مرکزی بیان ۲۸ مئی ۲۶ء:مختلف مضامین عشق و معرفت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 09:36) بیان سے پہلے جناب مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔ مبارک مجھے میری ویرانیاں ہیں زباں سے تو اے دوست شہبازیاں ہیں بہ باطن مگر آہ خفاشیاں ہیں حقارت سے مت دیکھ ان عاصیوں کو کہ توبہ کی برکت سے درباریاں ہیں جو پر ہیز کرتا نہیں معصیت سے انہیں راہ میں سخت دشواریاں ہیں گناہوں کے اسباب سے دور ہو گے تو منزل میں ہر وقت آسانیاں ہیں دوائے دل سالکاں عشق حق دلوں میں بہت گرچہ بیماریاں ہیں رہ حق میں ہر غم سے کیوں ہے گریزاں رہ عشق میں کب تن آسانیاں ہیں یہ خون تمنا کا انعام دیکھو جو ویرانیاں تھیں وہ آبادیاں ہیں فدا ان کی مرضی پہ اپنی رضا کر فقیری میں دیکھے گا سلطانیاں ہیں ترے ہاتھ سے زیر تعمیر ہوں میں مبارک مجھے میری ویرانیاں ہیں جو پیتا ہے ہر وقت خون تمنّا اسی دل پہ نسبت کی تابانیاں ہیں تجلی ہر ایک دل کی اخترؔ الگ ہے مہربانیاں، جیسی قربانیاں ہیں 09:37) پھرجناب محمد مصطفیٰ مکی صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔ دل تباہ میں فرماں روائے عالَم ہے تباہ ہو کے جو دل تیرا محرمِ غم ہے اُسے پھر اپنی تباہی کے غم کا کیا غم ہے ہزار خونِ تمنّا ہزارہا غم سے دلِ تباہ میں فرماں روائے عالَم ہے مجھے اس عالَمِ رنگ و بو سے کیا مطلب مری حیات تو بس آپ ہی کا اِک غم ہے خرد کے سامنے گرچہ ہیں صد ہزار عالَم نگاہِ عشق میں تیرا ہی ایک عالَم ہے جو آپ خوش ہیں تو ہر سُو بہار کا عالَم وگرنہ سارا یہ عالَم ہی عالَمِ غم ہے جو خوش ہیں آپ تو عالَم ہمارا عالَم ہے نہیں تو اپنا بھی عالَم تباہ و برہم ہے یہ پوچھتا ہے مرے دل میں اب ترا جلوہ کہاں ہے اور کدھر آرزو کا عالَم ہے نظامِ ہوش کا اخترؔ ہے اب خدا حافظ ہماری روح کہیں ماورائے عالَم ہے 30:01) بیان کاآغاز ہوا۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددُعا اورعتبہ بن ابی لہب کا انجام۔۔۔ 38:31) حضرت والا رحمہ اللہ کا 1986 کا بیان جس کا مضمون بیان کیا: اللہ تعالیٰ نے جس کا جیسا مزاج بنایا ہے اس کے لیے ایسا ہی صحیح ہے۔۔۔ 45:14) مایوسی سے نکلنے کا مضمون: ایک پیاسی مکھی کو سیاہی پیلانے کاواقعہ اور اس پر بخشش۔۔۔ 52:14) اخلاص اور اس کی اہمیت۔۔۔ 52:30) ایک تاجر کا واقعہ جو لوگوں کو مہلت دیتا تھا اسی پر اس کی بخشش ہوگئی۔۔۔ 54:07) بخشش کے مختلف واقعات۔۔۔ 57:13) مرید ہونے سے سلسلہ کے تمام بزرگوں کی دعا مل جاتی ہے: 01:00:16) اہل اللہ کی صحبت کی برکات: اس لئے فرمایا کہ اللہ والوں کی صحبت کوغنیمت سمجھو، یہ کنکشن معمولی نعمت نہیں ہے۔ اگر تھرڈ کلاس کا ڈبہ کہے کہ ارے ہمارا کیا ہو گا؟ ہم تو چوں چاں کررہے ہیں، اسکرو ہمارے ڈھیلے ہیں،کنڈم کو کون پوچھے گا،تم ذرا جُڑکر تو دیکھو، جہاں فرسٹ کلاس کے ڈبے پہنچیںگےاس تعلق کی برکت سے آپ بھی وہیں پہنچیں گے ان شاء اللہ ،اور یہاں تو تھرڈ کلاس کا ڈبہ ہمیشہ تھرڈ کلاس کا ہی رہتا ہے مگر اللہ والوں سے تعلق کے بعد تھرڈ کلاس والے لوگ،یعنی کانٹے بھی پھول بن جاتے ہیں،اللہ انہیں بھی خلعتِ گل عطا کرتا ہے،جو کانٹوں کی طرح بداخلاق ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے بُرے اخلاق کو اچھا کرکےان کو بھی اللہ والا بنا دیتا ہے۔ 01:00:48) حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کے سلسلے کی برکات: 01:02:16) خلافت جنت کی ضمانت نہیں: 01:03:17) فہم اور عقل میں نورانیت کیسے پیدا ہوگی؟حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا ملفوظ۔۔۔ 01:08:24) رزق میں برکت اور گم شدہ چیز ملنےکے لیے ایک خاص مجرب وظیفہ۔۔۔ 01:11:46) پریشانیوں کی وجہ۔۔۔حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی نصیحت۔۔۔ 01:12:48) حضرت والا رحمہ اللہ کا مضمون۔۔۔ یہ رحمت ہے خدا کی خوش مزاجی خوش دلی میری میں روتوں کو ہنسادوں غمزدوں کو شادماں کردوں 01:15:37) ۔۔۔میں اس زمانے میں جو یہ مضمون پیش کررہا ہوں اگر اس پر عمل کرلو تو چند دن میں اس مقام پر پہنچوگے جہاں سو سو سال تک تہجد پڑھنے والے نہیں پہنچ سکتے اور جو اس گناہ سے نہیں بچے وہ دلدل ہی سے نہیں نکلے، آب و گِل میں پھنسے رہے، تہجد ہمیں اﷲ تک نہیں پہنچا سکتی جب تک کہ ہم ان ڈاکوؤں سے نہیں بچیں گے جو ہمارے انوارِ تہجد پر ڈاکہ مارتے ہیں۔ 01:16:53) ایک شخص نے خواب دیکھا کہ میںنے اپنے ہاتھ سے انہیں یوں پکڑا اور اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیا، میرا ہاتھ اتنا لمبا ہے اور وہ ڈر رہے ہیں، وہ اتنا اوپر اُٹھے کہ دنیا چھوٹی معلوم ہونے لگی جیسے جہاز سے دنیا چھوٹی معلوم ہوتی ہے انہوں نے دیکھا کہ میں نے انہیں آسمان تک پہنچا دیا یعنی میرا ہاتھ اﷲ نے اس قدر لمبا کردیا تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ امید ہے کہ حق تعالیٰ اختر کی روح کو ایسی قوت عطا فرمائیں گے کہ میرے احباب اور مریدین اس مقام پر پہنچیں گے جو اُن کی امیدوں سے بھی زیادہ ہے، ان شاء اﷲ میری قوتِ روحانیہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے اتنی قوی ہوجائے گی کہ لوگ حیران رہیں گے کہ اتنی جلد ہم کہاں پہنچ گئے، میں چاہتا ہوں کہ اولیاء صدیقین کی منتہا تک آپ اﷲ کے مقرب ہوجائیں۔ تو کیا اختر آپ پر ظلم کررہا ہے؟ بولو بھئی! کیا میں ظالم ہوں؟ یہ میرا ظلم ہے؟ میں اپنے دردِ دل سے مجبور ہوں، میرا دل چاہتا ہے کہ اختر بھی اور میری اولاد بھی اور میرے احباب بھی کوئی محروم نہ رہے اور صدیقین کی خط انتہا تک پہنچ جائے اور میں اپنی آنکھوں سے اپنے ان احباب کو دیکھ لوں۔ 01:22:31) آہ جائے گی نہ میری رائیگاں تجھ سے ہے فریاد اے ربِّ جہاں میں خالی باتیں ہی نہیں بناتا، تنہائیوں میں اس کے لیے اﷲ سے رو بھی رہا ہوں، جس مقام کی طرف میں آپ کو لے جانا چاہتا ہوں، اﷲ تعالیٰ اپنے کرم سے اختر کو، آپ سب کو اس مقام پر فائز فرمائے تو اپنی شیرانیت پر تمہیں اتنی خوشی ہوگی کہ ماضی پر خون کے آنسو روؤ گے کہ اب تک کیوں میں نے اﷲ کو ناراض کرکے حرام لذت حاصل کی۔ اﷲ کے قرب کی لذت معمولی بات ہے؟ یہ نصیب دوستاں ہے، اﷲ کا ولی بننا معمولی نعمت ہے؟ لیلاؤں سے قریب ہوکر تم کو اب تک کیا ملا؟ میں پوچھتا ہوں اپنا ماضی حال بتاؤ، لیلاؤں سے بدنظری کرکے سوائے اس کے اور کیا ہوا کہ تمہارا دل برباد ہوا اور تمہیں ان کے گراؤنڈ فلور کے مقامات کی سیر کی تمنا پیدا ہوئی بلکہ بعض لوگوں نے تصور میں سب کچھ کرلیا، اپنے فصل کو تصور میں وصل سے کنورٹ کرکے وہ بنوٹ چلائی کہ بعضوں کو عالمِ تصور میں غسل تک واجب ہوگیااور غسل کرنا پڑا عالمِ حقیقت میں۔ تو میں آپ کو پیشاب پاخانے کے مقامات سے کھینچ کھینچ کر عالمِ قدس کی طرف، اپنے خالق و مالک اور پالنے والے سے قریب کررہا ہوں تو کیا یہ میرا ظلم ہے یا میرا خلوص ہے؟ بولو بھئی۔ ہمت سے کام لو، اﷲ کا راستہ بہت آسان ہے اور گناہ کرنا مشکل ہے کیونکہ منکر کام ہے، منکر اجنبی ہے اور اجنبی سے ملاقات میں دل گھبراتا ہے، ہر برائی منکر ہے اور ہر نیکی معروف ہے، معروف کے معنیٰ ہیں جانی پہچانی چیز، آدمی جانی پہچانی معروف چیز سے مانوس ہوتا ہے۔ اس لیے گناہ مشکل ہے بلکہ اس میں کئی مشکلات ہیں، اوّل تو خود مشکل میں پڑتا ہے، اس کی یاد ستاتی ہے، ہر وقت غمگین رہتا ہے، کھانا بھی اچھا نہیں لگتا، پینے کا مزہ بھی نہیں ہوتا، ہروقت کھوپڑی میں اس کی یاد کا کھونٹا گڑا رہتا ہے دورانیہ 1:24:47 | ||