اتوار مجلس ۷ جون ۲۶ء:دینی مجالس میں شرکت کے آداب! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں *مقام:مسجد اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستانِ جوہر کراچی* *بیان:عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم* 07:05) بیان کے آغاز میں اشعار کی مجلس۔۔ 26:50) ادب کی اہمیت۔۔ 27:21) دینی مجالس میں شرکت کے آداب۔۔ 46:29) دنیا کا حسنہ۔۔ 46:49) وقت ِرخصت خاتم الانبیاءﷺ فرمایا کہ خاتم الانبیاءﷺ کواس دنیا سے تشریف لے جاتے وقت بھی امتیازی شان عطافرمائی گئی۔انبیاء علیہم السلام کی روح قبض کرنے کے لئے طریقہ یہ تھا کہ فرشتہ روح قبض کرنے کی ان سے اجازت طلب کرتا تھا لیکن حجرے میں آکر اپنے لئے خود اجازت طلب کرتا تھا۔یہ خصوصیت انبیاءکے لئے اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے کیونکہ یہ سرکاری لوگ ہیں، جب تک سرکاری کام کو پورا نہ کرلیں،اور خود نہ کہیں کہ میں تیار ہوں تو موت کے فرشتہ کو بھی اختیار نہیں ہے کہ ان کی روح کو نکال لے، یہ ان کا اعزاز ہوتا ہے،چنانچہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اجازت طلب کی تو آپ نے فرشتۂ موت سے فرمایا ہرگزنہیں،میری یہ درخواست اللہ تعالیٰ سے پیش کردوکہ کیاکوئی دوست اپنے دوست کی جان نکالتاہے؟مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خلیل اللہ بنا رکھاہے۔خلیل اللہ کے کیا معنی ہیں؟ اللہ کا گاڑھا دوست،جب محبت شدیدہوجاتی ہے توخلّت سے بدل جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایاکہ کیاکوئی دوست اپنے دوست سے جدائی پرراضی رہ سکتاہے؟یہی تو ذریعہ ہے ملاقات کا، یہی تو پُل ہے، اسی کے ذریعہ سے تو میرے پاس آئوگے، لہٰذا وہ فوراً خوش ہوگئے اور خوش ہوکر اجازت دےدی۔ جب حضور ِاکرمﷺ کا وقتِ رخصت آیاتوموت کا فرشتہ جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ آیا لیکن حجرے میں داخل نہیں ہوا،باہر انتظار کیا،اور جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ پیغام کہلایاکہ میں آپﷺ کی روح قبض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں: 48:02) یہ سید الانبیاءﷺ کی خاصیت میں سے ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جتنے بھی نبی اور پیغمبر آئے ہیں ان کی روح نکالنے کے لئے موت کے فرشتے، حضرت عزرائیلuکو ان کے کمرے میں جانے کی اجازت تھی اور وہ اس جگہ خود داخل ہوتےاور کہتے کہ مجھے آپ کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا ہے، آپ سرکاری کام کرچکے، اب مجھے اجازت دے دیجئے کہ میں آپ کی روح نکال لوں لیکن حضورﷺکے لئے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہوا کہ اے موت کے فرشتے! میرا نبی تمام نبیوں کا سردار ہے، اس کےحجرے میں تم بغیر اجازت اندرداخل نہیں ہوسکتے، لہٰذا عزرائیل علیہ السلام نے جبرئیل علیہ السلام کو اپنا سفیر بنایا اور ان سے کہا کہ آپ جاکر اﷲ کے رسول سے اجازت نامہ لائیں کہ میں حجرے میں داخل ہوسکتا ہوں یا نہیں؟یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا حجرہ تھا۔ جس روضہ ٔمبارک میں آپ تشریف رکھتے ہیں، آپ اس وقت آرام فرما ہیں،وہی آپﷺ کا گھر بھی تھا جو مسجد ِنبوی سے متصل تھا۔ تو جبرئیل اندر داخل ہوئے اور عرض کیا کہ موت کا فرشتہ آپ کی روح قبض کرنے کے لئے حجرے میں داخلے کی اجازت چاہتا ہے، تو آپﷺ نے جبرئیل علیہ السلام کو غور سے دیکھا، آپ کو ضعف اور اتنی کمزوری تھی کہ زبان ِمبارک سے الفاظ نہیں نکل سکے اس لئے جبرئیل علیہ السلام کو غور سے دیکھا:محدثین لکھتے ہیں کہ یہ دیکھنا بطور مشورہ تھا، یہ نظر ِمستشیرتھی، یہ مشورہ طلب کررہی تھی کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ تو حضرت جبرئیل نے عرض کیا:اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے، بس آپ نے فرمایا: پھر پیارے نبیﷺ اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الرَّفِیْقُ الْاَعْلٰی پڑھتے ہوئے اس دنیا سے تشریف لے گئے،دنیاکے کیسے کیسے رفیق،ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا رفیق،لیکن اللہ سے بڑھ کر کون ہے؟ 58:34) نفس کی حرام خواہشات کو پورا نہیں کرنا ہے۔۔ 01:00:05) مجاہدہ کا انعام۔۔ 01:21:52) پانچ نفس پہلا امارہ بالسوء دوسرا لوامہ تیسرا مطمئنہ چوتھا راضیہ مرضیہ۔۔ | ||