عشاء  مجلس۲۹       دسمبر     ۲۵ء:ارشادات اکابر     !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجدِ اختر نزدسندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر بلاک12کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

05:05) *بیان کے آغاز میں اشعار کی مجلس ہوئی۔۔*

09:57) *اشعار کا تذکرہ کہ جو اشعار پڑھے گئے حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کے ہیں اور حضرت میر صاحب رحمہ اللہ خادم ِ خاص تھے کچھ حالات کا تذکرہ۔۔*

18:57) *عارف باللہ حضرت مولانا حکیم محمد اختر نور اللہ مرقدہ کے خادم خاص اور خلیفہ مجازِ بیعت حضرت سید عشرت جمیل میر صاحب رحمہ اللہ کا مبارک تذکرہ اور کچھ حالات۔۔*

29:48) *ارشاداتِ اکابر دلائل کی روشنی میں:*

*یہ چوں کہ حضرت حکیم الامت اور مولانا مسیح اللہ خان صاحب رحمہما اللہ اور ہمارے تمام اکابر کی باتیں ہیں اس لیے ہمیں تو کسی دلیل کی حاجت نہیں ورنہ میں اپنے بزرگوں کے ارشادات کو مدلل پیش کرسکتا ہوں کہ اللہ والوں سے تعلق رکھنے والوں کو توفیق توبہ کیوں ہوتی ہے اور ان کا خاتمہ ایمان پر کیوں ہوتا ہے کیونکہ کوئی آدمی ایسا ہوسکتا ہے جو کہہ دے کہ ہم ان زبرگوں کو مانتے، ہمیں تو دلیل چاہیے*

33:11) *اس لیے مولوی کو چاہیے کہ مدلل اسلحہ بھی رکھے تاکہ ایسوں کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے بزرگوں کے ارشادات بے دلیل نہیں لہٰذا میں کہتا ہوں کہ ہمارے اکابر کا یہ ارشاد کہ اللہ والوں سے تعلق و محبت رکھنے والا دائرئہ اسلام سے خارج نہیں ہوسکتا اور اس کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے۔*

33:25) *اس کی دلیل بخاری شریف میں موجود ہے:* *’’مَنْ اَحَبَّ عَبْدًا لَایُحِبُّہٗ لِلّٰہِ۔‘‘ (بخاری شریف: ج۱، ص ۸)* *’’جو شخص کسی بندے سے اللہ کے لیے محبت رکھتا ہے اس کو ایمان کی مٹھاس ملے گی۔‘‘*

33:40) *اس حدیث کے تین جز ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا ایمان اتنا قوی ہو کہ اللہ و رسول سے بڑھ کر کسی محبت نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ ایمان اس کو اتنا *محبوب ہو کہ کفر کی طرف لوٹنا اس کو ایسا ناپسند ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا ناپسند ہوتا ہے اور تیسرا یہ کہ کسی سے صرف اللہ کے لیے محبت *کرے۔ ان تینوں طبقوں کو ازروئے حدیث حلاوتِ ایمانی ملے گی اور حلاوتِ ایمانی کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:*

33:56) *’وَقَدْ وَرَدَاَنَّ حَلَاوَۃَ الْاِیْمَانِ اِذَا دَخَلَتْ قَلْبًا لَاتَخْرُجُ مِنْہٗ اَبَدًا فَفِیْہِ اِشَارَۃٌ اِلٰی بَشَارَۃِ حُسْنِ الْخَاتِمَۃِ الَہٗ۔‘‘ (مرقاۃ: ج ۱، ص ۷۴)* *حلاوت ایمانی جس دل کو اللہ دیتا ہے پھر کبھی واپس نہیں لیتا، عطیۂ شاہی ہے۔ شاہ کو غیرت آتی ہے کہ عطیہ دے کر واپس لے کیوں کہ وہ کریم ہے لہٰذا اس میں شخص کے لیے حسنِ خاتمہ کی بشارت ہے۔*

44:04) اللہ والوں کی محبت سے حلاوتِ ایمانی ملی اور حلاوتِ ایمانی سے حسنِ خاتمہ ملا اور یہ سب احادیث کی شرح سے پیش کررہا ہوں۔