مرکزی مجلس ۲۳ / اپریل ۲۶ء:میراث کے معاملے میں کوتاہیاں اور ذمہ داریاں | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 12:43) بیان سے پہلے سفر کی مختصر کارگزاری ۔۔۔لوگ بہت تڑپ رہے ہیں پیاسے ہیں کوئی ان کو اللہ تعالیٰ کی محبت سکھانے والا ہو۔۔۔ہر طرف موبائل کی تباہ کاریاں ہیں۔۔۔ رحمت کا ابر بن کے جہاں بھر میں چھائیے عالم یہ جل رہا ہے برس کر بجھائیے جو عمل والا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی خوشبو اُڑا دیتے ہیں۔۔۔ خاموش تبلیغ اور اس کا اثر۔۔۔ میرپور خاص کے کچھ علماء کا ذکر کہ جو ماشاء اللہ رابطے میں ہیں اور اصلاحی بیانا ت بھی کرتے ہیں مدرسہ بھی پڑھاتے ہیں اور تبلیغ میں بھی آگے آگے ہیں۔۔۔ 16:01) جناب مولانا محمد کریم صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔ فیضانِ مدینہ ہے یہ فیضانِ مدینہ ساحل سے لگے گا کبھی میرا بھی سفینہ دیکھیں گے کبھی شوق سے مکہ و مدینہ مؤمن جو فدا نقشِ کفِ پائے نبی ہو ہو زیرِ قدم آج بھی عالم کا خزینہ گر سنتِ نبوی کی کرے پیروی اُمت طوفاں سے نکل جائے گا پھر اس کا سفینہ 22:37) موبائل سے متعلق ایک واقعہ۔۔۔جو لوگ اپنے بچوں کو موبائل دیتے ہیں وہ اپنے بچوں کو جہنم میں ڈالتے ہیں۔۔۔ 25:01) یہ دولتِ ایمان جو ملی سارے جہاں کو فیضانِ مدینہ ہے یہ فیضانِ مدینہ جو قلب پریشاں تھا سدا رنج و الم سے فیضانِ نبوت سے ملا اُس کو سکینہ جو دردِ محبت کا ودیعت تھا ازل سے مؤمن پہ ہوا کشف وہ مدفون خزینہ اے ختمِ رُسل! کتنے بشر آپ کے صدقے ہر شر سے ہوئے پاک ہوئے مثلِ نگینہ اے صل علیٰ آپ کا فیضانِ رسالت جو مثل حجر تھا وہ ہوا رشکِ نگینہ جو ڈوبنے والا تھا ضلالت کے بھنور میں اب رہبرِ اُمت ہے وہ گمراہ سفینہ اخترؔ کی زباں اور شرفِ نعتِ محمدا اللہ کا احسان ہے بے خون و پسینہ 32:29) مجاہدے کے بعد اللہ ملتے ہیں۔۔۔ 41:59) شیخ الحدیث ترجمانِ اکابر حضرت مولانا شاہ عبدالمتین بن حسین صاحب دامت برکاتہم کا مضمون پڑھ کرسنایا::: 51:57) میراث کے معاملہ میں کوتاہیاں اور ذمہ داریاں::: وراثت تقسیم کرنے میں تاخیر مت کریں اللہ سے ڈریں اور حقداروں کو ان کا حق دیں۔۔۔ 01:02:51) شیخ الحدیث ترجمانِ اکابر حضرت مولانا شاہ عبدالمتین بن حسین صاحب دامت برکاتہم کا مضمون مکمل کیا۔۔۔ 01:05:07) ذکر سے متعلق حضرت والا رحمہ اللہ کا مضمون بیان ہوا::: ذکر کا کُشتہ: ارشاد فرمایا کہ حکیم اجمل خاں مرحوم ماء اللحم اور کشتہ کھاکر سخت سردی میں فجر سے پہلے ململ کا کرتا پہنے ہوئے تانگے میں بیٹھ کر دلی کے اطراف میں سیر کرتے تھے اور پھر جماعت سے آکر نماز پڑھتے تھے۔ یہ کیا بات تھی؟ یہ ماء اللحم اور کشتے کی گرمی تھی۔ تو اللہ جو خالقِ کشتہ ہے،اور خالقِ مروارید اور خالقِ جواہرات ہے،اس کے نام میں کتنی طاقت ہوگی! اس کشتے کو حاصل کرو کیونکہ شیخ ہر وقت ساتھ نہیں رہے گا۔ پھرجہاں بھی رہوگے باخدا رہوگے،اللہ کے ذکر کی برکت سے جہاں بھی رہو گے اللہ والے بن کے رہوگے۔ جتنا ملتزم پر روئے تھے اور جتنا مسجد کے گوشے میں باخدا اور اَشکبار تھے، اتنا ہی بندر روڈ پر رہوگے، بندر روڈ پر بھی قلندر رہوگے اور قسمت کے سکندر رہوگے اور اخلاق کے لحاظ سے بندر نہیں رہوگے۔ 01:08:24) ذکر اللہ سے اللہ کی محبت غالب رہے گی: ذکر کی برکت سے ان شاء اللہ! جب اللہ کی محبت غالب رہے گی تو مالک کا نام دکھاوا، ریا، جاہ سب جلا کے خاک کردے گا۔ اللہ کا نام اللہ کا نام ہے، بہت بڑا نام ہے لیکن اس میں ناغہ مت کرو۔ بعض وقت شیطان دینی مصروفیات کو بہانہ بنادیتا ہے، یہ مصروفیت اللہ کے ہاں قبول نہیں اور جب اللہ کے ہاں یہ قبول نہیں تو دائرئہ تصوف و سلوک میں بھی یہ قبول نہیں۔ذکر کا ناغہ کیا،خواہ دینی مصروفیات کی وجہ سے ہی ہو تو برکاتِ ذکر سے محروم رہوگے، تمہارا فرض بھی پھر خطرے میں ہوگا۔ 01:12:39) ۔۔۔ اس لئے میں اپنی اولاد اور اپنے احباب سے کہتا ہوں کہ ذکر کے معمول کو چاہے تقسیم کرلو،کچھ صبح، کچھ مغرب بعد،یا عشاء بعد کرلو،اور اختر تو ذکر بہت کم بتاتا ہے، تین سو دفعہ اللہ اللہ بتاتا ہوں،(اب وہ بھی ایک سو مرتبہ کر دیا۔جامع)اور پہلے اللہ پر جل جلالہ کہو، اور صرف تین سو بار لا الٰہ الا اللہ بتاتا ہوں(اب وہ بھی ایک سو مرتبہ کر دیا۔جامع)، اس مراقبے سے کہ میری لا الٰہ الا اللہ عرش ِاعظم تک جارہی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کررہی ہے۔ 01:18:35) ذکر کرنے کا طریقہ اور ذکر۔۔۔ 01:21:41) دوبڑے کا گناہ جو اللہ سے دُور کرتے ہیں ایک جاہ اور دوسرا باہ۔۔۔ 01:22:06) ذکر کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے اللہ کے دروازے پر کھڑا ہے دستک دے رہا ہے۔۔۔ کھولیں وہ یا نہ کھولیںدَر اس پہ ہو کیوں تری نظر تو تو بس اپنا کام کر یعنی صدا لگائے جا بیٹھے گا چین سے اگر کام کے کیا رہیں گے پر گو نہ نکل سکے مگر پنجرے میں پھڑ پھڑائے جا 01:22:59) ذکر اسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ 01:28:09) دین کے سب شعبے برحق ہیں اس لیے کسی کو کم مت سمجھیں رفیق بنیں فریق مت بنیں اوردین کے دوسرے شعبوں کے ساتھ تعاون کریں۔۔۔ 01:36:46) ذکر میں ناغہ مت کریں ۔۔۔ 01:37:12) دُعا۔۔۔ دورانیہ 1:41:10 | ||