اتوار مجلس ۱۰ مئی ۲۶ء:حصول نسبت مع اللہ کے لئے عظیم الشان دعا! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 15:00) بیان کے آغاز میں اشعار کی مجلس ہوئی۔۔ 24:23) حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کے حالات اور مبارک تذکرہ کہ اپنے شیخ کے ساتھ کیسے مخلص تھے۔۔ 26:57) اصل ہے ظاہر باطن اللہ تعالی کو دونوں چاہیے۔۔ 33:37) اللہ والوں کی قدر اُن کے جانے کے بعد کرتے ہیں زندگی میں عمل کرکے دل کیوں خوش نہیں کرتے۔۔ 34:48) {اَللّٰہُمَّ لَاتُخْزِنِیْ فَاِنَّکَ بِیْ عَالِمٌ} اے اللہ! آپ ہم کو ذلیل اور رسوا نہ کیجئے کیونکہ آپ ہمارے ہر گناہ سے باخبر ہیں، جب ہم گناہ کرتے ہیں تو آپ موجود ہوتے ہیں اور جب نیکی کرتے ہیں تو بھی موجود رہتے ہیں، آپ کبھی غیرموجود ہوتے ہی نہیں۔ وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ کا یہی ترجمہ ہے کہ اے اللہ! آپ اپنے بندوں سے کبھی غیرموجود نہیں ہوتے، مسجد میں بھی آپ ساتھ ہیں، دفتر میں بھی ساتھ ہیں، ہوائی جہاز پر بھی ساتھ ہیں۔۔ 49:30) بحری جہاز پر بھی ساتھ ہیں، شہر میں بھی ساتھ ہیں، جنگل میں بھی ساتھ ہیں، کہیں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں آپ ساتھ نہ ہوں۔ وَہُوَ مَعَکُمْ جملہ اسمیہ ہے، اس سے خروج محال ہے۔ اب منطق سنئے کہ وَہُوَ مَعَکُمْ جملہ اسمیہ ہے اور جملہ اسمیہ دلالت کرتا ہے دوام پر اور دوام دلالت کرتا ہے عدم خروج پر کہ اس حالت سے اس کا خروج نہیں ہوسکتا یعنی بندہ ایک سانس ایسا نہیں لے سکتا کہ خدا اس کے ساتھ نہ ہو، انسان کا کوئی سانس ایسا نہیں گذر سکتا کہ جس سانس میں وَہُوَ مَعَکُمْ سے اس کا خروج اور ایگزٹ (exit) ہوجائے۔ بتائو! ایسا رفیق کہاں ملے گا جو زمین کے اوپ ربھی اور زمین کے نیچے بھی، عالمِ برزخ میں بھی، میدانِ محشر میں بھی اور جنت میں بھی ساتھ ہو۔ لائو ہمارے پیارے اللہ کے سوا کوئی ایسا ساتھی، ایسا رفیق، ایسا مولیٰ، جو کبھی اور کہیں ساتھ نہ چھوڑتا ہو 49:44) ایسا محبوب کوئی دکھلائے ہو جو ہر دم دلِ حزیں کا حبیب جو ہو موجود دل کی دھڑکن میں رگِ جاں سے بھی ہو زیادہ قریب ورنہ جنازہ جب قرب میں اُترتا ہے تو بڑی بڑی عاشق بیویاں زمین کے اوپر رہ جاتی ہیں۔ مال و دولت و کاروبار اور دفتر اور آفس جس کی وجہ سے اُن کو فش ملتا ہے اور ڈش ملتا ہے، اگر آفس نہ چلے تو فش بھی غائب اور ڈش بھی غائب۔ موت کے وقت آفس اور فش اور ڈش سب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں یا نہیں؟ یا آفس ساتھ جاتا ہے کہ صاحب جو کاروبار چھوڑ کر جارہے ہیں اُس کی ترقی کے لیے وقتاً فوقتاً ہدایت جاری کرتے رہیں گے۔ 50:55) تو اَللّٰہُمَّ کے معنی ہیں اے اللہ! اور اللہ اسمِ اعظم ہے۔ کیا مطلب؟ کہ میرے اسمِ اعظم کے صدقہ میں بھیک مانگو کہ اَللّٰہُمَّ لَاتُخْزِنِیْ اے اللہ! مجھے رسوا کرنے کی جو قدرت آپ کو حاصل ہے تو رسوا نہ کرنے کی بھی آپ کو قدرت ہے۔ 58:09) ہ اَللّٰہُمَّ لَاتُخْزِنِیْ اے اللہ! مجھے رسوا کرنے کی جو قدرت آپ کو حاصل ہے تو رسوا نہ کرنے کی بھی آپ کو قدرت ہے۔ ایک طرفہ قدرت پر اللہ تعالیٰ مجبور نہیں ہے کہ ایک قدرت رسوا کرنے کی تو حاصل ہو اور دوسری قدرت رسوا نہ کرنے کی حاصل نہ ہو اور قدرت کی تعریف کیا ہے؟ 58:26) فلسفہ کا قاعدہ مسلمہ ہے اور اس پر میں بڑے بڑے ایم ایس اور بڑے سے بڑے سائنسداں کو للکارتا ہوں کہ اپنی سائنس کے زور سے میری اس بات کو ذرا رد کرکے دکھائو کہ قدرت ضدین سے متعلق ہوتی ہے یعنی قدرت کہتے ہیں ضدین پر قدرت حاصل ہو، جو کام کرسکتا ہو اُس کو نہ بھی کرسکتا ہو، اس کا نام قدرت ہے۔ اگر کسی کی گردن اکی طرف کو اکڑگئی ہے، دوسری طرف نہیں مڑسکتی تو اس کو کہتے ہیں کہ تشنج ہوگیا ہے، کزاز ہوگیا ہے، ٹٹنس ہوگیا ہے اس کو قدرت نہیں کہتے۔ یہ سب طب کی کتابوں میں مجھ کو پڑھایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ آج میری طب یونانی طب ایمان میں تبدیل ہورہی ہے۔ تو فلسفے کے قاعدہ مسلّمہ کے مطابق قدرت نام ہے جو ضدین سے متعلق ہو۔ جو کام کرسکتا ہو نہ بھی کرسکتا ہو۔ چنانچہ ایک فلسفہ داں نے حکیم الامت کو لکھا کہ میں جب کسی حسین پر نظر ڈالتا ہوں تو پھر ہٹا نہیں سکتا، میرے اندر طاقت ہٹانے کی نہیں ہوتی۔ حضرت نے لکھا کہ آپ غلط کہتے ہیں۔ اگر آپ دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں تو نہ دیکھنے کی بھی آپ کو طاقت ہے کیونکہ قدرت ضدین سے متعلق ہوتی ہے۔ 01:15:39) قربانی کے بارے میں احباب کو ایک اہم نصیحت۔۔ | ||