فجر   مجلس ۶  مئی  ۲۶ء:علم و علماء کرام کا  مرتبہ و مقام         !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

14:10) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکراسم ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ استغفار اوردرود شریف۔ 

14:11) علمِ دین کی برکت اور فضیلت::: لنگی پہننے کی کس کو اجازت ہے؟ بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں لنگی باندھنے کو ضروری سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سنت غیر مؤکدہ اور سنت عادیہ میں سے ہے، لیکن لنگی باندھنے میں احتیاط بھی بہت ہونی چاہیے۔ میں نے لنگی باندھنے والوں کو دیکھا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کے کچھ طلباء ہمارے ہاں پڑھتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے رات کو معائنہ کیا تو دیکھا کہ وہ خود کہیں تھے اور ان کی لنگی کہیں تھی۔ ایک عالم ہمارے ہاں استاد تھے اور دیوبند کے فاضل تھے، لنگی باندھتے تھے

ایک دفعہ جب مچھروں نے ان کے منہ پر کاٹا تو لنگی سے اپنا منہ چھپا لیا تو بتائو ایسی لنگی پہننا کیسےجائز ہوگا جو ستر کو دکھائے؟ اسی لئے کہتا ہوں کہ دن کو لنگی پہنو اور رات کو پاجامہ پہنو تاکہ تمہارے اعضاء مستورہ نہ کھل جائیں خصوصاً جبکہ اورلوگ بھی ساتھ سو رہے ہوں مثلاً تبلیغی اجتماع ہو یا مدرسہ میں طلبہ کا دارالاقامہ ہو۔ علامہ جلال الدین سیوطی hنے جامع صغیر میں لکھا ہے کہ اگر اکیلے بھی رہو تو ننگے مت سوئو کیونکہ اس سے فرشتوں کو حیا آتی ہے اور ان کو تکلیف ہوتی ہے۔۔۔

16:17) قرآن پاک میں علماء کو اہل ِذکر فرمانے کا راز: تو بات چل رہی تھی علماء کے احترام کی۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ؁﴾ (سورۃ النحل: آیۃ ۴۳) دین کی جو بات تم نہیں جانتے وہ اہل ِذکر سے پوچھ لیا کرو۔ جملہ مفسرین متقدمین و متاخرین سب نے لکھا ہے کہ اہل ِذکر سے مراداہل ِعلم ہیں۔

18:00) کفار کو اسلام کی تبلیغ ایک مستحب عمل ہے،فرض نہیں: بعض اوقات غیر عالم لوگ حدودِ شریعت سے واقف نہ ہونے کے سبب عوام میں تبلیغ دین کی فضیلت پر اس طرح تقریر کرتے ہیں کہ مثلاً بعض ساتھی تبلیغ کے لئے جاپان گئے اور وہاں جاکر انہوں نے اذان دی، نماز پڑھی اور چٹنی روٹی کھا کر سوگئے تو وہاں کے کافر کہنے لگے کہ ارے ان کو تو بغیر نشہ ہی نیند آگئی جبکہ ہم ہیروئن کھا رہے ہیں، نشہ کی گولیاں کھا رہے ہیں اور پھر بھی نیند نہیں آتی اور یہ مسلمان جو اﷲ کے راستہ میں نکلے ہیں ان کا مذہب تو بڑا اچھا ہے اور آٹھ دس آدمی ان کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے۔

26:52) علم اور علماء کرام کی تحقیر حرام اور کفر ہے: اس بات سے شریعت کی حدود کا علم ہو گیا کہ کیا فرض ہے اور کیا نہیں؟ اس لئے ایسا عنوان اختیار کرنا جس سے علماء کی بے وقعتیاور تحقیر ہوتی ہو حرام ہے۔ اگر آلو، سبزی،گوشت بیچنے والے تبلیغ میں جاکر علماء سے کہیں کہ بھئی آپ جوعلم ِدین پڑھ پڑھا رہے ہیں یہ کچھ نہیں ہے، جا کر تبلیغ میں چلہ لگاؤ اور اگر کسی عالم کے متعلق معلوم ہوگیا کہ اس نے چلہ نہیں لگایا ہے تو اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ارے میاں! یہ سب ایسے ہی حجروں میں بیٹھے ہوئے ہیں، ان سے دین کا کوئی کام نہیں ہورہا ہےتو اس پر قرآن پاک سے دلیل سنو۔ اﷲ تعالیٰ نے سورۃ توبہ میں جہاں اَ لْاٰ مِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ نازل کیا کہ بھلی بات بتاتے ہیں اور بری بات سے روکتے ہیں وہیں یہ بھی فرمایا وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللہِ ۔اﷲ کے دین کی حدود کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور قانون اور حدود کی حفاظت وہ کرے گا جو حدود کو جانے گا اور حدود کو جاننے والے علماء ہیں۔تو علماء سے استغناء اور ان کو اس بناء پر حقیر سمجھنا کہ وہ تبلیغ کرنے جاپان نہیں گئے، امریکہ نہیں گئے اور یہ کہ وہ چھوٹے سے کنوئیں میں مینڈک کی طرح بیٹھے ہیں اور دین کی تبلیغ کے بین الاقوامی کام سے جڑے ہوئے نہیں ہیں سخت بے ادبی ہے،ایسے شخص کو قیامت کے دن پتا چلے گاکہ علماء کی تحقیر کتنا بڑا جرم ہے۔ علماء کی اہانت کو شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ نے کفر لکھا ہے، یہ جرم ِعظیم ہے۔

30:43) بینات میں ایک مضمون شائع ہوا تھا کہ کوئٹہ میں اجتماع ہوا،اس اجتماع میں علماء کرام کی تقاریر کے بعد ایک غیر عالم کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ مولویوںکی باتیں تو آپ نے سن لیں، اب عمل کی بات کرو، بولیں بھئی بولیں! چلہ، سال کی جماعتوں کے لئےنام بولیں۔حاملان ِوحی، جن کے سینوں میں قرآن و حدیث ہے، ان کے ساتھ اس طرح حقارت کا عنوان اختیار کرنا علماء کرام کے خلاف نفرت اور حقارت پیدا کرنا ہے،حدودِ شریعت کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ لہٰذا اس طرح کا کوئی طرز اختیار مت کروکہ گویا علماء کو گرفت میں لانا چاہتے ہو کہ مولوی لوگ جو مدرسوں میں پڑھا رہے ہیں وہ سب بے کار ہیں۔ علماء کی جوتیوں کی خاک کو اپنے سے افضل سمجھو۔حضرت مولانا گنگوہی h فرماتے ہیں کہ جو علماء ربانین کی حقارت کرتاہے اس کی قبر کو کھود کر دیکھو، اس کا منہ قبلہ سے پھیر دیا جاتاہے۔

33:58) تینوں قل تین تین مرتبہ اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔

دورانیہ 36:57