عشاءمجلس ۲۲ مئی ۲۶ء:حدیث قدسی کی چھ عنوان سے الہامی شرح ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 03:09) بیان سے پہلے حسبِ معمول شمائل ترمذی سے تعلیم ہوئی۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک:۔۔۔ 03:09) معیت الہیہ::: ایک حدیث قدسی کی چھ عنوان سے عجیب الہامی شرح: حدیث شریف میں وارد ہے کہ: ((لَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہٗ فَاِذَآ اَحْبَبْتُہٗ فَکُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُ بِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا)) (صحیحُ البخاری، کتابُ الرِّقاق، باب التواضع، ج:۲، ص:۹۶۳) یہ حدیث قدسی ہے ۔ حدیث قدسی اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو حق تعالیٰ نے فرمایا ہو اور اس کے راوی سید نا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہوں ۔اس حدیث کی شرح بہت نازک ہے۔ حق سبحانہ و تعالیٰ نے میرے قلب پر اس حدیث کی شرح متعد دعنوانات سے القاء فرمائی ہے جو اہل علم کے لیے بڑے کام کی چیز ہے ۔ (ترجمہ) حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ بندہ برابر عباداتِ نافلہ کے ذریعے مجھ سے قرب حاصل کر تا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو محبوب بنا لیتا ہوں، پھر جب اس کو محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کی شنوائی ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی بینائی ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا دست و پا ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور جس سے وہ چلتا ہے۔ اب اس کی شرح ضروری ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی ذات پاک جسم اور مادّیات سے پاک ہے تو وہ کس طرح بندوں کے ہاتھ، پائوں، آنکھ، کان ہو جاتے ہیں ۔ یہ بہت نازک مقام ہےاﷲ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے کہ مجھ پر اس کی شرح بہت آسان فرما دی ہے۔ 10:14) (۱) شرح بعنوان اوّل: حق تعالیٰ نے ہر غذا اور ہر دوا میں کچھ خواص و آثار رکھے ہیں جیسی غذائیں اور دوائیں انسان استعمال کرتا ہے ان کے آثار و خواص اپنے تمام اعضاء میں محسوس کر تا ہے، مغزِ بادام، مکھن، گھی، دودھ اور جواہرات کے مرکبات مثلِ خمیرہ مروارید اور یاقوتی وغیرہ وغیرہ جسم کے اندر پہنچ کر جسم کے ہر رگ و ریشے میں نمایا ںہو جاتے ہیں، جس سے دل اور دماغ کی قوتوں میں نیز آنکھوں کی روشنی میں فوراً نفع محسوس ہوتا ہے، اب یہ مقوی غذائیں اور مقوی دوائیں بزبان حال اپنے خواص اور اثرات کے اعتبار سے کہہ سکتی ہیں کہ میں اس آدمی کی آنکھ کی روشنی ہوں اور اس کے کان کی شنوائی ہوں اور اس کا جوہر دماغ ہوں جب مادّیاتِ کثیفہ میں اتنا اثر حق تعالیٰ نے رکھا ہے تو ذکر و تلاوت اور نوافل کے انوار کا کیسا کچھ اثر ہوگا جرعہ خاک آمیز چوں مجنوں کند صاف گر با شد ندانم چوں کند جب خاک آمیز اور تلچھٹ ہی کا گھونٹ مجنوں کئے دے رہا ہے تو اگر صاف ہو گا تو نہ معلوم کیا کچھ بنا کر رہے گا۔ 12:38) حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿اَ لَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ﴾ (سورۃ الرعد، آیت: ۲۸) خوب سمجھ لو کہ حق تعالیٰ ہی کی یاد سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ ذکر اﷲ کی کیفیت اور اس کا اثر قلب تک ضرور پہنچتاہے، جس کا اثر دل میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دل کو اطمینان اور چین ملتا ہے۔۔۔ 23:15) (۲) شرحِ حدیثِ مذکور بعنوان ثانی: جب فرائض کے علاوہ بندہ طاعات ِ نافلہ کی کثرت کرتاہے تو اس کو حق تعالیٰ سے ایک خصوصی تعلق ہوجاتا ہے اور دنیا میں اس کا نمونہ موجود ہے کیونکہ عالم شہادت کو عالمِ غیب کا نمونہ بنایاگیاہے، دنیا میں جو غلام اپنے فرائضِ منصبی سے زیادہ کام کرتاہے وہ غلام مالک کا مقرّب بن جاتاہے۔ 30:21) (۳) شرحِ حدیثِ مذکور بعنوان ثالث: دنیامیں یہ نظیر بھی موجود ہے کہ والدین اپنی اولاد کو نورِچشم سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ ماں باپ کے اور اولاد کے اجسام الگ الگ ہیںاور اس حقیقت کا پتا اُس وقت چلتاہے جب اولاد کا انتقال ہوجاتاہے، قدرِنعمت بعد از زوال نعمت ہوتی ہے، جانے والی چیز آنے والی چیز کا پتہ دیتی ہے، اولاد کی جدائی میں ماں باپ کی آنکھوں کی روشنی گھٹ جاتی ہے اور بعض حالات میں غلبۂ حُزن اور غم سے بالکل آنکھیں بے نور ہوجاتی ہیں۔ 36:10) (۴) شرحِ حدیث بعنوان رابع: آفتاب کی روشنی جب جسم کے تمام اعضاء کو گرم کردے تو آفتاب زبان حال سے یہ کہہ سکتاہے کہ میں اس کی آنکھ ہوں، اس کا کان ہوں، اس کاتمام جسم ہوں۔ آفتاب کا اپنی حرارت کو اس عنوان سے تعبیر کرنا اپنے اثر کوبیان کرناہے ۔ اسی طرح حق تعالیٰ شانہٗ کا اس عنوان سے فرمانا عبادات نافلہ کے آثاروانوار کو بیان فرمانا ہے یعنی اس بندے کی بینائی اور شنوائی میں اور ہاتھ پاؤں میں اللہ تعالیٰ کے انوار اثرکرجاتے ہیں ۔۔۔ 36:39) (۵) شرحِ حدیثِ مذکور بعنوان خامس: کثرتِ ذکر اور طاعتِ نافلہ سے جب بندہ حق تعالیٰ کا مخصوص اور مقرّب بندہ ہوجاتاہے تو اس کے اعضاء کواپنی طرف منسوب کرنے میں ایک تعبیرہے اس مفہوم کی کہ اس بندے کے سارے اعضاء میری مرضی کے مطابق چلتے ہیں، میری مرضی کے مطابق دیکھتاہے، میری مرضی کے مطابق سنتاہے، جدھر چلاتے ہیں اسی طرف چلتاہے اور بندہ بزبان حال کہہ اٹھتاہے که؎ رشتۂ در گردنم افگندہ دوست می برد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست میری گردن میں دوست کی محبت کی رسّی ڈال کر جہاں وہ لے جانا چاہتاہے لئے جارہاہے۔ (۶) شرحِ حدیثِ مذکور بعنوان سادس: مرکب دواؤں میں متعدد اجزاء شامل رہتے ہیں لیکن ان اجزاء میں جو سب سے اشرف اور اعلیٰ جز ہوتاہے اسی نام سے اس مرکب دواء کا نام رکھ دیتے ہیں، مثلاً دواءُا لمسک ایک مرکب دواہے تو کیا اس کے سارے اجزا ء مشک ہیں جب ایسا نہیں ہے تو صرف مشک کی اضافت سے اس کا نام کیوں رکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب اطباء یہی دیتے ہیں کہ اس مرکب میں اگرچہ اور دوائیں بھی ہیں لیکن مشک ان میں سب سے اعلیٰ اور افضل جزء ہے، اسی لئے تمام اجزاکو اسی جزو اعظم کے تابع کردیتے ہیں اور پورے مرکب کانام جزواعظم کے نام پر رکھ دیتے ہیں۔ دورانیہ 44:20 | ||