اتوارمجلس ۲۴ مئی ۲۶ء:انسان کا مقصد زندگی ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 10:04) بیان کے آغاز میں اشعار کی مجلس ہوئی۔۔ 16:05) بیان کا آغاز ہوا۔۔ 23:51) گناہوں پر تلخ زندگی۔۔ 31:48) انسان کا مقصدِ زندگی۔۔ 42:37) اللہ تعالی کا کوئی شکر ادا نہیں کرسکتا بس معافی سے کام چلے گا۔۔ 44:01) ملفوظ حضرت والا رحمہ اللہ۔۔ الٰہ آباد کے میرے بزرگ مولانا شاہ محمد احمد صاحب اور میرے شیخ حضرت ہردوئی مولانا شاہ ابرار الحق صاحب دونوں بزرگوں کا آج کل یہ مشورہ ہے کہ تین نام اﷲ کے لیجئے یَا اَللّٰہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ۔ بسم اﷲ شریف میں یہ تین نام ہی نازل ہوئے ہیں اللّٰہ، رَحْمٰن، رَحِیْم، چلتے پھرتے یَا اَللّٰہُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ پڑھتے رہیے اور آٹھ دس دفعہ کے بعد رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ پڑھ لیجئے۔استغفار و توبہ کی برکت سے انشا ء اﷲ تعالیٰ اﷲ ہم کو عافیت میں رکھیں گے اور گناہوں کی سزا سے بچا لیں گے 01:02:47) دین کس حکمت سے پھیلانا ہے؟ 01:03:11) میرے شیخ نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں فرمایا کہ تم تین ہزار تنخواہ پاتے ہو توکیا پانچ روپے بھی چندہ نہیں دے سکتے ہو؟ صرف چندہ مانگنا ہی جانتے، ہو دینا کیوں نہیں جانتے؟ پانچ روپیہ دو تمہارا بھی حصہ لگ جائے گا۔ اس لیے مولوی کو بھی اﷲ کے راستہ میں دینا چاہیے۔ مفتی شفیع صاحب رحمۃاﷲعلیہ فرماتے تھے کہ اے مولویو! ہروقت چائے پی کر جزاک اﷲ کہہ دیتے ہو کبھی تم بھی تو پلایا کرو۔ تویہ بتادیا کہ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ کا ہی تصور رکھو کوئی نہ دے تواس کی غیبت نہ کرو یہ کہو اَللّٰھُمَّ لَامَانِعَ لِمَااَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ اس پر مانع کی تجلی ہوئی اِس لیے یہ نہیں دے رہا ہے 01:04:57) اور اُس پر مُعطی کی تجلی ہوئی تبھی اس کو دینے کی توفیق ہوگئی، دونوں زیرِ سایۂ تجلی ہیں، جس کے دل میں ہمت نہیں آرہی ہے کنجوسی آگئی تو یہ اسمِ مانع کا مظہر ہے اور جودے رہاہے وہ اسمِ مُعطی کا مظہر ہے،مہتمم کو دونوں تجلی دیکھنا چاہیے اور شکایت نہیں کرنا چاہیے، اس کے اِستحضار سے دل پھرسکون سے رہے گا، غم نہیں رہے گا، کسی سے شکایت نہیں ہوگی لیکن اﷲ سے پناہ مانگو کہ اﷲہمارے اوپر اسم مانع کی تجلی نہ کر، اسمِ معطی کی تجلی نازل فرما، توفیق عطا فرما، سلطنت دینے کا ایمان عطا فرماکہ اگر سلطنت ہوتی تو اﷲپر قربان کردیتا۔ 01:13:02) یَا صَمَدُ کی شرح یَا صَمَدُکی تشریح حضرت ابوہریرہ رضی اﷲعنہٗ سے منقول ہے کہ اَلْمُسْتَغْنِیُّ عَنْ کُلِّ اَحَدٍ ، صمد وہ ہے جو سارے عالم سے بے نیاز ہو وَ الْمُحْتَاجُ اِلَیْہِ کُلُّ اَحَدٍ اور سارا عالم اس کا محتاج ہو۔ اس اسمِ مبارک کی برکت سے مرتے دم تک محتاج نہیں ہوگے، اپنی بیوی سے بھی نہیں کہوگے کہ ذرالیٹرین تک لے چلو، اس کی برکت سے ان شاء اﷲ مخلوق کے محتاج نہیں ہوگے، شانِ صمدیت سے اتنا حصہ مل جائے گا کہ ہم پورے عالم سے مستغنی رہیں گے۔ 01:22:43) خلفاء حضرات کے لیے اہم نصیحتیں کہ شیخ کے پاس آنے کی فکر نہیں اور دوسرے شہروں میں دس دس دن کے لیے جارہے ہیں اور ایک دن بھی شیخ کے پاس لگانے کے لیے تیار نہیں۔۔ دورانیہ 1:27:18 | ||