مرکزی بیان   ۲۱  مئی  ۲۶ء:حضرت والا رحمہ اللہ کے حالات زندگی     !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

*09:27) بیان سے پہلے جناب مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔* *گلستانِ طیبہ سے مسرور ہوں گا*

*عجم کے بیاباں سے مفرور ہوں گا* گلستانِ طیبہ سے مسرور ہوں گا

میں دیدارِ گنبد سے مخمور ہوں گا کبھی نور ہوں گا کبھی طور ہوں گا

گناہوں سے اپنے میں رنجور ہوں گا بفیضِ شفاعت میں مغفور ہوں گا

اڑے گی ہوا سے جو خاکِ مدینہ میں ایسے غباروں میں مستور ہوں گا

میں روضہ پہ صل علی نذر کر کے بہ دل نور ہوں گا بہ جاں نور ہوںگا

مدینہ کے انوارِ شام و سحر سے سراپا دل و جاں سے مسرور ہوں گا

میں ممنون ہوں گا خدا کے کرم کا کبھی دل میں اپنے نہ مغرور ہوں گا

ہر اک امر میں راہِ سنت پہ چل کر خدا کے کرم سے میں منصور ہوں گا

اُحد کے شہیدوں کے خونِ وَفا سے سبق لے کے پابندِ دستور ہوں گا

مدینہ میں جب قلب و جاں چھوڑ آیا میں مہجور ہو کر نہ مہجور ہوں گا

قبا کی زیارت و نفلوں سے اخترؔ ہر اک راہِ سنت سے مخمور ہوں گا

09:28) بیان کاآغاز ہوا۔۔۔خطبہ۔۔۔::: غصہ اور اصلاح نہ کرانے کا نقصان۔۔۔

17:27) دُنیا کی ہرچیز کا معلوم ہے بس اگر معلوم نہیں تو دین کا معلوم نہیں ،سنت کی دُعائیں یاد نہیں۔۔۔

26:09) اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلے ہوئے آنسو بڑے قیمتی ہیں۔۔۔

29:50) اصلاح میں دیر مت کریں جن گناہوں میں مبتلا ہیں ان کی اصلاح کرائیں۔۔۔

31:56) گناہوں کی حسرت کا بھی خون کرنا ہے۔۔۔

33:29) ایک خاص نصیحت کہ کوئی بھی بات سن کرفوراً اس کو آگے مت پھیلائیں۔۔۔

37:34) دین کی سند کی اہمیت: علماء کی قدرسے متعلق حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا ملفوظ۔۔۔

42:33) علماءِ دین کی عظمت اور مقام::: حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات۔۔۔

48:05) گدی نشینی اورگدھا نشینی::: حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات۔۔۔

48:44) رشک ِاولیاء حیا تِ اختر::: حضرت والا رحمہ اللہ کے حالاتِ زندگی بیان ہوئے:: علالت سے رحلت تک کے حالات: احقر جامع عشرت جمیل میرعرض کرتا ہے کہ انتقال سے چند ماہ پہلے محرم ۱۴۳۴؁ھ مطابق دسمبر ۲۰۱۲؁ء سے حضرت والا بہت کم بات فرماتے تھے اور تقریباً آخری ایک مہینہ بالکل بات نہیں کرسکتے تھے۔کھانا نلکی کے ذریعہ دیا جاتا تھا مگرضعف زیادہ بڑھتا گیا۔رحلت سے ایک ہفتہ قبل ۱۵؍ رجب ۱۴۳۴؁ھ مطابق ۲۶ مئی ۲۰۱۳؁ء نہایت بشاشت کے ساتھ سلام کا جواب دیا اورہاتھ سے مصافحہ فرمایااور فرمایا کہ ’’چلو‘‘۔ عرض کیا کہ کہاں چلیں؟ تو مسکراکر خاموش ہوگئے۔

پانچ دن سے کسی کسی وقت اچانک حضرت والا کو آکسیجن لینے میں دشواری ہوجاتی تھی اور پھیپھڑے میں انفیکشن اور بلغم کی وجہ سے سانس لینے میں بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی تھی۔ ۲۸ مئی ۲۰۱۳؁ء کوجو کھانا نلکی سے دیا گیاتو سانس رکنےلگی۔ ڈاکٹرحضرات کے مشورے سے (250ml )کھانا جو نلکی سےدن میںدو تین دفعہ دیا جاتا تھا، اس کی خوراک کم کرکے صرف(50ml )رہ گئی تھی۔

ایک سفر میں حضرت والانے دعا فرمائی تھی اور اکثر دعا فرماتے تھے کہ میری موت پیر کے دن ہو، یہ جذبۂ عشق ِرسول تھا اور سنت ِغیر اختیاری کی درخواست تھی کیونکہ حضور ِاکرمﷺکی وفات بھی پیر کے دن ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت والا کی مراد پوری فرمائی اور حضرت کا انتقال بھی پیر کے دن بعد مغرب ہوا۔ حضرت حکیم الامت مجدد الملت تھانویh نے لکھا ہے کہ جمعہ کی موت تائبین کو نصیب ہوتی ہے اور پیر کی موت عاشقین کو نصیب ہوتی ہے۔

01:07:09) تمنّا ہے درختوں پر ترے روضے کے جا بیٹھے قفس جس وقت ٹوٹے طائرِ روحِ مقید کا اب ہر وقت نگاہوں کے سامنے ماضی میں حضرت والا کی خدمت میں گذرے ہوئے ایام کی جھلکیاں آتی ہیں اور دل کو تڑپاتی ہیں۔ حضرت والا کی شفقتیں، حضرت والا کے الطاف و کرم جب یاد آتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، حضرت والا نے ایسی محبت فرمائی کہ و اللہ! احقر ماں باپ کی محبت کو بھول گیا۔ ماں باپ سے بھی زیادہ حضرت نے شفقت و محبت کا معاملہ فرمایا۔

01:07:31) حضرت سراپا محبت تھے اور ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ حضرت مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں ۔ ناظم آباد میں تقریباً ۴۵ ؍ سال پہلے حضرت مولانا مظہر صاحب (جو اس وقت طالب علم تھے)سے احقر کے لئےفرمایا کہ آپ کو ایک پلا پلایا بھائی مل گیا۔ احقر تو حضرت والا کا غلام تھا، ایک غلام کو اپنے گھر کا فرد فرما کر عزت بخشی۔ حضرت والا کا شعر ہے جو حضرت نے اپنے شیخ حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کی وفات پر کہا تھا وہ اب احقر کا حال ہے

01:07:52) لطفِ تَو چوں یاد می آید مرا بوئے تَو جانم بجوید در سرا جب آپ کی محبت اور الطاف و کرم مجھے یاد آتے ہیں تو میری جان دیوانہ وار آپ کی خوشبو کو اس جہان میں تلاش کرتی ہے، اب جان ِعشرت بھی آپ کو تلاش کرتی ہے مگر آپ کو نہیں پاتی اور تڑپ کر رہ جاتی ہے۔ آہ کبھی وہ دن تھے کہ ؎ جنت کی مے پئے ہوئے ساقی تھا مستِ جام ساغر تھا دورِ مئے تھا مقابل میں ہم بھی تھے اک زلفِ پر شکن نے کیا تھا ہمیں اسیر آزاد ہو کے دامِ سلاسل میں ہم بھی تھے *

01:22:13) حالات زندگی سے متعلق درد بھرے اشعار حضرت والا دامت برکاتہم نے مفتی انوار صاحب سے پڑھنے کا فرمایا*