سفر سوات فجر مجلس ۱۰ جون ۲۶ء:ذکرکی پابندی پر نصیحت ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں بمقام:جامعہ تعلیم القرآن تختہ بند سوات عنوان:ذکر کی پابندی پر نصیحت مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم حضرت والا الحمدللہ اس وقت سوات اور چترال کے دینی و اصلاحی سفر پر ہیں۔ الحمدللہ ۷۰ کے قریب احباب کا قافلہ حضرت والا کے ساتھ اس سفر میں ہے۔ حضرت والا کا پہلی بار چترال کا سفر ہورہا ہے۔ بروز پیر کو ۸ جون کو کار والے احباب جو تقریبا ۱۳ کے قریب تھے تین کاروں میں روانہ ہوئے اور رات دس بجے خانیوال پہنچے خانیوال میں مفتی فضل اللہ صاحب کے احباب میں سے ریحان بھائی کے گھر سب نے رات کو قیام کیا مفتی فضل اللہ صاحب اور اُن کے احباب نے ہر طرح سے احباب کی راحت کا خیال رکھا۔ بروز منگل کو تقریبا کار والے احباب صبح آٹھ خانیوال سے آرام کرکے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔۔ کچھ احباب بس اور ٹرین کے ذریعے روانہ ہوئے۔ سب کو اسلام آباد ائیر پورٹ پر جمع ہونا تھا کیونکہ پھر سب کی وہیں سے سوات کی ترتیب بنی تھی۔۔ حضرت والا کے ساتھ جہاز میں تقریبا ۲۸ ،احباب تھے حضرت والا کی فلائٹ لیٹ ہوکر ساڑے چار بجے ہوگئی تھی۔۔ حضرت والا الحمدللہ باعافیت احباب کے ساتھ ساڑے چھ بجے ائیر پورٹ سے باہر تشریف لے آئے تھے۔ اسلام آباد سے بھی حضرت والا کے احباب زیارت کےلیے حاضر ہوئے۔پشاور اور ارد کے علاقوں سے بھی بہت سے احباب جمع ہوگئے تھے۔ مولانا سرتاج صاحب بھی اپنے احباب کے ساتھ حضرت والا کی خدمت میں ائیر پورٹ پر آئے ہوئے تھے۔ اسلام آباد کے احباب میں جناب عبدالحق صاحب اور عمر عباس اور بھی کئی لوگ حاضر تھے۔ کاشف جان صاحب بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ دو بائیک پر چار گھنٹے کا سفر طے کرکے سوات میں حضرت والا کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت والا کو پتا لگا تو بہت حیران ہوئے کہ بائیک پر چار گھنٹے کا سفر کرکے آئے اور بہت خوشی کا بھی اظہار فرمایا اور دعائیں دیں۔۔ ائیر پورٹ پر کافی احباب جمع ہوگئے تھے ہر طرف سفید کپڑے اور سفید کپڑوں میں سب موجود تھے ایک عجیب ہی پُر نور منظر تھا۔ ایک چائنس مصباح بھائ سے ملے اور انگلش میں کچھ کہا مصباح بھائی نے پھر بعد میں بتایا کہ پوچھ رہا تھا کہ یہ کون ہیں اتنا خوبصورت اور نوارنی چہرہ مجھے ان سے ملنا ہے پھر مصباح بھائی نے ملاقات کرائی حضرت والا خوب محبت سےملے گلے لگایا اردو نہیں آتی تھی پھر اُس چائنس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں میرا نام دانش ہے مجھے دین سیکھنا ہے میں آپ کے پاس کراچی آوں گا حضرت والا نے فرمایا ضرور آئیں بہت خوشی ہوگئ پھر اُن کو سب نمبر دیا کہ جب آنا ہو تو بس ایک فون کردیں ان شاء اللہ انتظام ہوجائے گا۔ ائیر پورٹ پر فقیر محمد صاحب جو یہی ہوتے ہیں پہلے سے بہت اچھا انتظام کیا کہ کسی جگہ کوئی مسئلہ نہیں ہوا آرام اور عافیت سے سب احباب ائیرپورٹ کے اندر پہنچ گئے ۔ پھر وہاں سے کوسٹر بک تھی تقریبا ۱۸ احباب کو کوسٹر میں بٹھادیا گیا اور کچھ احباب کی ترتیب کار میں تھی ۔ پھر تقریبا سات بجے سب احباب کا قافلہ سوات کے لیے روانہ ہوا۔ مغرب نماز راستے میں ہی ایک جگہ ادا کی تقریبا رات ساڑے دس بجے قافلہ باعافیت سوات پہنچ گیا۔۔ سوات کا یہ مدرسہ ماشاء اللہ بہت خوبصورت اور بہت بڑا مدرسہ ہے جب حضرت والا کی کار احباب کے ساتھ مدرسے کے گیٹ پر پہنچی تو اندر مدرسے سے بار گیٹ تک ایک لمبی قطار طلباء کی استقبال کے لیے کھڑی تھی دنوں طرف قطاروں میں طلباء کا ہجوم تھا ہر طالبعلم سفید کپڑوں اور سفید ٹوپی میں کسی بھی طالبعلم کا دوسرا رنگ کا کپڑا اور ٹوپی نہیں تھی بہت پُر نور منظر ہر طرف طلباء کرام کا ہجوم ۔۔ حضرت والا کی کار پھر اندر مدرسے میں آگئ میزبان مولانا محب اللہ صاحب حضرت والا کو اپنے ساتھ مہمان خانے میں لے گئے کیونکہ طلباء کرام کار کے پیچھے گئے تاکہ مصافحہ کا موقع ملے لیکن بہت طلباء کرام تھے سفر کی تھکن بھی تھی اس لیے ممکن نہ تھا۔۔ حضرت والا نے گیارہ بجے فرمایا کہ جلدی سب کے کھانے کا انتظام کریں سب تھکے ہوئے تاکہ سب جلدی آرام کریں لیکن چونکہ کچھ کار اور کوسٹر پیچھے رہ گئی تھیں اس لیے حضرت والا نے فرمایا سب آجائیں سب نماز بھی پڑھ لیں لیکن چونکہ کافی طلباء کرام جمع ہوگئے تو حضرت والا مسجد میں حاضر ہوئے اور تقریبا ۵۰ منٹ حضرت والا نے بیان فرمایا جس میں طلباء کرام کو قیمتی نصائح ارشاد فرمائیں۔ پھر سوا بارہ تک کھانے کا نظم شروع ہوا کھانے کے بعد بھی احباب جمع ہوگئے تو دین کی باتیں چلتی رہیں تقریبا حضرت والا نے دو بجے تک آرام فرمایا اور پونے چار پر بیدا ہوئے کیونکہ ۴:۲۵ پر فجر نماز تھی یہاں موسم ماشاء اللہ معتدل ہے پنکھے چلتے ہیں لیکن ہلکی ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے اور پانی خوب ٹھنڈا ہے ۲۰۱۵میں جب سوات میں بیانات کی ترتیب تھی تو حضرت مولانا محب اللہ صاحب دامت برکاتہم نے سب انتظامات دیکھتے تھے اور اُن کے گھر پر رہائش تھی ۔ حضرت مولانا محب اللہ صاحب ۲۰۱۵میں حضرت شیخ کو اِس جگہ بھی لے کر آئے تھے جب یہاں جنگل تھا مدرسے کے لیے دعا کرانے لائے تھے اب ماشاء اللہ اتنا بڑا اورا چھا مدرسہ بن گیا حضرت نے فرمایا کہ جنگل میں منگل بن گیا ۔ حضرت کو انتہائی خوشی ہوئی کہ حضرت مولانا محب اللہ صاحب اور ان کے صاحبزادے اتنی طلباء کرام پر محنت کررہے ہیں ہر ایک کی تربیت کی فکر سفید لباس سفید ٹوپی کسی ایک طالبعلم کی ایک بھی دوسرے رنگ کی ٹوپی نہیں دیکھی بعد فجربیان کی ترتیب تھی فجر نماز کے بعد مختصر بیان ہوا | ||