عشاء۱۷ فروری   ۲۶ء:نماز کی حقیقت ۔۔۔اور طریقت کی روح!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی

بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

02:23) بیان کے آغاز میں اشعار پڑھے گئے۔۔

06:53) اشعار کے دوران درد بھری تشریح فرمائی:۔ فرمایا کہ نماز صرف ظاہری حرکات کا نام نہیں بلکہ دل اور روح کی حاضری کا نام ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو یعنی طریقہ بھی وہی ہو اور کیفیت بھی وہی ہو۔

ظاہری طور پر سب کی نماز ایک جیسی ہو سکتی ہے لیکن اصل فرق (خشوع و خضوع) میں ہوتا ہے۔ اللہ والے نماز میں صرف جسم نہیں، بلکہ اپنا دل اور روح اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ جبکہ عام لوگ اکثر جسم تو مسجد میں رکھتے ہیں مگر دل دنیا،میں پھسا ہوتا ہے۔ ایسی نماز ڈھانچہ تو ہے مگر روح نہیں۔ شریعت نماز کا اسٹرکچر ہے ۔۔

طریقت اور معرفت اس کی روح اور جان ہے فرمایا اصل تعلیم یہ ہے کہ: نماز سنت کے مطابق ہو دل اللہ کے سامنے جھکا ہو خشوع و خضوع پیدا ہو گناہوں سے دل کو پاک کیا جائے اور شیخِ کامل کی صحبت سے کیفیت حاصل کی جائے

16:28)اللہ کی نگرانی کا یقین اور دل کی حفاظت کا راستہ فرمایا انسان اگر ہر وقت یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے تو اس کی زندگی سنور سکتی ہے ۔۔ ان شاء اللہ۔

17:04) دل کی حفاظت، نظر کی حفاظت، اور نیت کی درستگی اصل کامیابی ہے۔ چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، لیکن اللہ 100 فیصد ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اس یقین سے گناہوں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے 18:36 اللہ کے قریب ہونے کا احساس: “میں جہاں بھی ہوں، اللہ میرے ساتھ ہے انسان دنیا کی جائز چیزوں سے محبت کرتا ہے, والدین، اولاد، کاروبار لیکن اللہ تعالیٰ ہم سب سے زیادہ قریب ہے، اس لیے سب سے زیادہ محبت کا حق دار بھی وہی ہے۔

23:19) کسی قوم کا مذاق نہیں اڑانا گناہ ہے فرمایا کہ کسی بھی قوم یا زبان کا مذاق اڑانا اور انہیں حقیر سمجھنا گناہ ہے۔۔ جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ سب کو عزت دیتے ہیں اور ہر انسان کے دل کا احترام کرتے ہیں۔

33:42) اشعار مکمل کرنے کا فرمایا۔۔

35:42) صحبتِ اولیاء کی برکت اور اطاعت کا جذبہ فرمایا کہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اکابر کی محبت، اطاعت اور صحبت کی برکت کیسی تھی۔ فرمایاکہ اصل کامیابی کتابوں کی کثرت میں نہیں بلکہ اللہ والوں کی صحبت، فوری اطاعت اور اخلاص میں ہے۔۔

43:43) رزق کا ضامن اللہ ہے، بندہ نہیں:۔ فرمایا جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہوتا ہے۔ گھر میں بچوں کی آمد سے رزق کم نہیں ہوتا بلکہ اللہ ہی سب کو عطا فرمانے والا ہے۔ اگر کسی کے زیادہ بچے ہوں تو ان کا رزق بھی اللہ ہی دیتا ہے، حتیٰ کہ جو بچے بچپن میں انتقال کر جائیں، ان کا رزق بھی اللہ ہی نے عطا کیا ہوتا ہے۔ اسی طرح جس طرح جسمانی اولاد کے بڑھنے سے رزق میں کمی نہیں آتی، ویسے ہی شیخ کی روحانی اولاد بڑھنے سے بھی روحانی فیوض و برکات میں کمی نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ مزید عطا فرماتا ہے۔