اتوارمجلس ۱۸     جنوری   ۲۶ء:اللہ والا بننے کا اصل معیار  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

13:11) بیان کے آغاز میں اشعار پڑھے گئے۔۔

15:39) اللہ والوں کی راہ: اخلاص، سنت اور علماء سے رجوع:۔ اللہ کی محبت زبردستی یا دعوؤں سے نہیں آتی بلکہ عمل، تقویٰ اور سنت پر چلنے سے خود دل میں اترتی ہے فرمایا کسی کا بیٹا خود بخود اللہ والا، عالم یا حافظ نہیں بن جاتا جب تک وہ خود محنت اور تقویٰ اختیار نہ کرے۔

20:09) اہم نصیحت کہ دینی مسائل ہمیشہ مستند علماء سے پوچھے جائیں، نہ کہ گوگل، غیر مستند افراد یا مختلف ویب سائٹس سے، کیونکہ صراطِ مستقیم قرآن و حدیث اور اہلِ علم کے ذریعے ہی ملتا ہے۔

23:16) وسوسے، ایمان اور اللہ والوں کی پہچان:۔ فرمایاکہ وسوسے آنا ایمان کے ختم ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ ہر انسان کو اسی چیز کے وسوسے آتے ہیں جس سے وہ بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ زنا سے بچنے والے کو زنا کا وسوسہ، حرام سے بچنے والے کو حرام کا وسوسہ اور ایمان والے کو کفر کا وسوسہ آنا فطری بات ہے۔ اصل امتحان وسوسے پر عمل کرنا نہیں بلکہ اس سے بچنا ہے۔ فرمایا کہ قرآن کی تفسیر کے لیے باقاعدہ علوم اور اہلِ علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور فرمایا کہ دھوکہ، رشوت، ظلم اور حرام کمائی کرنے والوں کو وقتی طور پر سب ٹھیک لگتا ہے، مگر مرنے کے بعد اصل حساب سامنے آئے گا—جیسے کرنی ویسی بھرنی۔

28:17) اللہ والا بننے کا اصل معیار: گناہ سے بچنا اور فرض کی فکر فرمایا کہ اللہ والا بننے کا معیار شہرت، بیان اور داڑھی یا سوشل میڈیا نہیں بلکہ گناہوں سے بچنا اور فرض، واجب اور سنتِ مؤکدہ کی پابندی ہے۔ حرام عشق، موبائل دل کا سکون چھین لیتی ہیں، جبکہ سکون اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، سچے دل سے توبہ کرنے والے کو معاف بھی فرماتا ہے اور محبت بھی، مگر خود کو اللہ والا سمجھ لینا خطرناک ہے۔

33:14) تکبر، نظر کی حفاظت اور مقصدِ حیات — دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی نصیحت حق بات کو نہ ماننا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا تکبر ہے، جو بہت بڑا گناہ ہے اور شیشوں کی مثال دے کر یہ سمجھایا گیا کہ جیسے ایک شیشہ کھلا ہو تو ٹھنڈک ختم ہو جاتی ہے، ویسے ہی آنکھ، زبان یا دل کا ایک گناہ ہزاروں نیکیوں کو ضائع کر سکتا ہے۔ مقصدِ حیات اللہ کو راضی کرنا ہے۔ گناہوں کے ساتھ نہ چین ملتا ہے نہ سکون۔ بزرگانِ دین کی قدر، علماء کا احترام، اور دین کی بات کو دل سے قبول کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔۔

39:02) دین کی حفاظت، فتنوں سے اجتناب اور اکابر کی تعلیمات دین پر چلنے والوں کو مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے، مگر حق پر ثابت قدم رہنا ہی کامیابی ہے۔

48:50) دین شکل کا نہیں، دل کا نام ہے اصل معیارِ دینداری اللہ کی محبت اطاعت سے ملتی ہے، اور جب خالق دل میں آ جائے تو تکبر، ریا اور گناہ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔

01:14:16) اللہ کے دروازے قیامت تک کھلے ہیں،رحمت آج بھی برس رہی ہے۔ کون کہتا ہے 80 سال کے کافر کی توبہ قبول نہیں؟ قرآن کہتا ہے: اللہ کی رحمت سے نااُمید ہونا گمراہی ہے رحمت کا کوئی موسم نہیں، کوئی وقت نہیں