سفر چترال مغرب مجلس ۱۱     جون  ۲۶ء:بیویوں کے حقوق     !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

چترال کی طرف قافلہ روانہ ۱۰روز کا دینی و اصلاحی سفر۔۔۔۔( سوات و،تیمر گرہ چترال،اپردیر)۔۔۔۔۔ جون 2026 _

سارے عالم میں پھر پھر کے یارب .............تیرا دردِ محبت سنائیں تیرا دردِ محبت سنا کر ..................سارے عالم کو مجنوں بنائیں_

بعد مغرب (بیان) تاریخ:۔11.06.26 بمقام:مدرسہ تبلیغ القرآن مشان گول،دنین چترال عنوان:بیویوں کے حقوق مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم حضرت شیخ کاآج بعد فجر تیمرگرہ دیر میں بیان ہوا۔۔ بیان کے بعد فورا ہی ناشتے کا نظم ہوا۔

۔ سب احباب کو اعلان کردیا گیا کہ سفر طویل ہے چترال کی طرف جانا ہے اس لیے سب گیارہ بجے تک سامان لوڈ کرکے تیار رہیں ٹھیک گیارہ بجے روانہ ہونا ہے۔۔ الحمدللہ سب وقت پر تیار رہے اور کچھ علماء تشریف لے آئے تھے حضرت والا نصیحت فرمارہے تھے تو سوا گیارہ تک قافلہ روانہ ہوا۔۔ یہاں سے چترال جانا تھا چترال میں بعد مغرب بیان کی ترتیب تھی اور چھ گھنٹے کا راستہ تھا ۔۔

کل ایک مدرسے کے مہتمم حضرت مولانا خالد محمود صاحب حضرت کے پاس حاضر ہوئے اور فرمایا کہ ہمارا مدرسہ ابھی نیا بنا ہے اور حفظ کا مدرسہ ہے تین سو سے زیادہ بجے زیر تعلیم ہیں آپ تشریف لے آئیں اور کچھ نصیحت اور دعا بھی فرمادیجیے گا ان کا مدرسہ راستے میں ہی تھا لیکن دو گھنٹے کی مسافت پر تھا اور مہتم صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ درمیان میں ہمارے ہاں رک کر سب کھانا یہی کھا لیں کچھ آرام بھی مل جائے پھر آگے کا سفر لمبا بھی ہے اور راستہ بھی ٹھوڑا پیچیدہ ہے پھر حضرت والا نے فرمایا کہ ان شاء اللہ ضرور آپ کی طرف سےہوتے ہوئے جائیں گے لیکن کھانا ہمارے سب احباب کے اپنے پیسوں کا ہوگا۔۔ اور یہ ترتیب بس ایک دن پہلے بنی اور الحمدللہ بہت اچھا ہوا کہ یہ ترتیب بن گئی اس سے کچھ آرام بھی مل گیا حضرت والا دو گھنٹے کا سفر کرکے بس یہاں پہنچنے ہی والے تھے کہ پانچ منٹ کے فاصلے پر حضرت والا کی کار خراب ہوگئی ۔ پھر حضرت والا کی جلدی سے دوسری کار میں ترتیب بنائی ۔۔

حضرت والا ریحان بھائی کی کار میں تھے جو ہر سفر میں ساتھ ہوتی ہے حضرت والا نے فرمایا کہ انہوں نے بہت بڑا خرچہ کراکر گاڑی کو اوپر کرایا تھا اور مضبوط قسم کی کوئی چیز لگوائی تھی تاکہ اونچائی اور پہاڑوں والے علاقے میں کوئی مشکل نہ ہو تقریبا اس پر لاکھوں روپے کا خرچہ ہوا لیکن وہی چیز ٹوٹ گئی جس کی وجہ سے کار رک گئی حضرت والا نے ایسے موقع پر نصیحت ہی فرمائی کہ ہر کام میں خیر ہے انا اللہ پڑھا اور فرمایا اب کوئی تاویلات نہیں کرنی بس سنت پر عمل کرکے دعا پڑھ لی اللہ تعالی نے چھوٹی مصیبت دے کر بڑی مصیبت سے بچالیا اگر یہی کار ایسی جگہ خراب ہوجاتی جہاں کوئی نہ ہوتا تو کتنی مشکل ہوتی بس ہر کام میں خیر ہے۔۔ پھر مدرسے میں پہنچ کر حضرت والا نے اساتذہ میں دس منٹ کا بیان فرمایا یہاں چونکہ نیٹ کے بہت مسائل ہیں اس لیے لائیو نہ ہوسکا اور جاری بھی نہ ہو سکا ان شاء اللہ جلدی جاری کردیا جائے گا۔۔ بیان کے بعد کھانا کھا کر فورا ہی قافلے کو روانہ کردیا گیا باقی دو احباب میں سے ذاکر بھائی اور عمران موٹن بھائی،ناصر بھائی اور جمیل بھائی کو حضرت والا کی کار صحیح کرانے لے گئے لیکن پتا چلا کار صحیح ہونے میں کافی وقت لگے گا اس لیے سوا تین بجے قافلے کو چترال کے لیے روانہ کردیا گیا باقی ایک کار جس میں حضرت والا تشریف لے آئے اُس کار کے احباب کو دوسری کاروں میں منتقل کردیا گیا۔۔ سب احباب دعا فرمائیں حضرت والا کی کار جلد صحیح ہوجائے تاکہ حضرت والا کا باقی سفر عافیت کے ساتھ طے ہوجائے جو چیز خراب ہوئی ہے وہ لاہور سے مل رہی ہے جو کل تک یہاں چترال پہنچے گی پھر اُس کے بعد کار صحیح ہوسکے گی۔۔

جو قافلہ سوا تین پر روانہ کیا گیا اور سب یہی کہہ رہے تھے کہ بس دو گھنٹے کا راستہ رہ گیا وہ راستہ تقریبا پونے پانچ گھنٹے میں طے ہوا ۔۔ مغرب تک قافلہ بیان والی جگہ پہنچا۔۔ کھانے سے فارغ ہوکر حضرت شیخ دامت برکاتہم سے تیمر گرہ دیر کے علمائے کرام نے الوداعی ملاقات کی۔ جامعہ کے اندر گاڑیاں کھڑی تھیں، جب گاڑیوں کا قافلہ روانہ ہوا تو مہتمم صاحب اور علمائے کرام بھی دروازے پر کھڑے ہوگئے اور قافلے کو رخصت کیا۔ آٹھ گاڑیاں اور ایک کوسٹر کا قافلہ خوبصورت اور پہاڑی راستوں سے ہوتا ہوا تیمرہ گیرہ دیر کےراستے سے ہوتا چترال کی طرف رواں دواں تھا۔ الحمدللہ!

حضرت شیخ دامت برکاتہم کے ساتھ ہم لوگ جتنی بلندی کی طرف بڑھتے جاتے تھے منظر خوش نما ہوتا جاتا تھا۔ دور نیچے دریا نظر آرہا تھااور راستے میں فاصلے فاصلے سے پانی کے جھرنے اور چشمے بھی نظر آرہے تھے۔ چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی تھی، بلند قامت پہاڑ اور ان کے وسیع قدرتی سبزہ اور اس کے درمیان حضرت شیخ دامت برکاتہم کی سربراہی میں قافلہ گزرتا جارہا تھا۔ تقریباً دو گھنٹے کی کوہ پیمائی کے بعد پہاڑوں کی بلندیوں پر سرو قد درختوں کی قطاریں نظر آئیں۔ ساڑھے چار بجے کے قریب حضرت شیخ دامت برکاتہم کے ساتھ قافلہ راستے میں عصر نماز کے لیے ایک پیٹرول پمپ پر رکا۔ یہ مقام کئی ہزار فٹ کی بلندی پر تھا۔ اور بعض جگہ ایس آئی کہ یہاں سے تمام پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آرہی تھیں۔ دیر سے جو دریا شروع ہوا وہ دریا ساتھ ساتھ ہی چلتا رہا اور جہاں چترال میں بیان تھا وہاں تک دریا نظر آیا اور بہت خوبصورت منظر کہ پانی مسلسل چل رہا ہے اور اُس کی آواز اوپر تک آرہی ہے جب کہ ہم کافی اوپر بلندی پر تھے۔۔ دو جگہ چترال میں ٹانل  بہت خوبصورت پہاڑوں کے درمیان ٹانل بنایا ہوا ہے تقریبا دس کلو میٹر تک کار چلی پھر ٹانل سے باہر آئے ٹرنل کے اندر گھوپ اندھیرا تھا صرف کار کی لائٹ سے روشنی ہورہی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ رات ہورہی ہے ایک صاحب نے بتایا کہ جب یہ ٹرنل نہیں تھا تو کئی کئی دنوں میں سفر طے ہوتا تھا اور اب منٹوں میں سفر طے ہوجاتا ہے اور جب باہر آکر دیکھا تو عجیب طرح بہت محنت سے اتنے مضبوط پہاڑ کو کاٹ کر یہ ٹرنل بنایا ہے

معارفِ ربانی میں شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت اقدس حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ حضرت والا میر صاحب رحمۃ اللہ نے نقل فرمایا جو حضرت شیخ دامت برکاتہم کے صدقے اسی کی مناسبت سے یاد آیا، حضرت والا میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ’’حضرت والا نے فرمایا کہ یہ مناظر لاکھ حسین ہوں لیکن ایک دن فنا ہونے والے ہیں، قیامت کا زلزلہ ان کو تباہ کر دے گالہٰذا ان سے دل نہ لگائو۔ حسنِ تباہ سے بس نباہ کرلو، ان کو دیکھ کر اﷲ تعالیٰ سے جنت مانگ لو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الدعاء، باب الجوامع من الدعاء،ص:۲۷۳) اے اللہ! ہم سب آپ سے جنت کا سوال کرتے ہیں،کیونکہ اس جغرافیہ پر تو قیامت آنے والی ہے، کتنا ہی حسین منظر ہو، کتنی ہی مفرح شکل ہو، مگر ہماری اس فرحت پر قیامت آنے والی ہے اور جنت پر کبھی قیامت نہ آئے گی، تو ہم عارضی بہاروں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے کیوں نہ دائمی بہار مانگ لیں۔

یہ عارضی بہار دیکھ کرجب دل میں مزہ آئے تو ہم دائمی بہار مانگ لیں کہ اےاللہ! ہمیں جنت عطا فرما اور جنت میں لے جانے والے اعمال بھی نصیب فرما،معلوم ہوا کہ مقرب عمل وہ ہے جو ہمیں جنت سے قریب کرے، اورجہنم سے پناہ نصیب فرما اور گناہوں سے بچا کیونکہ یہی جہنم سے قریب کرتے ہیں۔‘‘ الحمدللہ! عصر نماز ادا کی۔ نماز کے بعد حضرت شیخ دامت برکاتہم کے ساتھ گاڑیوں کا قافلہ دوبارہ منزلِ مقصود چترال کی طرف رواں دواں ہوگیا۔

قافلہ سفر کرتا ہوا تقریباً مغرب کے وقت چترال بیان والی جگہ پہنچا۔ یہاں کے مفتی صاحب اور مدرسہ کے اساتذہ علمائے کرام نے استقبال کیا۔ یہ مدرسہ ماشاء اللہ بہت ہی بڑا مدرسہ ہے اور مسجد بھی ماشاء اللہ سے بہت بڑی ہے۔ مغرب نماز کی تیاری کرکے احباب مسجد میں پہنچے۔ مغرب نماز کے بعد بیان شروع ہوا۔