فجرمجلس ۷ مئی ۲۶ء:اہل علم کا درجہ بلند ہے ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 12:54) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکراسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ استغفاراوردرودشریف۔ 12:55) علم اور علماء کرام کی عظمت::: اہلِ علم کا بلند درجہ: علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: { یَرْفَعِ اﷲُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ} (سورۃ المجادلۃ، آیت:۱۱) اﷲ تعالیٰ ایمان والوں کا درجہ بلند کرتا ہے، آگے فرماتے ہیں وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ تو عالم بھی تو ایمان والے ہیں، ان کی تعریف تو ان میں شامل تھی لیکن وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ میں ان کو الگ کیوں بیان کیا گیا؟ علامہ آلوسی سید محمود بغدادی فرماتے ہیں کہ سارے مومن کتنے ہی مبلغ ہوجائیں، کتنے ہی عابد ہوجائیں، اتنی کرامت ہوجائے کہ آسمانوں میں اڑنے لگیں لیکن وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ یعنی علماء کے درجات کے مقابلہ میں نہیں آسکتے۔ علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں علماء کو الگ بیان کرکے جتنی عزت بخشی ہے کسی اور کو ایسی عزت عطا نہیں فرمائی۔ 18:10) علماء فرض کام میں لگے ہوئے ہیں پس جو لوگ خود کو علماء سے دور رکھتے ہیں اور تبلیغی اجتماعات میں بہت بڑا مجمع دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہمارے سوا کوئی ہے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ بنگلہ دیش میں مثلاً دس کروڑ مسلمان ہیں، اگر ان میں سے ایک کروڑ تبلیغ میں لگے ہیں تو نو کروڑ مسلمانوں کو کون دین پہنچائے گا؟ یہی علماء جو مساجد میں ائمہ ہیں، مدارس میں پڑھا رہے ہیں، خانقاہوں میں تزکیہ و اصلاح کا کام کر رہے ہیں۔ اگر سارے ڈاکٹر بستر لے کر گائوں گائوں نکل جائیں اور بیمار لوگ ڈاکٹر کے پاس پہنچیں تو معلوم ہو کہ وہ گشتی شفاخانہ لے کر تین چلے لگانے گئے ہیں تو مریض کا کیا حال ہوگا، لہٰذاجس طرح ان ڈاکٹروں کی قدر کرتے ہو جو دوکان لیے شہروں میں بیٹھے ہیں اسی طرح ان علماء وحفاظ وقراء کو بھی عزت سے دیکھو جو شہر میں کام کر رہے ہیں، نورانی قاعدہ پڑھانے والے کی بھی عزت کرو، بخاری شریف پڑھانے والے کی بھی عزت کرو جو دین کے جس کام میں لگا ہواہے اس کو فریق مت بنائو رفیق بنائو، دین کا ہر شعبہ اہم ہے اور ہمارا ہے خواہ وہ تعلیم کا شعبہ ہو، تدریس کا شعبہ ہو یا تبلیغ کا شعبہ ہو لہٰذا یہ عنوان اختیار کرنا کہ صاحب ہم جیسوں سے جاپان میں اتنے لوگ مسلمان ہوگئے اور امریکہ میں اتنے مسلمان ہوگئے اور علماء سے کچھ کام نہیں ہورہا ہے یہ عنوان دین میں تفرقہ ڈالنے والا ہے۔ ارے! علماء فرض میں لگے ہیں اور تم مستحب میں لگے ہو، تم علماء کے پیر کی خاک کے برابر بھی نہیں ہوسکتے، قیامت کے دن فیصلہ ہوگا تب پتا چلے گا۔ 26:15) اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے تبلیغ کا حکم ان الفاظ میں نازل کیا ہے: { بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِکَ} (سورۃ المائدۃ، آیت: ۶۷ ) یعنی جو نازل کیا گیا ہے اُس کی تبلیغ کرو، اب اگر کسی کے پاس مَا اُنْزِلَ نہیں ہے تو وہ کیا تبلیغ کرے گا مَااُنْزِلَ ہی کی تو تبلیغ کرنی ہے۔ 26:48) جب علماء اہل اﷲ و مشایخ سے تعلق کرتے ہیں اور اپنا ہاتھ کسی اﷲ والے کے ہاتھ میں تزکیہ کے لیے دے دیتے ہیں اور وہ مشایخ دیکھتے ہیں کہ اس عالم کے دل میں کچھ بڑائی آگئی ہے تو اس سے مجاہدہ کراتے ہیں تاکہ ان کے نفس سے تکبر نکل جائے، علم کا احساس نکل جائے، علم کا نشہ اُتر جائے اور عوام کو یہ حقیر نہ سمجھیں۔ چنانچہ ہمارے تمام بزرگان دین اور بڑے بڑے علماء نے بزرگوں کی جوتیاں اٹھائیں اور نفس کا تزکیہ کرایا اسی لیے ان کا سارے عالم میں ڈنکا پٹ گیا، ان کے علم کی خوشبو سارے عالم میں پھیل گئی۔ 30:38) اکابر کا فنائے نفس: نفس و شیطان سے بچنا آسان نہیں ہے۔ شیخِ کامل کے بغیر کسی کی اصلاح نہیں ہوسکتی ورنہ مولانا تھانوی، مولانا گنگوہی اور مولاناقاسم نانوتوی جیسے علماء ایک غیر عالم حاجی امداد اﷲ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ سے کیوں اِصلاح لیتے؟ خواہ کتنا ہی قابل ہو لیکن رَأْیُ الْعَلِیْلِ عَلِیْلٌ بیمار کی رائے بیمارہوتی ہے۔ حکیم اجمل خاں بھی جب بیمار ہوتے تھے تو دوسرے حکیم سے علاج کرواتے تھے لہٰذا یہ اکابر علماء علم و فضل کے باوجود اپنے نفس کی اصلاح کے لیے حاجی صاحب کے پاس گئے اور ان کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا ۔ چنانچہ حاجی صاحب نے تھانہ بھون میں ایک بار مولانا گنگوہی کے ہاتھ پر روٹی رکھ دی اور روٹی پر آلو کی بھجیا رکھ دی اور فرمایا کھایئے! مولانا گنگوہی فرماتے ہیں کہ حاجی صاحب گوشۂ چشم سے مجھے دیکھ بھی رہے تھے کہیں اس کو تغیر تو نہیں ہے کہ شیخ نے میری کیا بے وقعتی کی۔ مولانا گنگوہی فرماتے ہیںکہ اس وقت میری روح مست ہورہی تھی کہ کہاں یہ میری قسمت کہ شیخ اس طرح میرے نفس کو مٹائے۔ 33:39) علماء کرام کی محبت اور عظمت سرمایہ ٔ آخرت ہے: یہ باتیں اس لئے عرض کر دیں تاکہ ہمارے دلوں سے اپنے مشائخ ، بزرگان دین، علماء کرام کی عظمت جو ہماری نجات کا سرمایہ ہے وہ قائم رہے۔ سن لو! میں اپنے بزرگوں کی محبت کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہوںاور یہ میرا ہی قول نہیں بلکہ تبلیغی جماعت کے ایک بہت بڑے شخص مولاناعبدالعزیزدعاجُورحمہ اللہ کا ارشاد ہے جن کی قبر ٹنڈو آدم میں ہے۔ جب ان کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے مفتی رشید احمد صاحب کو بلایا اور مفتی صاحب نے یہ مجھ سے خود بیان فرمایا کہ مولاناعبدالعزیز صاحب نے مرتے وقت یہ فرمایا کہ اے مفتی رشید احمد!تم گواہ رہنا کہ عبدالعزیز مولانا گنگوہی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا اشرف علی تھانویs کے مسلک پرمر رہا ہے۔ شاہ صاحب تبلیغی جماعت کے آدمی تھے، ساری زندگی انہوں نے تبلیغی جماعت میں لگائی لیکن مسلک کے اعتبار سے اپنے بزرگوں کی محبت اور تعلق کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ 34:56) مولانا ماجد علی جونپوری رحمہ اللہ کا واقعہ ٔبیعت:۔۔۔ 35:24) حدیث شریف پڑھنے پڑھانے کا مزہ: حضرت گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ حدیث پڑھنے کا مزہ اور پڑھانے کا مزہ جب ہےجب پڑھانے والا بھی صاحبِ نسبت ہو اور پڑھنے والا بھی صاحبِ نسبت ہو دورانیہ 36:25 | ||