فجرمجلس ۶ جون ۲۶ء:صاحب نسبت علماء کی خوشبو ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم 09:57) مجلسِ ذکر::: کلمہ طیّبہ۔۔۔ ذکر اسمِ ذات اللہ جل جلالہ۔۔۔ 09:58) استغفاراوردرودشریف ۔۔۔ 14:48) صاحب ِ نسبت علماء کی خوشبو::: حلاوت ِبصارت فدا کرنے پر حلاوت ِبصیرت عطا ہوتی ہے: مولانا جلال الدین رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا وجود کہتا ہے کہ آؤآؤمجھے دیکھو،میرا حسن و جمال دیکھو لیکن جب ایک دن ان کا بڑھاپا آجائے گا، کمر جھکی ہوگی، پونے گیارہ نمبر کے چشمے لگے ہوں گے تو یہ تم کو نانی اماں معلوم ہوں گی اور حسین لڑکے نانا ابّا معلوم ہوں گے، اس وقت تم اپنی جوانی کی تباہ کاریوں پر ندامت سے خون کے آنسوؤں سے بھی رؤگے تو تلافی نہیں ہوسکے گی۔ 18:11) اہل اللہ کی برکات سے کوئی محروم نہیں رہتا: جیسے جلے بھنے کباب اور کچی ٹکیہ میں بڑا فرق ہوتا ہے،اسی طرح دارالعلوم سے محض علم حاصل کرنا یہ ایسا ہی ہے جیسے کباب کی صورت ہوتی ہے، جیسے خام کباب ہوتا ہے اور جب دارالعلوم سے فارغ ہوکریا پڑھنے ہی کے زمانہ سے کسی جلے بھنے اور حامل ِدرد ِدل،اور صاحبِ نسبت کی صحبت بھی اس کو ملتی رہے تو اس کو اپنے کچے کباب کو پکانے اور نیچے آگ لگانے اور سرسوں میں اس کو تلنے کی توفیق ہوجائے گی۔ پھر جب کباب تلا جاتا ہے تب اس کی خوشبو پھیلتی ہے،اور اگر و ہ مسافر ہے،کباب تلتا جا رہا ہے، چلتا جا رہا ہےتو جس طرف سے وہ اللہ والاگذرےگا توملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:لَوْ اَنَّ وَلِیًّا مِّنْ اَوْلِیَاۗءِ اللہِ مَرَّ بِبَلْدَۃٍ لَنَالَ بَرَکَۃَ مُرُوْرِہٖ اَہْلُ تِلْکَ الْبَلْدَۃِ(مرقاۃ المفاتیح: (رشیدیہ) ؛ ج ۵ ص ۱۹۱)کہ اگر کوئی ولی اللہ کسی بستی سے گذر جائے اور اس کو وہاں قیام کا موقع نہیں ہے تب بھی اس شہر کے لوگ اس کی برکت سے محروم نہیں رہیں گے، یہ اللہ کے درد ِمحبت کی خوشبو ہے جس کے لئے مولانا جلال الدین رومیh نے فرمایا کہ جب میں اللہ کہتا ہوں تو اتنا مزہ آتا ہے ؎ بوئے آں دلبر چوں پرّاں می شود ایں زبانہا جملہ حیراں می شود 20:13) وصول الی اللہ نہ ہونے کی وجہ: اس کی وجہ جلال الدین رومی رحمہ اللہ صاحب ِقونیہ نے بیان فرمائی ہے کہ آج کل کے بہت سے سالکین ذکر کے باوجود مذکور تک نہیں پہنچ رہے ہیں کیونکہ ان کو اپنے نور کی حفاظت کی توفیق نہیں ہے،نور حاصل تو کرتے ہیں مگر اس نور کے بقاء اور ارتقاء کا اہتمام نہیں کرتے۔آنکھوں سے، کانوں سے، زبان سے جو نور آیا اسے گنوادیا جیسے کوئی کسی حوض میں پانی بھرے لیکن اس کی پانچ ٹونٹیوں کو کھلا چھوڑ دے تو کیا حوض میں پانی رہے گا؟ اسی طرح دل بھی ایک حوض ہے، عبادت سے، نماز، روزہ سے دل نور سے بھرگیا لیکن آنکھ کی ٹونٹی کھول دی اور بدنظری کرلی، کان کی ٹونٹی کھول دی اور گانا سن لیا یا زبان سے غیبت کرلی، غرض حواس ِخمسہ کی ٹونٹیاں کھلی ہوئی ہیں تو قلب میں نور کا اتمام نہیں ہوگا،رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا (سورۃ التحریم:آیۃ ۸) کی صرف دعا پڑھنے سے تھوڑی کام ہوتا ہے، اس آیت کا مطلب یہی ہے کہ جس طرح سے آپ ہمیں اپنے انوارِعبادت حاصل کرنے کی توفیق دے رہے ہیں اسی طرح ان انوار ِ الٰہیہ کی بقاء اور ارتقاء کی توفیق بھی عطا فرمائیے کہ ہم ان کو گناہ کرکے ضائع نہ کریں۔ 21:46) سب سے بڑا عبادت گزار کون ہے؟ 24:25) تینوں قل تین تین مرتبہ اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ دس مرتبہ۔۔۔ دورانیہ 27:35 | ||