عشاء مجلس ۱۹     جنوری   ۲۶ء:توبہ کی حقیقت اور قول و فعل کی سچائی !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی

بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

ارشاد فرمایا کہ اللہ کی محبت حاصل کرنا فرض ہے، اور اس محبت کی پہچان حلال کو اختیار کرنا،

حرام کو چھوڑنا اور اتنا دینی علم حاصل کرنا ہے جس سے حلال و حرام میں تمیز ہو سکے۔

توبہ کی چار بنیادی شرطیں ہیں۔۔۔

گناہ چھوڑنا، ندامت، آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ، اور حقوق العباد کی ادائیگی۔۔

ایک گناہ بھی اگر باقی رہ جائے تو وہ انسان کو ہلاکت کی طرف لے جا سکتا ہے، خاص طور پر غصہ، نظر کا گناہ، وراثت کی حق تلفی، یتیم کا مال، اور غیر شرعی رسومات۔ ارشاد فرمایا کہ غصہ پی جانا، معاف کرنا اور احسان کرنا اللہ کی محبت کا راستہ ہے۔

ایمان، تقویٰ اور ، والدین کی نافرمانی پر اہم نصائح۔۔ والدین کے حقوق کی پامالی، ماں کے ساتھ بدتمیزی، جائیداد کے جھگڑے اور اولاد کی سنگ دلی جیسےمسئلوں پر اہم نصیحتیں بیان فرمائی۔۔

اللہ کا دوست وہی ہے جو فرائض، واجبات اور سنتِ مؤکدہ کی پابندی کرے اور اللہ کو ناراض کرنے والے اعمال سے بچے۔ ارشاد فرمایا کہ رائی کے دانے کے برابر تکبر بھی انسان کو جنت سے محروم کر سکتا ہے۔

شیطان کے مردود ہونے کی اصل وجہ تکبر، حسد اور بدگمانی کو بتایا گیا ہے۔ فرمایا کہ اپنے گناہوں کو بیماری سمجھیں اور دوسروں کے عیوب میں پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کریں۔ نجات کا راستہ عاجزی، تقویٰ، اخلاص میں ہے نہ کہ دوسروں پر اعتراض کرنا اور دوسروں کے گناہوں کو دیکھنا اہم نصیحت۔۔۔

اصل کامیابی وہی ہے جو اللہ کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ لوگوں کی واہ واہ کے لیے۔