بیان  ۲۷  مئی  ۲۶ء:حضرت ابراہیم ؑ وحضرت  اسماعیل ؑ  کی عظیم قربانی کا واقعہ      

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی

بیان:عارف باللہ حضرتِ اقدس حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم

06:17) بیان کا آغاز ہوا۔۔۔خطبہ۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف فرمائے اور حاجی صاحبان کے حج کو قبول فرمائے اور ہماری قربانی کو بھی قبول فرمائے۔۔۔ یہ قربانی توصاحبِ استطاعت پر فرض ہے ہی لیکن ایک قربانی جو ہر وقت ہے یعنی نفس کی قربانی،یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں کو نہ کرکہ نفس کی خواہش پر عمل نہ کرنا یہ ہر ایک پر فرض ہے۔۔۔

06:19) عیدین اور حیات ِتقویٰ کا حصول::: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اہلیہ اور بیٹے کو مکہ مکرمہ میں چھوڑنا: تو دیکھو!اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک بیٹے کی بشارت دی ان کی اس دعا رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ کے صدقہ میں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے تھے،مفسرین لکھتے ہیں کہ جب اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال تھی ((فَبَشَّرَهُ اللهُ تَعَالٰى بِغُلَامٍ حَلِيْمٍ وَّهُوَ اِسْمٰعِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِاَنَّهٗ اَوَّلُ مَنْ وُّلِدَ لَهٗ عَلٰى رَأْسِ سِتٍّ وَّثَمَانِيْنَ سَنَةً مِّنْ عُمُرِ الْخَلِيْلِ)) (البدایۃ و النھایۃ : (دار احیاء التراث ) ؛ ج ۱ ص ۱۸۱) آج بھی جس کو اولاد نہ ہوتی ہو یہی آیت زیادہ پڑھے رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔

اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کوایک بچہ دیا جس کا نام اسماعیل علیہ السلام رکھا،جو بڑا ہی برداشت والا ہے۔ملکِ شام سے پھر حکم ہوا کہ اب ہجرت کیجئے،اپنی بیوی کو اور بچے اسماعیل علیہ السلام کو لے کر حجاز ِمقدس چلے جائیے مکہ شریف کے لق و دق پہاڑوں میں صفا مروہ کے درمیان ان کو چھوڑ کر شام واپس چلے جائیے۔ اللہ اکبر!چھوٹا دودھ پیتا بچہ اور اہلیہ کو ایسے جنگل،لق و دق میدان میں چھوڑ دیجئے جہاں اس زمانے میں بھیڑیئے بھی بہت تھے۔مائی ہاجرہ علیہ السلام نے پوچھا اے ابراہیم! مجھے اور اس بچہ کو تنہاچھوڑ کر جارہے ہو، کیا خدا کے حکم سے جارہے ہو؟فرمایا ہاں! میں اللہ کے حکم سے جارہا ہوں مائی ہاجرہ علیہ السلام نے اس پر کیا عجیب جواب دیا،ان عورتوں کا ایمان بھی کیسا تھا! وہ صحابیہ تھیں،پیغمبر کی بیوی جو ایمان لائے تو کیا صحابیہ نہیں ہے؟ ان کا ایمان دیکھو کہ فرمایا پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا،جب آپ وحی ٔالٰہی سے جارہے ہیں تو خدا ہماری حفاظت اور پرورش کے لئے کافی ہے۔

14:12) قربانی پر اعتراض کرکہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت مت کریں۔۔۔۔ قربانی گوشت کی نیت سے نہیں کرنی چاہیے۔۔۔ آج کے دن اللہ تعالیٰ کو خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل محبو ب نہیں۔۔۔

15:23) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب اور اسماعیل علیہ السلام کا مشورہ: پھرجب اسماعیل علیہ السلام تیرہ سال کے ہوگئے،اور بعض روایات میں ہے کہ جب بالغ ہوگئے اور اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگے: (( اِنَّ اِسْمٰعِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ شَبَّ حَتّٰى بَلَغَ سَعْيُهٗ سَعْیَ اِبْرٰهِيْمَ قِيْلَ كَانَ سِنُّهٗ ثَلٰثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَّقِيْلَ سَبْعَ سِنِيْنَ)) (تفسیر المظھری:(رشیدیہ) ؛سورۃ الصافات: ج ۶ ص ۱۰۱) تب حضرت ابراہیم علیہ السلام کنے تین رات مسلسل خواب میں دیکھاکہ میں اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کررہا ہوں تو بلا کر حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا: یٰبُنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی بڑھاپے کی اولاد اور ایک ہی بیٹا،اس وقت تک حضرت اسحٰق علیہ السلام پیدا نہیں ہوئے تھے،اکلوتی اولاد ہو اور وہ تیرہ سال کی ہوجائے،کوئی اور اولاد بھی نہ ہو،اس سے فرمایا کہ اے میرے پیارے بیٹے!میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کررہا ہوں،تمہارا کیا مشورہ ہے؟چونکہ نبیوں کا خواب بھی وحی ہوتا ہے لہٰذا اپنے بیٹے سے مشورہ لیا۔ مشورہ اس لئے نہیں لیا کہ اللہ کی وحی کے خلاف چلیں گے،اس لئے مشورہ لیا کہ ذرا بیٹے کو دیکھیں کہ اس کا ایمان کیسا ہے؟اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے ابّاجان! یٰٓاَ بَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُجو اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے اس پر عمل کرلیجیے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ تیرہ سال کے اس بچے کو کیا اللہ نے علم عطا فرمایا کہ پیغمبر کا خواب بھی وحی ہوتا ہے،ورنہ شبہ کرتے کہ یہ خواب کی باتیں ہیں،کوئی فرشتہ تو وحی نہیں لایا ہے،لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام و چونکہ آئندہ نبوت ملنے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا کہ تمہارے باپ پیغمبر ہیں،پیغمبر کا خواب وحی ٔالٰہی کا درجہ رکھتا ہے۔اور یہ بھی اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَاۗءَ اللہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ اے میرے ابّاجان! آپ فوراً اس حکم پر،حکمِ الٰہی پر عمل کیجئے، آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

25:16) اے ابراہیم! تم عظیم الشان امتحان میں پاس ہوگئے،بلائے مبین فرمایا، معمولی امتحان نہیں تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس امتحان پر میرا ایک قطعہ سن لیجیے جس میں مَیں نے اس وقت کا نقشہ کھینچا ہے جب آہ! وہ اللہ کے راستہ میں، خدائے تعالیٰ کی محبت میں اپنے بیٹے کی گردن پر چھری رکھ رہے تھے۔ یہ ہے عشق میں امتحاں کس بشر کا بنائے ذبیحہ جو اپنے پسر کا پدر سے ہے اعجاز قلب و جگر کا معجزہ دکھایا جارہا ہے کہ میرا پیغمبر ابراہیم کا دل و جگر تو دیکھو کہ میرے عشق میں کیا عمل کررہا ہے ؎ پدر سے ہے اعجاز قلب و جگر کا پسر سے ہے اعجاز تسلیمِ سر کا ترے عشق میں کیا گوارہ نہیں ہے ترے سامنے کچھ ہمارا نہیں ہے اللہ کے سامنے جان مال آبرو کی قیمت لگانے والا مومن ِکامل نہیں ہوسکتا۔

26:19) حج کے تمام مناسک وحیٔ الٰہی سے مقرر شدہ ہیں: یہ دنبہ جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا،اسی حکم سے آج ہم لوگوں پر قربانی فرض ہورہی ہے،یہ اصل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا بدل ہے، اس قربانی کو معمولی مت سمجھو۔حج کے تمام مناسک وحی ٔالٰہی سے مقرر شدہ ہیں، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذبیحہ،مائی ہاجرہ کی صفا مروہ کی دوڑ،اور تین مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو شیطان نے بہکانا چاہا سب سے پہلے حضرت ہاجرہ علیہ السلام کے پاس آکر کہا کہ تیرا شوہر تیرے بیٹے کو ذبح کرنے لے جا رہا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ نے اسے یہ حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میرے رب نے حکم دیا ہے تو اس کی اطاعت سے بہتر کوئی بات نہیں۔پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے کان میں آکر کہا کہ تیرا ابّا تجھے ذبح کرنے لے جارہا ہے،(تفسیر مظہری:(رشیدیہ)؛ج۶ص۱۰۳)انہوں نے بھی ایسا ہی جواب دیا تب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے وحی ٔالٰہی سے اسے سات کنکریاں ماریں،شیطان وہیں دفن ہوگیا،پھر دوسری جگہ،پھر تیسری جگہ ایسا ہی کیا۔ حج میں تین شیطان کو جو کنکری ماری جاتی ہے وہ یہی تین شیطان ہیں۔تینوں کو آج بھی حاجی کو پٹائی کرنی ہوتی ہے،اور چھوٹی کنکری چنے کے برابر، چنے سے کچھ بڑی لینا سنت ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ چھوٹی کنکری مارنے سے کیا ہوگا؟ شیطان ہمارا اتنا بڑا دشمن ہے تو اسے بڑے بڑے پتھر مارنے چاہئیں۔ نہیں، یہ ظالم سنت کی عظمت سے بے خبر ہیں،ایسے لوگوں کو اپنی آنکھوں سے میں نے دیکھا کہ ایک ہاتھ میں کیتلی لئے ہوئے ہے اوردوسرے میں جوتے سے شیطان کی پٹائی کررہا ہے۔شاید چائے کا عاشق تھا، ایک ہاتھ میں کیتلی لئے شیطان کے اوپر چڑھا ہوا اور اپنی پرانی پشاوری چپل سے دھنا دھن شیطان کو پیٹ رہا ہے، وہاں عرب پولیس والے ہنس رہے ہیں کہ کہاں سے بیوقوف آگئے۔ تو شیطان کو اسی چھوٹی کنکری سے تکلیف ہوتی ہے جو سنت کے مطابق ہو۔

29:55) اللہ تعالیٰ کے حکم سے چھری کے نیچے پیتل کا ٹکڑا آجانا: اب دیکھئے!حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ میں چھری ہے،بیٹے کو چہرہ زمین کی طرف کرکے لٹا رکھا ہے،اس کی گردن پر پھیرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بچارہے ہیں،چہرہ نیچے کیوں رکھا؟ یہ مشورہ بھی اسماعیل علیہ السلام کا تھا کہ ابّاجان! میرے چہرے کی طرف چھری نہ رکھئے،آپ کو کہیں پیار نہ آجائے۔ اس کے بعد مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چھری اور گردن کے درمیان کوئی پیتل کی چیز رکھ دی: پیتل کا چھوٹا سا ٹکڑا جیسا کچھ رکھ دیا،جس سے کوشش کے باوجود ذبح نہیں ہورہا تھا۔فوراً آواز آئی کہ اے ابراہیم! تم نےخواب کو سچا کر دکھایا،تم پاس ہوگئے۔

39:56) تین قسم کے لوگوں کو چارقسم کا عذاب۔۔۔

42:25) حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی سے حاصل ہونے والا سبق۔۔۔

48:18) قربانی اورریّا ۔۔۔

51:29) حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا سبق آموز واقعہ۔۔۔

54:20) قربانی کے گوشت کے معاملے میں غرباء اور اپنے ماتحتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔۔۔

56:30) کھلم کھلا گناہ،اورتوبہ کا دروازہ۔۔۔

دورانیہ 53:10