فجر مجلس۲۷     فروری   ۴ ۲۰۲ء     :صحبتِ اہل اللہ کے فوائد        !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بمقام:مسجداختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر کراچی

بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

12:00) شیخ کی مثال پیر باشد نردبان آسماں تیر پراں از کہ گردد از کماں ارشاد فرمایا کہ نردبان کے معنی ہیں سیڑھی۔پیر آسمان کی سیڑھی ہےیعنی اﷲ تک پہنچنے کا راستہ، ذریعہ اور وسیلہ ہے۔اﷲ تک جانا چاہتے ہو تو پیر ِحقانی تلاش کرو۔آسمان سے یہاں مراد اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے۔یہ تو ایک دعویٰ ہے کہ پیر اﷲ تک پہنچنے کا وسیلہ ہے لیکن اس دعویٰ کی کیا عمدہ دلیل اگلے مصرع میں مولانا رومیh دیتے ہیں۔مولانا رومی کے انہیں علوم کی وجہ سے ہر زمانہ میں سارے علماء ان کے غلام بن گئے،فرماتے ہیں ؎ تیر پراں از کہ گردد از کماں تیر کس کے ذریعہ سے اُڑتا ہے؟ کمان سے۔تیر اگر ایک کروڑ روپے کا سونے کا بنا ہوا ہو مگر زمین پر دھرا رہے گا اگر کمان میں نہیں آئے گا۔شیخ مثلِ کمان ہے،مرید جب اس کی صحبت میں آتا ہے تو عرش تک وہ اﷲ والا اُڑا دیتا ہے،فرشی عرشی بن جاتا ہے،غافل اﷲ والا بن جاتا ہے۔

12:01) حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کا حضرت والا رحمہ اللہ سے جوڑنے کا واقعہ۔۔۔

17:02) حضرت شیخ دامت برکاتہم کا حضرت والا رحمہ اللہ سے جوڑنے کا واقعہ۔۔۔

18:24) جو اللہ والا بن جاتا ہے پھر اس کا رنگ ہی کوئی اور ہوتا ہے۔۔۔

22:22) صحبت اہل اللہ کے فوائد۔۔۔

24:45) لباس سے متعلق کچھ باتیں کے کیسا ہوناچاہیے۔۔۔

27:49) گناہوں کی وجہ سے دل گندا ہوجاتا ہے حضرت والا رحمہ اللہ کی ایک مثال۔۔۔

33:18) اگر ایک چراغ کا برتن ایک کروڑ روپے کا ہے سونے جواہرات،قیمتی پتھروں سے بنا ہے اور اس کی بتی بھی مان لیجئے لاکھوں روپے کی بنائی گئی ہے اور اس کا تیل بھی کوئی خاص تیل ہے لاکھوں روپے کا لیکن روشن نہیں ہوسکتاجب تک کسی جلتے ہوئے چراغ کی لو سے َمَس یعنی (TOUCH)نہیں ہوگانہ خود روشن ہوگا نہ کسی دوسرے چراغ کو روشن کرسکے گا۔اسی طرح کتنا ہی بڑا عالم ہو،علم کا سمندر ہو،چلتا پھرتا کتب خانہ ہو،لیکن اس کا دل اللہ کی محبت سے روشن نہیں ہوسکتا،اس کا علم مقرون بالعمل نہیں ہوسکتا جب تک اللہ کی محبت میں جلتے ہوئے کسی صاحبِ نسبت دل سے اپنا دل نہیں ملائے گا،کسی اللہ والے کی صحبت اور غلامی اختیار نہیں کرے گا نہ اس کے دل میں اللہ کی محبت کی آگ لگے گی نہ یہ دوسروں کولگا سکے گا اور دوسری مثال یہ ہے کہ دو تالاب ہیں۔ ایک تالاب مچھلیوں سے محروم ہے اور دوسرے تالاب میں مچھلیاں ہیں تو خالی تالاب اگر اپنی سرحد مچھلیوں والے تالاب سے ملادے تو اس کی ساری مچھلیاں اس خالی تالاب میں آجائیں گی۔اسی طرح اللہ والوں سے تعلق کرنے سے ان کے دل کا تقوی دوسرے دلوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries