فجر   مجلس ۵  مئی  ۲۶ء:علماء کا اکرام کرو        !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

14:19) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکراسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ استغفار اور درود شریف ۔ 

14:19) علم اور علماء کرام کی عظمت::: حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے تمام علمی و عملی کمالات کی نسبت اپنے شیخ حاجی امداد اﷲ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی طرف کی، مطلب یہ کہ مجددِ زمانہ، ڈیڑھ ہزار کتابوں کے مصنف، بڑے بڑے علماء کے شیخ نے اپنی نفی کرکے اپنے کمالات کو اپنے شیخ کی طرف منسوب کیا۔ یہی چیز انسان کو عجب و کبر سے اور اپنے کو بڑا سمجھنے سے محفوظ رکھتی ہے اور جس کا شیخ نہ ہو تو پھر وہ اپنی طرف نسبت کرتا ہے کہ میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا اور جہاں ’’میں میں‘‘ ہو وہیں انسان ذلیل ہوجاتا ہے، یہی ’’میں‘‘ والی بیماری شیطان کو تھی جس نے اَنَا کہا تھا، اسی انانیت کو ختم کرنے کے لیے بڑے بڑے علماء نے بھی اﷲ والوں کو اپنا شیخ بنایا اور تاریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے علماء جو علم کے آفتاب اور ماہتاب تھے ان حضرات نے بھی اپنے نفس کو مٹانے کے لیے اور اپنی تربیت کے لیے مربی اور شیخ کا انتخاب کیا۔

18:48) کوئی شخص مربہ نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کا کوئی مربی نہ ہو۔ آج مسجد و مدرسہ سے نکل کر دستارِ فضلیت سر پر باندھ کر فوراً مسجد میں امامت کی جگہ بناتے ہیں اور اس کے بعد مقتدیوں کے مربی بن جاتے ہیں حالانکہ پہلے خود مربہ نہیں بنے، تو جو شخص پہلے خود مربہ نہ بنا ہو وہ مربی کیسے بن سکتا ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ پھر لوگوں کی شکایت کرتے ہیں کہ جی مولویوں کی عزت نہیں ہے۔ مولوی کی میم پر جب تک پیش رہے گا اس کی عزت نہیں ہوگی یعنی مولوی صاحب جب تک مُولی صاحب رہے گا، مولی گاجر کے بھائو بکے گا۔ مولوی کے معنیٰ ہیں مولیٰ والا جیسے لاہوری کے معنیٰ ہیں لاہور والا، پشاوری کے معنیٰ ہیں پشاور والا، لکھنوی کے معنیٰ ہیں لکھنؤ والا۔ پس جب وہ مولوی اﷲ والوں کی صحبت اختیار کرے گا اور اﷲ اﷲ کر کے مولیٰ والا بن جائے گا تو ان شاء اﷲ پھر مخلوق کی مجال نہیں ہوگی کہ اس کو ذلیل کرے اورجو اس کو ذلیل کرے گا اور دھمکی دے گا تو اﷲ تعالیٰ اس کو دھمک دے گا کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی ایک صفت السلام ہے، علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ نے روح المعانی میں السلام کی تفسیر بیان کی ہے: { اَلَّذِیْ یُسَلِّمُ عَلٰی اَوْلِیَآئِہٖ فَیَسْلَمُوْنَ مِنْ کُلِّ مُخَوِّفٍ} (تفسیر روح المعانی، ج:۲۸،ص:۶۳)

20:19) اولیاء اﷲ اور علمائِ دین کے معاملہ میں آج عوام کی جو جرأت ہے کہ مسجد میں گھڑی کی سوئی دیکھتے ہیں، اگر جماعت کے ٹائم سے ایک منٹ اوپر ہوگیا تو امام کے خلاف بولنے لگتے ہیں، گویا ان کے نزدیک امام لوہے کی ٹونٹی ہے کہ جب چاہا کھول دی، جب چاہا بند کردی، اگر استنجاء کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوگئی تو امام صاحب کا پانچ دس منٹ انتظار کرنا چاہیے، لیکن عوام نے امام کو غلام سمجھ رکھا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ سرورِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک نقل فرماتے ہیں: { اَکْرِمُوا الْعُلَمَآئَ فَاِنَّھُمْ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَآئِ} (کنز العمال،کتاب العلم، ج:۱۰، ص:۱۵۰) علماء کا اکرام کرو کیونکہ یہ انبیاء کے وارث اور نائب ہیں اور سرورِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد ہے: {مَنْ لَّمْ یُبَجِّلْ عَالِمِیْنَا فَلَیْسَ مِنَّا} جس نے علماء کی عزت نہیں کی میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں۔

26:46) علماء کے سامنے دعویِ علم بے ادبی ہے: اردو کی کتابیں پڑھ کر علماء کی اصلاح مت کیجیے، مفتی نہ بنیے۔ ایک بزرگ عالم نے سجدہ میں اپنی کہنیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا، بعد میں ایک صاحب نے کہا کہ حدیث شریف میں ہے کہ سجدہ میں کہنیوں کو زمین سے نہ لگاؤ مثل کتے کے بیٹھنے کے، بلکہ کہنیاں اُٹھی رہیں تو مولانا نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ عالم ہیں؟ تو وہ کہنے لگا کہ عالم تو نہیں ہوں لیکن میں نے اردو کی کتاب میں پڑھا ہے۔ پھر مولانا نے اس سے فرمایا کہ کیا آپ کے سامنے ساری حدیثیں ہیں یا صر ف ایک حدیث دیکھ کر آپ مجھ پر اعتراض کررہے ہیں تو وہ کہنے لگے کہ ساری حدیثیں تو میرے سامنے نہیں ہیں تو مولانا کہنے لگے کہ تم نے مجھ پر جو اعتراض کیا تم نے گناہ کبیرہ کیا، ایک عالم کی عزت کو تم نے نقصان پہنچایا، جب تم جاہل ہو تو تمہیں کیا حق حاصل ہے نصیحت کرنے کا؟ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دوسنتیں ہیں، ایک جوانی کی، دوسری بڑھاپے کی۔ جب بڑھاپے میں آپ علیہ السلام کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تھا تو آپ علیہ السلام اپنی کہنیوں سے گھٹنوں پر سہارا لیتے تھے۔

31:46) تینوں قل تین تین مرتبہ اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔

دورانیہ 35:45