عشاءمجلس ۲ جون ۲۶ء:اللہ والوں کی محبت کی قیمت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں ) حسب معمل تعلیم۔۔۔ ) ڈریس کوڈ ) جب اللہ تعالی سے محبت ہوگی تو پھر آپ ﷺ سے بھی محبت ہوگی جب آپ ﷺ سے ہوگی تو اللہ تعالی بھی خوش ہونگے۔۔ ) جتنی کفار کے لباس سے محبت ہے تو کیوں ہے؟سنت کے لباس سے محبت کیوں نہیں۔۔دفتر کی مجبوری ہے تو کیا کریں؟ ) بروز بدھ بعد فجر،مسجد ِاشرف،گلشن ِاقبال،کراچی آج فجر کی نماز کے بعد مسجد ہی میں حضرت والا دامت برکاتہم نے مجلس شروع فرمائی،مثنوی شریف کے اشعار کا درس ہو رہا تھا،بیان میں خوب روانی اور جوش تھا کہ اچانک حضرت والا نے مائیک جو کالر میں لگا ہوا تھا،منہ کے پاس سے ہٹا کر نیچے کر لیا اور بیان جاری رکھا۔مائیک ہٹانے سے آواز ہلکی ہوگئی۔تھوڑی دیر مزید بیان اسی طرح ہوا تو میر صاحب نے حضرت سے عرض کیا کہ حضرت!مائیک کو بٹن میں لگا لیجیےتاکہ آوز صاف سمجھ میں آسکے۔فرمایا کہ میر صاحب!میں نے کسی وجہ سے مائیک نیچے کیا ہےکیونکہ ایک صاحب باہر صحن میں نماز پڑھ رہے ہیں،ان کی نماز کی رعایت سے میں نے اپنی آواز کم کی ہے۔ (چونکہ فجر کی جماعت کے بعد وقت تنگ ہوتا ہے،ان صاحب کو کہیں اور نماز کے لئے بھیجنے سے نماز قضا ہوسکتی تھی لہٰذا ان کی رعایت فرمائی ) حضرت والا رحمہ اللہ کے حجرۂ خاص کا نقشہ اسی مجلس میں فرمایا کہ میں نے اپنے کمرے میں بعض مناظر لگا رکھے ہیں، جن میں وادیٔ کاغان کے پہاڑ اور آبشار کو دیکھتا ہوںتو اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہوں کہ اے اللہ!جب یہ فنا ہونے والی وادیٔ کاغان کو آپ نے اتنا حسن دیا ہے تو جنت کے مناظر کے حسن کا کیا عالم ہوگا!اس حسن پر تو فنا آنے والی ہے۔اور جب روضۂ مبارک کا منظر دیکھتا ہوں تو درود شریف’’ صلی اللہ علی النبی الامی‘‘ پڑھتا ہوں، جب کعبہ شریف کو دیکھتا ہوں اور وہاں کے پہاڑ دیکھتا ہوں تو یہ شعر پڑھتا ہوں؎ میری نظروں میں تم ہو بڑے محترم یا جبال الحرم یا جبال الحرم ) اے حرم کے پہاڑو!تمہارے اوپر کوئی درخت،کوئی آبشار،گھاس کا کوئی ایک تنکا بھی نہیں ہے لیکن تمہارا رعب،تمہارا ادب و احترام میرے دل میں وادیٔ کشمیر و کاغان کے پہاڑوں سے بہت زیادہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ریگستانوں اور ریگزاروں اور چٹیل پہاڑوں میں اپنا گھر بنایا۔ہم آپ جب مکان بناتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں کہ ایسی جگہ پر مکان بنائیں جہاں دنیاوی لحاظ سے بیسٹ (Best۔بہترین)کوالٹی کے لوگ رہتے ہوں،سوسائٹی دیکھتے ہیں،باغات دیکھتے ہیں۔کیا کسی کا دل چاہتا ہے کہ کچی اور گندی آبادیوں میں اپنا گھر بنائے۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے لئے ایسے پہاڑوں کا انتخاب فرمایا جن پر گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں اُگتا۔معلوم ہوا کہ یہ جغرافیہ ہمارے خالق اور مالک کو اپنے گھر کے لئے سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی زبردست دلیل ) حضرت والا رحمہ اللہ کی مجلس حضورﷺ اور اسلاف کا نمونہ تھی چائے پیتے ہوئے فرمایا کہ یہ جو ہماری مجلس اس وقت ہو رہی ہے، بظاہر یہ عبادت نہیں لگتی کہ چائے پی رہے ہیں لیکن یہ بھی عبادت ہے کیونکہ ہم اللہ کے لئے بیٹھے ہیں،اور اللہ کے لئے مل بیٹھنا محبت سے ہونا چاہیے۔اسی لئے اللہ کی محبت جن لوگوں کو ملنے کا وعدہ ہے ان میں مُتَحَابِّیْنَ فِیَّ کے الفاظ مُتَجَالِسِیْنَ فِیَّ سے پہلے ہیں کہ وہ لوگ ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں ورنہ صرف ’’بیٹھنا‘‘ مفید نہیں، بیٹھتے تو منافق بھی حضورﷺ کی صحبت میں تھے،نماز بھی ساتھ پڑھتے تھے، مگر ان کو صحبت ِرسولﷺ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔لہٰذا پہلے محبت ہے، پھر جو صحبت ہوگی وہ محبت ِالٰہیہ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ) یہ جو فجر کے بعد ہماری مجلس ہوتی ہے،چائے بھی پیتے ہیں،میں نے اپنے شیخ حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کو اسی طرح دیکھا،لکھنؤ،سوپور،جونپور،اور نہ جانے کہاں کہاں سے لوگ آیا کرتے تھے۔پھر حضرت ذکر تلاوت نہیں کرتے تھے،بس ان کے ساتھ گیارہ بجے دن تک بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں،ملفوظات ارشاد فرما رہے ہیں۔ ایک مرتبہ میرے ساتھ بھی گیارہ بجے دن تک بیٹھے رہے،اس دن حضرت کے ساتھ میں اکیلا تھا،اور کوئی نہیں تھا۔یہی رنگ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب دامت برکاتہم کا بھی ہے کہ وہاں بھی فجر کے بعد بعض اوقات ایسے ہی مجلس ہوتی ہے۔الحمد للہ! میرے اللہ نے مجھے بھی یہی رنگ عطا فرمایا۔اور آج یہ بات سن لیجیے کہ حضورﷺ کی مجلس سے بھی اس میں مشابہت ہے ) حضورﷺ بھی بعض اوقات فجر کے بعد صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمیعن کے ساتھ بیٹھتے تھے، خیر خیریت معلوم کرتے تھے،صحابہ اپنے زمانۂ جاہلیت کے قصے سناتے تھے کہ ہم بتوں کے سامنے یوں بیٹھتے تھے،پھر خوب ہنستے تھے،حضورﷺ بھی مسکرا دیتے تھے۔ ان قصوں میں سے دو مزیدار قصے سنئے: ) ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے اپنا زمانۂ جاہلیت کا قصہ سنایا کہ کسی کے بت نے اس کو ایسا نفع نہ دیا ہوگا جیسا میرے بت نے مجھے دیا۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیسے؟کہا کہ میں نے اپنا بت حیس؎۱ سے بنایا تھا،جب قحط آیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؎۱ حیس:کھجور اور روغن،آٹے یا پنیر سے بنتا ہے جیسے مالیدہ(از مظاہرِ حق ج۴ ص ۱۱۶) میں اس میں سے روزانہ کھایا کرتا تھا۔دوسرے صحابی نے اپنا قصہ سنایا کہ میں نے دو لومڑیوں کو دیکھا کہ وہ آئیں اور انہوں نے میرے بت کے سر پر پیشاب کردیا۔ میں نے کہا کیا رب ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سر پر لومڑیاں پیشاب کریں؟پھر میں اے اللہ کے رسولﷺ!آپ کی خدمت میں آیا اور اسلام قبول کر لیا۔ ) بروز منگل بعد عصر،خانقاہ امدادیہ اشرفیہ،گلشن ِاقبال،کراچی ارشاد فرمایا کہ اگر میں اپنا حال طالب علمی کا بتادوں تو بہت لوگ رونے لگیں گے۔۱۹۴۸ءکی بات ہے،ہمارا مدرسہ بہت غریب تھا،طلباء کو ایک روپیہ وظیفہ نہیں دیتا تھا،کبھی اساتذہ کی تنخواہیں بھی رُک جاتی تھیں،کوئی ناشتہ نہیں ملتا تھا، ہفتہ میں ایک وقت سبزی،ایک وقت گوشت،وہ بھی بھینس یا بیل کا اور باقی بارہ وقت پتلی دال، پانی والی،کچھ چٹنی بھی نہیں ہوتی تھی۔میرے والد کا انتقال ہوچکا تھا، میں نے کسی کو اپنے حالات کی اطلاع نہیں کی،میرے بہنوئی،چچا وغیرہ تھے،اگر ان کو اطلاع دیتا تو وہ ضرور خرچہ بھیجتے لیکن ہمارا ناشتہ مناجات ِمقبول اور اپنے شیخ پھولپوریh کی زیارت تھی،حضرت کو دیکھ کر مزہ آتا تھا۔ کبھی احساس ِکمتری نہیں ہوتا تھا کہ میں غریب طالب علم ہوں،اسی شان سے رہتا تھا۔حضرت بھی ناشتہ نہیں کرتے تھے حالانکہ بڑے زمیندار تھے،حضرت کو کھانے یا پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی، میں نے بھی کہلا دیا کہ میں بھی ناشتہ نہیں کروں گا۔اس زمانے میں شوق ایسا تھا کہ جیسا پیر کرے ویسا ہی ہم بھی نقل کریں،لیکن الحمدللہ! کبھی کسی مالدار سے مرعوب نہیں ہوا۔ | ||