عشاء مجلس ۶ جنوری ۲۵ء:سنت اور حقوق العباد کی اہمیت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم بیان کے کچھ اہم مختصر نکات:۔ گھر میں شرعی پردہ، سنتوں پر عمل اور حقوق العباد کی اہمیت موت کی یاد، توبہ کی پکار اور جنازے کا اثر. رمضان: عہدِ وفا کی تجدید، اصلاحِ نفس اور فرائض کی ترجیح تکبر، حسد اور بدگمانی: انسان کی تباہی کا اصل راستہ 15:25) فرمایا کہ ہم ظاہری دینداری کی باتیں تو کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں گناہوں، بے پردگی، غیر شرعی تقریبات، سود و قرض، زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی، وعدہ خلافی اور سنتوں سے غفلت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ گھر کے اندر پردے کی کمی، شادی بیاہ میں غیر شرعی رسمیں، حقوق العباد کی پامالی اور توبہ کی شرائط پوری نہ کرنا دین سے دوری کی علامت ہے۔ اللہ کا دوست بننے کے لیے فرض، واجب، سنتِ مؤکدہ پر عمل، گناہ چھوڑنا، حقوق ادا کرنا اور سچی توبہ ضروری ہے،۔ 17:00) 1۔گھروں میں شرعی پردہ نہیں گناہ چھوڑنے کی نیت نہیں تقویٰ اور خوفِ خدا کی کمی پردہ کی اہمیت بیٹیوں اور خواتین کا بے پردہ ہونا بڑا گناہ تنگ اور باریک لباس بھی بے پردگی میں شامل پردہ نہ کرنے پر پکڑ ہے 18:00) 2۔ محبتِ رسول ﷺ کی پہچان نعرے نہیں، عمل چاہیے فرض، واجب، سنتِ مؤکدہ پر عمل نکاح، شادی، کھانا پینا سب سنت کے مطابق 19:00) 3۔ معاشرتی گناہ شادیوں میں فوٹو، غیر شرعی تقریبات نیوتا/خرچی دراصل قرض ہے قرض واپس نہ کرنا حقوق العباد ہے 19:40) 4 ۔حقوق العباد کی سنگینی زکوٰۃ ادا نہ کرنا بڑا گناہ قرض لے کر عمرہ/حج پر جانا خطرناک اللہ حقوق العباد معاف نہیں فرماتے 19:50) 5۔ روزمرہ سنتیں کھانا، لباس، بیت الخلاء، مسجد سنتوں پر عمل سے نورِ ایمان غفلت سے عبادت کا اثر ختم 20:00) 6۔غیبت کرنا اور سننا حرام علماء کی غیبت اور بھی سخت نیکیوں کا نور ضائع ہو جاتا ہے 20:20) 7۔سچی توبہ کی شرطیں گناہ فوراً چھوڑنا دل سے ندامت آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ حق دار کو اس کا حق واپس کرنا 20:30) 8۔آخری بات اللہ کو راضی کرنا مقصد بنائیں لوگوں سے زیادہ اللہ کا خوف عمل ہی نجات کا راستہ ہے 21:00) نوجوان پیر بھائی عبدالحسیب بھائی کا تذکرہ کہ جمعرات کو بیان میں تھے اور تقریب بھی تھی اور بہت خوش تھے اچانک اللہ کے پاس چلے گئے نصیحت فرمائی کہ موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے، اس لیے انسان کو گناہوں پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ گناہ کر کے معافی نہ مانگنا اور خود کو درست نہ کرنا بہت خطرناک ہے۔ فرمایا اولاد کی فکر، بے حیائی، اور اللہ سے دوری بہت عام ہے، خاص طور پر اس بوڑھے باپ کی مثال دے کر فرمایا جو بیٹی کو روزگار کے لیے باہر بھیجنے کے غم میں مبتلا ہے۔کہ ایمان کی فکر نہیں بس بیٹی باہر چلی جائے۔۔۔۔ پھر فرمایا کہ سچی توبہ انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے، اور جنازے جیسے مواقع انسان کے لیے بیداری اور اصلاح کا ذریعہ بننے چاہییں۔ 28:00) فرمایا:۔ حج و عمرہ جیسے مقدس سفر میں نامحرم کو دیکھنا حسین لڑکوں / لڑکیوں پر نظر ڈالنا ٹی وی، فضول چینلز، فلمیں ہوٹل کی آسائشوں اور ناشتے کی لڑائیاں یہ سب روحانیت کو ختم کر دیتی ہیں۔ 29:00) احرام میں یا عمرے کے دوران نامحرم کو دیکھنا؟ صاف حکم: نامحرم کو شہوت یا شوق سے دیکھنا حرام ہے احرام میں گناہ اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے آنکھ کا گناہ بھی گناہ ہے عمرے پر جا کر TV، کیبل، فضول چیزیں؟ عمرے پر جا کرڈرامےفلمیںفضول چینلز دیکھنا برکت ختم کر دیتا ہے نیک حاجی وہ ہے جو:TV بند رکھے موبائل صرف ضرورت کو استعمال کرے ذکر، تلاوت، درود میں وقت لگائے ناشتے، پیکج، پیسے کی شکایت؟ حج/عمرے پر جا کر ناشتہ نہیں ملا تو لڑائی چکن تکہ، پایا، مغز چاہیے VIP پیکج کی رونا یہ سب نفس کی غلامی ہے حج کا مقصد: اللہ کو راضی کرنا ہے، پیٹ کو نہیں فرمایاجعلی پیروں کی چالاکیاں:۔ 10 ماہ عام دعا 20 ماہ اسپیشل 40 آنسوؤں والی دعا 50 مکہ مدینہ کی دعا یہ سب دھوکہ ہے اللہ فرماتا ہے: “مجھ سے مانگو، میں تمہیں دوں گا” | ||