عشاءمجلس  ۲۴  مئی  ۲۶ء:مریض کی عیادت :تسلی اور ہمدردی      !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

*مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی*

*بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم*

01:41) آدابِ معاشرت کا خلاصہ کہ ہماری ذات سے کسی کو بھی تکلیف نہ پہنچے۔۔

08:45) کچھ اہم اصولوں پر یاد دیہانی۔۔

10:46) حسب معمول شمائل ترمذی سے تعلیم۔۔

16:09) ((لَا یَزَالُ عَبْدِیْ اس پر دو دن سے بیان چل رہا ہے آج آگے مزید بیان ہوا

19:16) حدیث بالا کی تفہیم ایک انوکھی مثال سے میرے شیخ نے فرمایا کہ یہ حدیث لَایَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ سمجھانے کے لیے علماء دین کو پسینے آجاتے ہیں مگر میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں جو میرے اﷲ نے مجھ کو عطا فرمائی۔ یہ بتاؤ کہ اگر کسی آدمی پر یہاں رسٹن برگ میں جن چڑھ جائے اور وہ جن انگریزی نہ بولتا ہو سعودیہ کا ہو اور عربی بول رہا ہو اور یہاں کے لوگوں نے اس آدمی سے کبھی عربی نہ سنی ہو کیونکہ اس نے کبھی عربی نہیں پڑھی، وہ تو انگلش اسپیکنگ تھا تو آپ لوگ کہیں گے کہ یہ تو عربی جانتا ہی نہیں، یہ تو جن بول رہا ہے، آج اس پر سعودیہ کا جن آگیا اور جب وہ اجنبی آنکھوں سے اپنے رشتہ داروں کو دیکھتا ہے تو وہ لوگ کہتے ہیں یہ نہیں دیکھ رہا ہے، یہ میرا بھائی نہیں ہے یہ تو جن دیکھ رہا ہے اور اگر وہ ایک طمانچہ ماردے تو کہتے ہیں میرے بھائی نے مجھ کو نہیں مارا جن نے مارا ہے تو جس پر جن غالب ہوتا ہے تم اس کے سارے عمل کو جن کی طرف منسوب کرتے ہو تو جس پر خدا غالب ہوتا ہے، جس پر اﷲ کی یاد اور اﷲ کی محبت اور اﷲ تعالیٰ کی ذات کا غلبہ ہوجاتا ہے اس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم اس کی آنکھ بن جاتے ہیں جیسے آپ لوگ کہتے ہیں کہ میرا بھائی جو مجھے دیکھ رہا ہے یہ دراصل جن مجھے دیکھ رہا ہے، وہ اگر گالی دے دے تو بھی معاف کردیتے ہو، کہتے ہو کہ بھئی اس کا قصور نہیں ہے، میرے بھائی پر اس وقت کوئی خبیث جن آگیا ہے۔

23:03) حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا تھا کہ جتنے سچے متبع شریعت و سنت شیخ ہوتے ہیں جنات بھی ان سے مرید ہوتے ہیں، لہٰذا جو اُن سے مرید ہوجاتا ہے تو جتنے جنات ہیں وہ سب اس کے پیر بھائی ہوجاتے ہیں، پھر اس کو کوئی جن نہیں ستائے گا ان شاء اﷲ تعالیٰ، کیونکہ جنات دوسرے جنات سے کہہ دیتے ہیں کہ دیکھو یہ میرا پیر بھائی ہے، خبردار جو ستایا! بھائی بھائی کے لیے جان دے دے گا۔

23:20) ایک آدمی پر جن تھا۔ مفتی صاحب نے ان سے فرمایا کہ تم کسی اﷲ والے سے بیعت ہوجاؤ پھر اس کے جتنے مرید جنات ہیں وہ تمہارے پیر بھائی بن جائیں گے تو جب جنات ستائیں گے تو تمہارے پیر بھائی تمہارا دِفاع کریں گے۔ یہ میں نے مفتی صاحب سے خود سنا، اﷲ تعالیٰ کا کیا عجیب نظام ہے، لیکن ایک بات ہے کہ جن جب کسی انسان سے مرید ہوتا ہے تو وہ بتاتا نہیں ہے کہ میںجن ہوں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرے شیخ کواگر معلوم ہوجائے کہ میںجن ہوں تو میرے آتے ہی اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ دیوبند میں ایک جن طالب علم تھا، ا ستاد نے کہا کہ چراغ بجھا دو، چراغ بہت دور تھا، اس نے وہیں سے بیس فٹ کا لمبا ہاتھ بڑھا دیا تو استاد بے ہوش ہوگئے۔

30:04) مریض کی عیادت کی سنت۔۔۔

34:16) تسلی اور ہمدردی۔۔ *

دورانیہ* *53:13*