فجر مجلس ۱۳ مئی ۲۶ء:حضرت پھولپوری ؒ کی عاشقانہ عبادت کی کیفیت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم 09:36) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ روزانہ سودفعہ کلمہ شریف پڑھنے کی فضیلت۔۔۔ ذکراسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ اللہ اللہ کیسا پیارا نام ہے عاشقوں کا مینا اور جام ہے 09:37) استغفار کی فضیلت۔۔۔ استغفار۔۔۔ 12:20) درودشریف۔۔۔ 14:30) قلبِ شکستہ کی تعمیر::: کون سی دنیا بُری ہے؟ وہ شادی کے منصوبے،عالیشان مکان کی اسکیم،فارم ہاؤس خریدکر اس پر گھوڑے پالنا،یہ ساری چیزیں اگر خدا سے غفلت کے ساتھ ہوں تو مذموم ہیں، اور اگر اللہ بھی ساتھ ہے، اللہ کی یاد بھی ساتھ ہے تو وہ دنیا دنیا نہیں ہے۔ دنیا بشرط ِشے بُری ہے،علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو دنیا آخرت سے غافل کردے وہ بُری ہے، اور اگر تم دنیا کو آخرت کا ذریعہ بنا لوتو یہی دنیابہترین مال ہے، بہترین نعمت ہے جو مالک پر فدا ہو۔ 16:29) حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کی عاشقانہ عبادت کی کیفیات: توآج اچانک مجھے خیال آیا کہ میں نے خانقاہ پھولپور میں اپنے قیام کی زندگی جس طرح سے گذاری تھی،اس کا تھوڑا سا شاہد ِعدل پیش کردوں۔ آج کی خانقاہ اور اس زمانے کی خانقاہ کو سوچو کتنا فرق ہوگیا!مگر وہاں ہر وقت انوار کی بارش ہوتی تھی،ہمارے شیخ پانچ پارے اور کبھی دس پارے تلاوت کرتے تھے،پورا قصیدہ بردہ روزانہ تہجد کے وقت پڑھتے تھے،کتنا طویل ہے، ڈیڑھ سو اشعار ہیں، اورمناجات ِ مقبول کی ساتوں منزلیں روزانہ پڑھتے تھے، وہ بھی دیکھ کر نہیں، سب زبانی پڑھتے تھے، اب آپ سوچو کہ آج ہمارے لئے ایک منزل پڑھنا مشکل ہے اور حضرت ساتوں منزل زبانی پڑھتے تھے،اور ایسے سیدھے بیٹھتے تھے جیسے میں بیٹھا ہوں مگر جھومتے رہتے تھے،بال بکھرے ہوئے اور گرمی کی وجہ سے ٹوپی بھی اتاردیتے تھے ،اور میں نے درمیان ِتلاوت کبھی یہ مصرع بھی سنا ؎ آجا مری آنکھوں میں سما جا مرے دل میں 23:29) اور ہر آٹھ دس منٹ کے بعد ایک نعرہ’’ھو‘‘ مارتے تھے، جنگل کے عالم ِ ھو میں نعرۂ ’’ھو‘‘ لگاتے تھے۔حضرت فرماتے تھے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام’’ ھو‘‘بھی ہے۔پھر فجر کے بعد اشراق پڑھتے تھے۔فجرکی نماز خودپڑھاتے تھے،شاہ عبدالغنی صاحب رحمہ اللہ کی آواز اتنی پیاری تھی کہ فجر کی نماز میں حضرت کی تلاوت ِقرآن سن کر کافر ہندؤں کی بارات رک گئی کہ بھئی!اب ہمارے قدم آگے نہیں چل سکتے،یہ سنو! کیسی آواز قرآن پاک کی آرہی ہے۔ 27:48) جس اللہ والے سے مناسبت ہو اس سے اصلاح کا تعلق کرلو: یہی کہتا ہوں کہ اہل اللہ کی صحبت میں رہ لو تو جتنی کمزوریاں ہیں، شریعت کے جس حکم پر آج عمل کی ہمت نہیں ہورہی ہے، اگرچہ وہ عالم بھی ہے مگر عالم ِشریعت تو ہے، عامل ِشریعت نہیں ہے، اس کے پاس علم ہے مگر عمل نہیں ہے، معلوم تو ہے مگر معمول نہیں ہے،اس کا معلوم معمول نہیں بن رہاکیونکہ علم ایک روشنی ہے اورگاڑی کو اندھیرے میں چلنے کے لئے روشنی کے ساتھ پٹرول کی بھی ضرورت ہے،اگر موٹر میں روشنی ہے پٹرول نہیں ہے تو وہ کیسے چلے گی؟ 31:49) اس لئے اللہ والوں کے پاس جاؤ، کسی خانقاہ میں رہو، اختریہ نہیں کہتا کہ سب مجھ ہی سے مرید ہو جاؤ، اختر تو دعا کرتا ہے کہ اے اللہ جس کو مجھ سے مناسبت ہو، ان کو مجھ سے جوڑ دےاور جس کو کسی اورمرشد سے مناسبت ہو اس کو وہاں پہنچادے۔ان شاء اللہ، اﷲ والوں کی اور ان کے غلاموں کی چند دن کی صحبت کے بعد دیکھو کیا ملتا ہے!پھر مولانا منصور کا یہ شعرپڑھنا پڑے گا ؎ نظر سے مردہ دلوں کو ملی حیاتِ ابد یہ واقعہ مرا خود اپنا چشم دید ہوا 31:59) تینوں قل تین تین مرتبہ اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔ دورانیہ 34:40 | ||