عشاء مجلس ۲۶ جنوری ۲۶ء:باطنی اصلاح اور گناہوں سے بچنے کا راستہ ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم مختصر جامع خلاصہ:۔ فرمایا کہ اللہ والا بننا صرف ظاہری اعمال سے نہیں بلکہ باطن کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ صدیقیت کی اصل شرط یہ ہے کہ قول اور عمل میں تضاد نہ ہو۔ غیبت، بدگمانی، بد نظری اور حرام عادات کو بیان میں چمگادڑ کی مثال سے سمجھایا گیا ہے کہ جیسے وہ اندھیرے اور گندگی میں رہتی ہے، ویسے ہی یہ گناہ انسان کو نورِ ایمان سے محروم کر دیتے ہیں۔ اور فرمایا کہ غیبت تو زنا سے بھی بڑا گناہ ہے۔ حضرت والا نے موچھیں پست رکھنا، ٹخنوں کا کھلا ہونا، پردہ اور نگاہ کی حفاظت کی اہمیت پر نصیحت فرمائی اورموبائل و میڈیا کے فتنوں، اور نفس کی غلامی کے نقصانات پر سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ ساتھ ہی توبہ، گناہ کو گناہ سمجھنے، شیخِ کامل کی صحبت، اور صادقین کے ساتھ رہنے کو نجات کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔ اصل کامیابی نفس کو مار کر اللہ کی رضا اور باطنی زندگی حاصل کرنے میں ہے۔ علم، عمل اور اخلاص اور فتنوں سے بچنے کی تلقین۔۔ علماء، طلبہ اور دینی ذمہ دار افراد کو اخلاص اور عمل کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ فرمایا کہ دین صرف باتوں، وعظ سے نہیں پھیلتا بلکہ سب سے پہلے اپنے عمل کی اصلاح ضروری ہے۔ فرمایا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمدرحمہ اللہ کے واقعات کےواقعات بیان فرمائے اور پھر ادب، احتیاط اور تقویٰ کی مثالیں بیان فرمائی کہ اللہ جسے دین کے لیے قبول فرما لیتا ہے، اسے نفسانی مشاغل اور فتنوں میں ضائع نہیں ہونے دیتا۔ فرمایا کہ پہلے خود عمل والا بنے، نفس کی اصلاح کرے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے دین میں برکت اور قبولیت عطا فرماتے ہیں۔۔ | ||