جمعہ  بیان   ۲۲  مئی  ۲۶ء:اللہ کے لئے نکلے ہوئے آنسوں کی قیمت   !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

15:07) بیان سے پہلے جناب مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ اور حضرت سید عشرت جمیل میر صاحب رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔

15:08) اشعارکے بعد حضرت والا رحمہ اللہ کی کتاب صحبتِ اہل اللہ کی اہمیت سے تعلیم کی۔۔۔

25:15) بیان کاآغاز ہوا۔۔۔خطبہ۔۔۔ انعام یافتہ لوگ اور اللہ تعالیٰ کی خاص دوستی۔۔۔ 33:36) دین مشکل نہیں ہمیں مشکل لگ رہا ہے۔۔۔ تجھ کوجو چلنا طریق عشق میں دشوار ہے تو ہی ہمت ہار ہے ہاں تو ہی ہمت ہار ہے ہر قدم پر تو جو رہرو کھارہا ہے ٹھوکریں لنگ خود تجھ میں ہے ورنہ راستہ ہموار ہے

37:40) مایوس کبھی نہیں ہوناتوبہ کے حمام میں جاکر توبہ کاغسل کرلو۔۔۔

41:31) تکبّر اور اکڑ بڑا ہی خطرناک مرض ہے۔۔۔

43:22) توبہ کادروازہ ہمیشہ کھلا ہوا ہے۔۔۔

54:10) ایک بادشاہ کا واقعہ جو خانہ کعبہ کو ڈھانے آیا تھا۔۔۔

01:07:00) اللہ تعالیٰ کی معافی کا سمندر لا محدودہے۔۔۔

01:13:16) اخلاص کے آنسوؤں کی قیمت::: ارشاد فرمایا کہاﷲ کے لیے جو آنسو نکل جائے تو جہاں وہ آنسو لگے گا اتنے حصہ پر دوزخ حرام ہوگی لہٰذا جب اﷲ کے خوف سے یا اﷲ کی محبت سے رونا آجائے تو آنسوؤں کو ہتھیلی کی مدد سے چہرے پر پھیلا لو، میرے شیخ شاہ عبد الغنی رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح پھیلاتے تھے اور فرماتے تھے کہ حکیم الامت بھی اسی طرح آنسوؤں کو پھیلاتے تھے۔۔۔

01:19:40) ہردُعا قبول ہوتی ہے۔۔۔

01:21:59) اس آنسو پر چارقسم کی روایتیں ہیں: ایک یہ کہ مکھی کے سر کے برابر آنسو نکل آئے تو دوزخ کی آگ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔(۲)جہاں جہاں آنسو لگتے ہیں وہاں آگ حرام ہو جاتی ہے تو آنسوئوں کو مَل بھی لینا چاہیے، چہرے پر پھیلا لو، داڑھی میں خوب لگا لو تاکہ زیادہ سے زیادہ حصے پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے۔ اور پھر جب وہ جُز کو جنت کے لئے اٹھائیں گے تو کُل بھی لے لیں گے کیونکہ کریم کی شان کے خلاف ہے کہ ہمارے جُز کو جنت میں داخل کر دے باقی کو جہنم میں پھینک دے۔(۳)ایک روایت میں ہے کہ کچھ آنسو زمین پر گر جائیں ، لہٰذا کبھی کبھی بغیر مصلّے کے زمین پر نماز پڑھ کے آنسو گرا لو۔ اور زمین کے حکم میں موزیک کا فرش بھی داخل ہے کیونکہ جس پر تیمم جائز ہو وہ سب زمین کی جنس ہیںلہٰذا قالینوں سے ہٹ کر کہیں ایسی جگہ رو لو۔ اور اگر اتنا آنسو نہ نکلے تو سجدے میں رو لوتاکہ ایک قطرہ بھی گر جائے۔(۴)اوراگر رونا نہ آئے تو رونے والوں کی شکل بنالو۔

01:24:52) توبہ کرنے والا اللہ کا پیارا ہوجاتا ہے: حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ نے عشاء کے بعد سجدہ میں جو سر رکھا تو فجر کی اذان تک یہ شعر پڑھتے رہے ؎ اے خدا ایں بندہ را رُسوا مکُن گر بدم من سِرِّ من پیدا مکُن اے خدا! امداد اﷲ کو رُسوا نہ کرنا، اگرچہ میں گنہگار ہوں لیکن میرے گناہوں کو ظاہر نہ کرنا،میری رسوائی کو مخلوق پر ظاہر نہ کرنا

01:27:22) توبہ کی قبولیت اس وقت تک ہے جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے۔۔۔

01:28:34) اعلیٰ درجہ یعنی اخص الخواص کی توبہ:۔۔۔ توبہ میں دیر نہ کریں۔۔۔

دورانیہ 1:27:32;