مرکزی بیان ۴ جون ۲۶ء:اللہ کے نام کے مٹھاس کا کوئی ہمسر نہیں ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 10:42) بیان سے پہلے جناب مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے۔۔۔ کل خونِ شہادت میں لتھڑا یہ جسم انہیں دکھلائیں گے اب عشق میں ان کی خاطر ہم آنکھوں سے لہو برسائیں گے جب دل سے انہیں ہم چاہیں گے وہ خود ہی کرم فرمائیں گے مخلوق ہے ادنیٰ سا سورج جب اس کو نہیں ہم دیکھ سکے پھر خالق عالم کا جلوہ دنیا میں بھلا کیا پائیں گے آتا ہے مجھے نالوں میں مزا،اے زاہد ناداں طنز نہ کر جب عشق ہے ان کا دل میں مرے پھر کیوں نہ مجھے تڑپائیں گے کیوں آہ میں کچھ تاثیر نہیں کیا عشق کا دل میں تیر نہیں جب نور نہیں خود ہی دل میں منبر پہ وہ کیا برسائیں گے جائیں گی کبھی آہیں دل کی ،بالائے فلک تاعرش بریں یہ درد محبت کے نالے کچھ رنگ تو اپنا لائیں گے جب شمع محبت دل میں لیے محفل میں ہو کوئی صاحب ضو پھر عشق خدا کے پروانے خود اڑ کے وہاں آجائیں گے بلبل کو نہ تو کر اے ناداں پابند سکوت و خاموشی جب اس کو چمن یاد آئے گا نالے بھی لبوں تک آئیں گے تم لاش کو میری غسل نہ دو ،بس خون میں لتھڑی رہنے دو کل خون شہادت میں لتھڑا یہ جسم انہیں دکھلائیں گے اختر کو جو تو نے دولت غم بخشی ہے بفیض پیر ہدیٰ امید ہے تجھ سے بار خدا اس درد کا درماں پائیں گے 10:42) مسجد میں موبائل کا استعمال اور مسجد کے آداب سے متعلق نصیحت فرمائی۔۔۔ 17:25) حافظِ قرآن جناب عبدالرحمٰن بن فیصل صاحب نے تکمیلِ قرآن پر قرآن پاک کی تلاوت کی۔۔۔ حفظِ قرآن کے فضائل بہت زیادہ ہیں۔۔۔ قرآن پاک حفظ کرنا بہت بڑی دولت اورسعادت کی بات ہے۔۔۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ کہ ایک مہینے میں کس طرح حفظ کیا ماشاء اللہ۔۔۔ حفظِ قرآن کے فضائل۔۔۔ 28:01) کفّار کی نقل مت کریں۔۔۔ 31:20) جو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے پسند کرتے ہیں۔۔۔ 34:15) زندگی کے قیمتی لمحات: ۱۱؍ ذوقعدہ ۱۴۰۹ھ مطابق ۱۶؍جون ۱۹۸۹ئ، بروز جمعہ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ حضرت والا رحمہ اللہ کا بیان۔۔۔ الحمدﷲ وکفیٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد فاعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم، بسم اﷲ الرحمن الرحیم اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اﷲُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰئِکَۃُ اَلاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنo نَحْنُ اَوْلِیَائُ کُمْ فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْاٰخِرَۃِطوَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَحِیْمٍ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اﷲِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلاَ السَّیِّئَۃُطاِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فِاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌo وَمَا یُلَقّٰہَآ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاج وَمَا یُلَقّٰہَا اِلاَّ ذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍo وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاﷲِطاِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُo قرآن پاک کی آیت ،ترجمہ آسان قرآن سے اور اس کی تفسیر۔۔۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن پاک کے پارہ نمبر ۲۴، سورہ حم السجدہ کے سترہویں رکوع میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب صرف اللہ ہے۔آیت شریفہ میں رَبُّنَا کو مقدم فرمایا۔ ورنہ عبارت یہ بھی ہوسکتی تھی اَﷲُ رَبُّنَاکہ اللہ ہمارا رب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسلوبِ بیان میں رَبُّنَا کو مقدم فرمایا ۔اس تقدیم کی دو مصلحتیں ہیں۔پہلی مصلحت یہ ہے کہ اﷲ ُ مبتدا اور ربُّنا خبر ہے، اللہ تعالیٰ نے خبر کو مقدم فرمایا تاکہ حصر کے معنی پیدا ہوجائیں۔ اس لیے حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر بیان القرآن میںرَبُّنَا اﷲُ کے ترجمہ میں لفظ صِرف کو بڑھادیا ہے یعنی جنہوں نے اقرار کرلیا کہ ہمارا رب حقیقی صرف اللہ ہے،اس تقدیم سے حصر کے معنی پیدا ہو گئے۔ 43:49) معرفتِ الٰہیہ کا ذریعہ: دوسری حکمت یہ ہے کہ اللہ کو پہچاننے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ کی پرورش کو سوچنا ہے۔ ماں باپ کو پہچانا جاتا ہے ان کی پرورش اور ان کی شفقت و رحمت کے ذریعہ سے، اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی ربوبیت کے بہت سے ایسے اسباب پیدا فرمائے جس میں غیر خدا کا دخل نہیں اور کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتااُس ربوبیت میں اﷲ کے علاوہ کوئی اور بھی شامل ہے۔ ماں باپ کی پرورش میں پھر بھی شبہ لگ سکتا ہے کیونکہ کبھی بغیر ماں باپ کے بھی اﷲ تعالیٰ پرورش فرمادیتے ہیں بعض اوقات بے اولاد لوگ کسی کا بچہ گود لے لیتے ہیں تو وہ بچہ نادانی سے سمجھتا ہے کہ یہی میرے ماں باپ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے بہت سے ربوبیت کے اسباب پیدا فرمائے جس میں کسی مخلوق کا دخل نہیں ہے، نہ ہی مخلوق یہ کہہ سکتی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت میں شریک ہوں، مثلاً کھیتوں میں سورج کی گرمی سے غلہ پکانا اور اس کے لیے سورج نکالنے اور غروب کرنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔ 50:45) اللہ تعالیٰ کی معافی لا محدود ہے اس لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے میں تاخیرمت کریں۔۔۔ ہاں وہ درمیخانہ تو کھلتا ہے آج بھی پیمانۂ رحمت تو چھلکتا ہے آج بھی جو مست ہوا مرشد کامل کی نظر سے سوبار بھی گر کرکے سنبھلتا ہے آج بھی 51:36) ۔۔۔باطل خداؤں نے بھی نہیں کہا کہ میں اس سورج کا خالق ہوں اور یہ سورج میرے نظامِ قدرت کے تحت نکلتا اور ڈوبتا ہے کیونکہ جانتے تھے کہ سورج ہماری دسترس سے باہر ہے۔ہمارا ہاتھ اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مخلوق کا ہاتھ جہاں لگتا ہے وہاں فنی خرابی بھی ہوجاتی ہے۔ ایئر پورٹ پر اعلان ہوتا ہے کہ فنی خرابی کی وجہ سے کوئٹہ جانے والی فلائٹ دو گھنٹہ لیٹ ہے۔ لیکن آپ نے کبھی یہ نہیں سنا ہوگا کہ جبرئیل علیہ السلام نے اعلان فرمایا ہو کہ فنی خرابی کی وجہ سے آج سورج دو گھنٹے لیٹ نکلے گا کیونکہ فرشتے اس کے اسکرو (Screw) ٹائٹ کر رہے ہیں۔ ایسا کبھی آپ نے سنا ہے؟ اس سے اللہ تعالیٰ کی شان اور قدرت کا پتہ چلتا ہے جس نے پہاڑوں، سمندروں، ستاروں اور سورج چاند کو اس طرح بنایا جس سے انسان کو شبہ بھی نہ ہو کہ ہماری پرورش میں اﷲ کے سوا کوئی اور بھی شریک ہے۔ 53:54) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اِنَّ الذین قالو ربنااﷲ جن لوگوں نے اقرار کرلیا کہ ہمارا رب صرف اللہ ہے ثم استقاموا اور اس پر مستقیم رہے۔ مستقیم کے کیا معنی ہیں؟ کہ کبھی اﷲتعالیٰ سے ترکِ تعلق نہیں کیا اعتقاداً بھی اور عملاً بھی یعنی کفر کرکے بالکل ہی چراغ ایمان کا نہیں بجھا یا اور گناہ پر اصرار کرکے مستقل نافرمانیوں سے اپنے تعلق کو ضعیف نہیں کیا، ایسے لوگوں کے لیے کیا ہوگا؟ تتنزل علیھم الملٰئکۃ فرشتے ان پر اتر یں گے۔ 55:15) فرشتے انسانوں پر کس کس وقت اترتے ہیں؟ سوچئے! اللہ کے نام کے صدقہ میں فرشتے مٹی کے انسان کو سلام کرنے آتے ہیں۔ واہ! یہ بشر جس میں شر بھی لگا ہے اگر یہ اپنی اصلاح کرلے، اللہ والا بن جائے تو فرشتے اس کے پاس اترتے ہیں۔ ایسی مخلوق جو بے گناہ ہے گنہگاروں کے پاس آتی ہے، توبہ اور ندامت کی برکت سے فرشتے اترتے ہیں، رحمت کے اور بشارت کے۔ حضرت حکیم الامت ان فرشتوں کے نزول کی تفسیر فرماتے ہیں کہ یہ فرشتے ایمان والوں پر تین مرتبہ اترتے ہیں (۱) مرتے وقت (۲) قبر میں (۳) قیامت کے دن (تفسیر الدر المنثور) اور یہ فرشتے کہیں گے لا تخافوا تم آخرت کی آنے والی ہولناکیوں سے اندیشہ نہ کرو، تمہارے اوپر کوئی بلا، کوئی عذاب، کوئی آفت نہیں آئے گی۔ 58:11) خوفِ خدا میں امن و سکون کی عجیب مثال: میرے شیخ شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ یہ جو کہا جائے گا کہ لا تخافوا تم کوئی اندیشہ نہ کرو، یہ اُس خوف کا صدقہ ہے جس کے باعث وہ دنیا میں اﷲ سے ڈرتے رہے، جو اس دنیا میں اللہ سے ڈرتا ہے اس سے کہا جائے گا لا تخافوا بہت ڈرگئے، اب نہ ڈرو اور جو یہاں بے ڈر ہو ا اور گناہ کرکے ڈکار بھی نہیں لیتا اس ظالم سے کہا جائے گا کہ اب ڈرو، اب تم کو پتہ چلے گا۔ 01:04:40) (۲) جب کوئی مصیبت آجاتی ہے تو اللہ والوں کے دلوں پرصبر اور سکینہ اتارتے ہیں ، صبر کی طاقت کا فیضان بھی ڈالتے ہیں اور سکون بھی ڈالتے ہیں، اسی وجہ سے دنیا میں جتنے اولیاء اللہ ہیں وہ مصیبتوں میں ثابت قدم رہتے ہیں، کسی ولی اللہ سے خودکشی ثابت نہیں کہ وہ حرام موت مرگیا ہوبرعکس اس کے جو اپنے آپ کو ماڈرن ترقی یافتہ دانشور و سائنسدان کہتے ہیں، ان کا حال دیکھو! ذراسی تکلیف آئی اور خودکشی کرلی، ان میں ذرا بھی برداشت کی طاقت نہیں ہوتی کیونکہ ان کا کوئی سہارا نہیں ہے، ان کا اللہ سے سہارا ٹوٹا ہو اہے، کٹی ہوئی پتنگ ہیں اس لیے ہر بلا ان کو نوچ کھسوٹ کرتی ہے۔ 01:07:46) تو فرشتے جو مومن کے ساتھ ہیں، اہل اللہ کے ساتھ ہیں، اہل تقویٰ کے ساتھ ہیں وہ ان کے دل میں اچھی اچھی باتوں کا خیال ڈالتے ہیں، مضامین ِخیر ڈالتے ہیں جیسے کسی فانی چیز کی طرف خیال چلا گیا تو فوراً فرشتے دل میں یہ خیال ڈالتے ہیں کہ کیا بدبو دار شے ہے، کہاں جاتا ہے، چل تسبیح اٹھا، مصلیٰ بچھا، اللہ کی یاد میں آنکھوں کو رُلا، اپنے دل و جان کو گھلا پھر دیکھ کیسی سلطنت پاتا ہے بغیر کربلا، یعنی سب بے چینی اور کرب ختم ؎ آتی نہیں تھی نیند مجھے اضطراب سے ان کے کرم نے گود میں لے کر سلادیا اﷲتعالیٰ کی آغوشِ رحمت اور محبت کو چھوڑ کر جو نفس و شیطان کی گود میں جانے کی کوشش کرتا ہے ظالم ہے حالانکہ جس سے عشق کا اظہار کر تاہے کہ مجھے تم بہت اچھے لگتے ہو، یہ مرنڈا پی لو اور انڈا کھالو، وہی جوتے لگاتا ہے اور گالیاں دیتا ہے۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ عاشق اور معشوق ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کو ذلیل سمجھتے ہیں۔ حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی قبر کو اللہ نور سے بھر دے فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو محبت نفس کے لیے ہوتی ہے، شہوت اور بری خواہش کے لیے ہوتی ہے اس کا انجام عدوات و نفرت ہے، دونوں ایک دوسرے کو ذلیل سمجھتے ہیں۔ حاجی امداد اللہ صاحب علماء دیوبند کے شیخ ہیں، کتنی پیاری بات لکھی ہے کہ نفسانی محبت کو محبت مت کہو، یہ چوٹّا پنا ہے اور خباثتِ طبع ہے اور اپنے کو ذلیل کرنے کے مترادف ہے۔ 01:15:18) فسیر آیت ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم الخ اﷲ تعالیٰ آگے ارشاد فرماتے ہیں ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون اور جنت میں جس چیز کو تمہارا دل چاہے گا موجود ہے اور جس چیز کو تم مانگوگے وہ بھی ملے گی تو یہ دوقسم کی نعمتیں ہوگئیں پہلی نعمت ہے ماتشتھی انفسکم جس چیز کو تمہارا دل چاہے گا اللہ تعالیٰ وہ تمہیں جنت میں فوراً عطا کردے گا، دل میں خیال آیاکہ فاختہ کا بھنا ہو اگوشت کھانا ہے، ایک سیکنڈ میں بھنا ہوا گوشت سامنے ہوگا، وہاں یہ نہیں ہوگا کہ پہلے شکار کروپھر پکاؤ، یہ زحمتیں وہاں نہیں ہیں وہاں تو کن فیکون ہے کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہوجا پس وہ ہوگئی۔ آج بھی دنیا میں جو لوگ اﷲتعالیٰ کو راضی کیے ہوئے ہیں ان کو دنیامیں بھی جنت کے مزے ہیں۔ ان کے کام یہاں بھی اﷲ تعالیٰ بنا دیتے ہیں۔ مثلاً اہل اﷲ کو کوئی غم آیا انہوں نے اللہ کو پکارا، اﷲ تعالیٰ فوراً غم کی ذات کو خوشی بنا دیتا 01:15:27) دوسری نعمت ہے ولکم فیھا ما تدعون کہ تمہیں وہ چیزیں بھی ملیں گی جو تم مانگوگے۔ معلوم ہوا کہ جنت میں دو طرح سے نعمتیں ملیں گی، ایک تو زبان سے مانگا نہیں، صرف دل میں خیال آگیا کہ کاش! یہ چیز ملتی تو خیال آتے ہی وہ چیز عطا ہوجائے گی۔ دوسری نعمت یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ مانگنے پر بھی نعمت دیں گے۔ تو حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ ایک دل میں طلب ہوئی اور ایک زبان سے طلب ہوئی۔ ان کانام حضرت حکیم الامت نے طلبِ قلبیہ اور طلبِ لسانیہ رکھا ہے یعنی اضطراراً اگر دل میں خیال آگیا، تمہارا ارادہ بھی نہیں ہوا بس خیال آگیا تو اﷲ تعالیٰ وہ بھی دیں گے اور اختیاری طور پر تم جو اﷲتعالیٰ سے مانگو گے اﷲتعالیٰ وہ بھی دیں گے۔ 01:15:56) آیتِ مبارکہ میں غفور رحیم کے نزول کی حکمت نزلا من غفور رحیم یہ نعمتیں تم کو بطور مہمان کے دی جائیں گی غفور رحیم کی طرف سے۔ یہاں دو لفظ غفور اور رحیم کیوں نازل کیے تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ یہ مہمانی اس رب کی طرف سے ہے جو بہت معاف کرنے والا اور بہت رحمت والا ہے تاکہ تمہیں اپنے گناہ یاد نہ آئیں 01:17:29) دعوت الیٰ اﷲ میں عملِ صالح کی اہمیت اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ومن احسن قولاً ممن دعا الی اﷲ و عمل صالحاً کہ اس سے بہتر بات کس کی ہو سکتی ہے جو لوگوں کو اﷲ کی طرف بلائے اور خود بھی نیک عمل کرے اس سے حکیم الامت نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو لوگ دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں ان کو نیک عمل کرنا بہت ضروری ہے ورنہ ان کے کہنے میں یعنی دعوت الی اﷲ میں برکت نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ قید لگا رہے ہیں کہ جو دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں، لوگوں کو اللہ کی طرف بلارہے ہیںان کے لیے بھی عمل صالحاً ہے ، وہ صالح عمل کرتے ہیں، صالح عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کے قول میں اثر ڈال دیتاہے وقال اننی من المسلمین اور اعلان کرتے رہتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار وںمیں سے ہوں یعنی میں مسلمان ہوں، مسلمان کہتے ہوئے شرماتے نہیں ہیں، ڈاڑھی رکھتے ہوئے شرماتے نہیں ہیں، اﷲ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کو اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ یہ محبت کا خاص مقام ہوتاہے۔ 01:23:21) برائی کا بدلہ نیکی سے دینے کے فوائد آگے فرمایا ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ کہ نیکی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی ادفع بالتی ہی احسن فاذا الذی بینک و بینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم آپ نیک برتاؤ سے برائی کو ٹال دیا کیجئے، یعنی اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیجئے بلکہ جاہلوں اور کافروں کے برے برتاؤ کو معاف کرکے ان کے ساتھ نیکی کیجئے، یکایک آپ دیکھیں گے کہ آپ میں اور جس شخص میں عداوت اور دشمنی تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے کیونکہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے میں تو عداوت اور دشمنی بڑھتی ہے اور نیکی کرنے سے عداوت کم ہوتی ہے یہاں تک کہ اکثر بالکل جاتی رہتی ہے اور دشمن دوست جیسا ہوجاتا ہے اگرچہ دل سے دوست نہ ہو۔حضرت تھانوی نے لکھا ہے کہ اصلی دوست دل سے نہ ہوا تو ظاہر ی طورپر اذیت پہنچانا چھوڑ دے گا۔ 01:24:45) وما یلقھا الا الذین صبروا وما یلقھا الا ذو حظ عظیم اور یہ بات یعنی برائی کا بدلہ نیکی سے دینا انہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے مستقل مزاج اور بڑے قسمت والے ہوتے ہیں یعنی برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا یہ سب کا حصہ نہیں، بہت بڑے اور اونچے قسم کے لوگ ہیں، بڑے ہی نصیب والے ہیںجن کو اللہ تعالیٰ یہ نعمت عطا فرماتے ہیں۔ 01:30:03) شیطانی وساوس کا علاج و اما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باﷲ انہ ھو السمیع العلیم اور اگر کبھی شیطان وسوسہ ڈالے کہ انتقام لینا چاہیے تو فوراً اﷲتعالیٰ سے پناہ مانگ لیا کیجیے۔ علامہ قشیری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ان الولی لا یکون منتقماً کوئی ولی انتقام نہیں لیتا والمنتقم لا یکون ولیا اور انتقام لینے والا ولی اللہ نہیں بنتا، اگر شیطان انتقام لینے کا وسوسہ ڈالے تو شیطان کو جواب مت دو، شیطان سے بحث مت کرو، جن لوگوں نے شیطان کو جواب دیا تو رات بھر جواب دیتے رہے، صبح کو کھوپڑی گرم ہوگئی، نیند غائب ہوگئی، چند ہی دن میں پاگل ہوگئے۔ | ||