فلک نے، شمس و قمر نے، بر و بحر نے ، شجر و حجر نے، چرند و پرند، صحرا و سمندر، سیارہ و نجوم ،سب نے اﷲ کہا کیونکہ اس کی پرو ر ش میں من حیث ِنوع ِانسانی سب شریک ہیں۔ اس سے صو فیاء کے اس مراقبہ کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب اﷲ کہو تو تصور کر و کہ میرے ہر بُن ِ مو سے اور کائنات کے ذرہ ذرہ سے اﷲ نکلا، انسان نے جب اﷲ کہا تو تمام کائنات نے اﷲ کہا کیونکہ اس کی طاقت میں تمام کائنات کی خدمات شامل ہیں ۔ نیز اس حدیث شریف کا مطلب بھی واضح ہو جا تا ہے کہ جب تک روئے زمین پر ایک بھی اﷲ اﷲ کہنے والا ہو گا قیامت نہ آئے گی کیونکہ اس کی وکالت سے تمام کائنات ذاکر ہے اور جب کوئی اﷲ کہنے والا نہ رہا تو اب تمام کائنات گو یا غیر ذاکر ہو گئی اور مقصد ِکائنات باقی نہ رہا ۔ جب ذکر ِجان ِحیات جان ِکائنات نہ رہا تو کائنات کی مو ت لا زمی ہوگئی، اس لئے سب درہم برہم اور فنا کر دی جائے گی۔

28:19) آج ہم اکابرِ ثلالثہ دیوبند کے نقشِ قدم پر کیوں نہیں چلتے؟۔۔۔

29:29) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات: اجتماعی ذکر کا ایک فائدا۔۔۔

30:19) ذکر اسمِ ذات جل جلالہ۔۔۔

41:38) ساؤتھ افریقہ میں حضرت والا رحمہ اللہ کے ساتھ ایک سفر کی کارگزاری۔۔۔

51:34) کچھ بزرگوں کی باتیں۔۔۔

53:57) دُعائیہ پرچیاں۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries