فجر مجلس ۱۳۔ اپریل ۳ ۲۰۲ء     :اعتکاف کی فضیلت !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

02:25) اعتکاف سے متعلق ایک ضروری بات کے خواتین بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں۔۔۔

02:26) اعتکاف سے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت۔۔۔

03:01) حدیث شریف کہ آپ ﷺ تما م اوقات میں سب سے زیادہ سخاوت فرمانے والے تھے اور رمضان المبارک میں تو اور زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔۔۔

04:18) اصلاح کیسے ہوگی؟۔۔۔اخلاقِ رزیلہ جاتے رہیں اور اخلاقِ حمیدہ پیدا ہوجائیں۔۔۔

05:16) کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے اور توبہ کی چار شرائط ہیں۔۔۔

11:31) دھوکا بازی اور جھوٹ بولنا۔۔۔حضرت جیون شاہ رحمہ اللہ کی بات کہ مسلمان کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔۔۔

12:43) چار گواہ۔۔۔انسان سے زندگی میں جو گناہ ہوتے ہیں، اس پر چار گواہ بن جاتے ہیں اور چاروں گواہوں کو قرآن کی نص قطعی سے ثابت کردیا گیا۔ (۱)یومئذ تحدث اخبارھا ایک گواہ تو زمین ہے جس پر گناہ ہوتے ہیں۔ دوسرا ہے الیوم نختم علیٰ افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشہد ارجلھم بما کانوا یکسبون جن اعضاء سے گناہ صادر ہوتا ہے وہ شاہد بنتے ہیں۔ تیسرا گواہ صحیفۂ اعمال ہے۔ واذا الصحف نشرت چوتھا گواہ ہے کراماً کاتبین یعلمون ما تفعلون 14:53) تین قسم کے لوگوں کو چار قسم کا عذاب۔۔۔

21:23) تین قسم کے لوگ جن کو چار قسم کا عذاب ہوگا (۱)ٹخنہ چھپانے والا(۲)جھوٹ بول کر سودا بیچنے والا(۳)احسان کر کہ جتانے والا۔۔۔

22:26) حدیث شریف کی تشریح:آپ ﷺ رمضان شریف میں اور زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔۔۔

24:04) یہ کہنا کہ دین میں اختلاف ہے۔۔۔97 فیصد تو کوئی اختلاف نہیں پہلے اس پر تو عمل کریں۔۔۔

29:18) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اخلاق مبارک سے دین پھیلا۔۔۔

31:10) اعتکاف سے متعلق حدیث شریف کی تشریح۔۔۔

32:10) دو ایسے بڑے گناہ ہیں کہ ان سے سب چیزیں تباہ ہوجاتی ہیں ایک تکبّر اور دوسرا جاہ۔۔۔

36:37) صدیقین کے سروں سے سب سے آخر میں تکبّر اور جاہ نکلتا ہے۔۔۔

39:53) سفارش سے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت۔۔۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں معتکف تھے۔ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور سلام کرکے چپ چاپ بیٹھ گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا۔ میں تمہیں غمزدہ اور پریشان دیکھ رہا ہوں۔ کیا بات ہے؟ اس نے کہا، اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے! بے شک میں پریشان ہوں، فلاں کا مجھ پر حق ہے (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ) اس قبر والے کی عزت کی قسم! میں اس حق کے ادا کرنے پر قادر نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا۔ اچھا کیا میں اس سے تیری سفارش کردوں؟ اس نے عرض کیا۔ جیسے آپ مناسب سمجھیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ سن کر جوتے پہن کر مسجد سے باہر تشریف لائے۔ اس شخص نے عرض کیا۔ آپ اپنا اعتکاف بھول گئے۔ انہوں نے فرمایا۔ بھولا نہیں ہوں۔ بلکہ میں نے اس صاحب قبر (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے جسے ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا (یہ الفاظ کہتے ہوئے) ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضور فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنے بھائی کے کسی کام کے لئے چلے پھرے اور کوشش کرے، یہ اس کے لئے دس برس کے اعتکاف سے افضل ہے اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان اور زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے (اور جب ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو دس برس کے اعتکاف کی کیا کچھ فضیلت ہوگی) (طبرانی، بیہقی، مستدرک حاکم، الترغیب و الترہیب)

42:03) جو بڑائی کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے پست کر دیتے ہیں۔۔۔

43:04) کسی کو بھی حقیر نہ سمجھیں۔۔۔

43:33) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت کی تشریح:۔۔۔

46:13) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فرمان کے ہماری عزت اسلام سے ہے سواری سے نہیں۔۔۔

52:55) دُعا کی پرچیاں۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries