فجر مجلس ۱۹ مئی ۲۶ء:غیر اللہ سے دوری اور اللہ سے حضوری ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم 08:12) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکراسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ 08:13) استغفاراوردرودشریف کی ایک تسبیح۔۔۔ 13:19) قلبِ شکستہ کی تعمیر::: مخلوق کے مقابلے میں حکمِ خالق سب سے زیادہ قیمتی ہے: اس پرمولانا رومی رحمہ اللہ کا ایک شعر یاد کرلیجیے، فرماتے ہیں ؎ گفت ایاز اے مہتران نامور امر شہہ بہتر بہ قیمت یا گہر دیکھئے!مولانا رومی کا کیا انداز ِبیان ہےکہ خدا کا حکم زیادہ قیمتی ہے یا حسن کے موتی جو سٹرکوں پر آج کل بکھرے ہوئے ہیں؟خود فیصلہ کرلو۔ لہٰذا جن کے قلب میں اللہ کی عظمت ہے، بڑائی ہے وہ اپنی آنکھوں کو بچاتے ہیں اور دل کو توڑتے ہیں اور اللہ کے قانون کا احترام کرتے ہیں، اس کے بدلے میںخدا ان کو بے مثل خوشی دیتا ہے۔ حق تعالیٰ کی ذات بے مثل ہے اور ان کی طرف سے عطائے لذت ِ قرب بھی بے مثل ہےجو نہ سلاطین کو حاصل ہے نہ سموسے پاپڑ جانتے ہیں، نہ دنیا بھر کی لیلائے کائنات اور مجانین ِعالم اس کو سمجھ سکتے ہیں، اسے صرف خدائے تعالیٰ کے عارف کاقلب محسوس کرتا ہے۔ 15:32) بس اب پڑھئے؎ ترے ہاتھ سے زیر تعمیر ہوں میں مبارک مجھے میری ویرانیاں ہیں جو پیتا ہے ہر وقت خونِ تمنا اسی دل پہ نسبت کی تابانیاں ہیں سارا سلوک اسی شعر میں ہے، رات بھر تہجد پڑھ لو اور دن بھر تلاوت کرلو لیکن اگر غیر اللہ سے دل لگایا یا لذت ِحرام کے لئے غیر اللہ کو دیکھااور نمک حرام چکھا تو ایسے ناشکروں کو اللہ تعالیٰ کیسے اپنا دوست بنائے گا اور کچھ دن کے بعد جب ان حسینوںکا حسن فنا ہوجائے گا تو آپ خود ان سے بھاگو گے؎ 17:25) بادشاہ محموداوروزیر ایّاز کا واقعہ اور حاصل ہونے والا سبق۔۔۔ 22:43) اِدھر جغرافیہ بدلا اُدھر تاریخ بھی بدلی نہ ان کی ہسٹری باقی نہ میری مسٹری باقی مجازی حسن کی ناپائیداری کا نقشہ اختر نے یوں کھینچا ہے؎ کمر جھک کے مثلِ کمانی ہوئی کوئی نانا ہوا کوئی نانی ہوئی ان کے بالوں پہ غالب سفیدی ہوئی کوئی دادا ہوا کوئی دادی ہوئی فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ کی تفسیر مولیٰ کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو؟ ﴿ فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ط ﴾ (سو رۃ الذٰریٰت : آیۃ ۵۰) لیلاؤںسے بھاگ کر مولیٰ کی طرف آجاؤ۔تفسیر خازن میں اس کی تفسیر لکھی ہے: (( فَفِرُّوْا اِلَی اللہِ اَیْ فَفِرُّوْا عَمَّا سِوَی اللہِ ِ اِلَی اللہِ )) (تفسیر الخازن:(دارالکتب العلمیۃ)؛سورۃ الذٰریٰت ؛ج۴ ص ۱۹۶) 28:27) دورانِ مجلس سونے پر ایک سالک کو نصیحت۔۔۔ 29:55) غیراللہ سے بھاگو اللہ کی طرف۔یہاں فرار کا لفظ نازل فرمایا ہے، اس فرار کا لفظ نازل کرنے میں تصوف کے ایک عظیم مسئلہ کی طرف اشارہ ہے کہ کسی حسین پر نظر پڑ جائے تو ٹکانا مت،پڑنا معاف ہے ٹکانا حرام ہے، نظر ٹکنے نہ پائے۔ اگر اچانک پڑ جائے تو فوراً ہٹا لو، ایک سیکنڈ بھی مت ٹکاؤ ورنہ اللہ کا فرار کا حکم تمہار ے قرار سے بدل جائے گا کیونکہ تم نے وہاں قرار اختیار کر لیا،تم اللہ کی نافرمانی میں ٹھہر گئے۔ 35:50) تینوں قل تین تین مرتبہ اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔ دورانیہ 37:34 | ||