۲۳۔فروری  ۲۰۲۲ بعد عشاء  : اصل کام نفس کی بری خواہشات کوکچلناہے    !

قطب زماں عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبدالمتین صاحب مدظلہ کا   مسجد اختر  میں بیان 

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

03:33) بیان سے پہلے خطبہ پڑھا اور قرآن کریم کی آیت پڑھی والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا ۚ وإن الله لمع المحسنين وقال رسول اللہ ﷺاَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ 03:34) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم ہماری مرضیات پر چلو گے تو ہم تم کو اپنا بنا لیں گے۔۔۔اور دیدار سے بھی نوازیں گے۔۔۔ 05:14) گو ولولے دل کے مجھے مجبور کرتے ہیں ۔۔۔تیری خاطر گلے کا گھوٹنا ہم منظور کرتے۔۔۔ 05:51) اللہ تعالیٰ نےانسان کے اندر دونوں خواہشات رکھی ہیں انسان چاہے تو اپنی طاقت کو اللہ تعالیٰ پر قربان کرے ۔۔۔ 07:02) اصل کام نفس کی بُری خواہشات کو کچلنا ہے۔۔۔جان دے دی میں نے اُن کے نام پر عشق نے سوچا نہ کچھ انجام پر۔۔۔جو خوش نصیب ہوتے ہیں اپنی چاہت کو اللہ تعالیٰ کی خوشی پر قربان کرتے ہیں۔۔۔ 08:44) حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ حق تعالیٰ تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے کہ اخلاق رزیلہ جاتےر ہیں اور اخلاق خمیدہ پیدا ہوجائیں غفلت من اللہ جاتی رہی ۔۔۔ 10:27) عشاق کی نظر محبوب پاک کی طرف ہوتی ہے وہ جدھر بھی دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کا جمال ہی جمال نظر آتا ہے۔۔۔ 11:11) مولانا جامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جدھر دیکھتا ہوں تیری ہی خوشبوہی خوشبو ہے ۔۔۔گلستان میں جا کر ہر گل کودیکھا تیری ہی رنگت ہے تیری ہی خوشبو ہے۔۔۔ 12:25) فرعون ہامان اور قارون کی نظریں خواہشات پر ہوتی ہیں اور نیک لوگوں کی نظریں محبوب پا ک پر ہی ہوتی ہیں۔۔ 14:16) لقد خلقنا الإنسان في أحسن تقويم جو محبوب پاک پر فدا ہوتے ہیں اُن کا حسن پائیدار رہتا ہے سِيمَاهُم فِي وُجُوهِهِم مِن أَثَرِ السُّجُودِ اُن کو دیکھ کر اللہ یاد آتا ہے انوار ہی انوار میں یہ ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں مچھلیاں جس طرح پانی ہی پانی میں ہوتی ہیں اسی طرح اولیا ءاللہ بھی اللہ تعالیٰ کی یاد کی گہرائیوں میں ہوتے ہیں اسی طریقے سے عشاق ِحق کو سکون ملتا ہے ۔۔۔ 18:31) سکون اس وقت ملتا ہے جب گناہوں سے الگ ہوجائے چاہے اعمال کم ہوں نوافل کے انوا ر بھی ہوتے ہیں اور قربِ نوافل سے بڑھ کر کہیں زیادہ فرائض کا نور ہوتا ہے۔۔۔گناہوں سے بچ گئے تو نور ہی نور محسوس ہوگا۔۔۔ 20:23) تو دل میں تو آتا ہے لیکن سمجھ میں نہیں آتا میں پہچان گیا کہ تیری پہچان یہی ہے۔۔۔ 20:54) حضرت مولانا عبدالرحمن گنج مراد آبادی رحمہ اللہ نے حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے فرمایا کہ جب میں سجدہ کرتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرااللہ میراپیار لے رہا ہے ۔۔۔ 23:21) نگاہوں کی حفاظت،قلب کی حفاظت ہمیشہ اس کا اہتمام کرنا ہے۔۔۔ 24:07) بس اِک بجلی سی پہلے کوندی پھر اس کے آگے خبر نہیں ہے مگر جو پہلو کو دیکھتا ہوں تو دل نہیں ہے جگر نہیں ہے اور آئے تھے کس کام کو کیا کر چلے تہمتیں چند اپنے سر پر دھر چلے واں سے پرچہ بھی نہ لائے ساتھ میں یاں سے سمجھانے کو لے دفتر چلے 25:11) کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔ 25:42) گریہ و زاری سے روتے ہوئے یہ شعر پڑھا:۔ دل میرا ہوجائے ایک میدانِ ھو تو ہی تو ہو توہی توہو تو ہی تو اور مرے تن میں بجائے آب وگِل درد دل ہو درد دل ہو درد دل غیر سے بالکل ہی اٹھ جائے نظر تو ہی تو آئے نظر دیکھوں جدھر 27:07) فرمایا میرے شیخ رحمہ اللہ کا عجیب شان تھی نرالہ شان تھی پھر بنگلہ دیش کا ایک واقعہ بیان فرمایا۔۔۔فرمایا تھا کہ گناہوں کو چھوڑ دو یا مجھے قتل کردو کیا درد تھا کیا دل میں غم تھا بس احباب کو اللہ والا بنانا ..اللہ تک پہنچانا۔۔ 30:07) کام تو کریں بس اللہ تک پہنچ جائیں گے۔۔ راہبر تو بس بتا دیتا ہے راہ راہ چلنا راہرو کا کام ہے تجھ کو مرشد لے چلے گا دوش پر یہ ترا رہرو خیالِ خام ہے آپ سمجھتے ہیں کہ پیر کند ھے پر بٹھا کر راستہ طے کرا دے گا۔ پیر راستہ بتاتا ہے ،چلنا آپ کا کام ہے، ساری محنت آپ کو کرنی ہے۔۔۔ 30:43) کامیابی تو کام سے ہوگی نہ کہ حسنِ کلام سے ہوگی ذکر کے التزام سے ہوگی فکر کے اہتمام سے ہوگی روزانہ جب اللہ اللہ کہیں گے تو دل کے تالے کھلنے شروع ہوجائیں گے۔ 31:57) لنھدینھم سبلنا:۔ جس کے ذریعے قرب الہی کی توفیق حاصل ہوگی ..یعنی ہم اپنی ذات کی طرف سیر کے بے شمار دروازے کھول دیں گے۔ ضرور ضرور ہم ان کے لیے ہدایت کے دروازے کھول دیں گے۔ 36:45) ہم ہمت تو کریں کہ تعلق مع اللہ ضرور حاصل کرنا ہے نیت تو کریں آگے بڑھنے کی فکر تو کریں 37:16) ارادہ عظیم الشان کام ہے۔۔۔ شیخ پینے کا ارادہ تو کریں حوضِ کوثر سے منگالی جائے گی۔۔ 38:41) گناہوں کو چھوڑنے کا ارادہ تو کریں۔۔زندگی اُس ذات پر فدا کردیں جس نے زندگی بخشی ہے۔۔ 40:35) اولیاء اللہ کے پاس آنے جانے سے کیا ہوتا ہے ؟ 41:24) گر تو طالب نیستی و ہم بیا اگر تمہارے اندر اللہ کی طلب اور درد محبت نہیں ہے تب بھی تم اللہ والوں کے پاس جائو تا طلب یا بی ازیں یار وفا ان کے صدقہ میں تمہیں طلب اور پیاس بھی عطا ہوجائے گی وفادری پیدا ہوجائے گی اور پھر ڈھونڈنے لگو گے اور پھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے پہنچ بھی جاو گے۔۔۔ 43:19) بھاگتے بھاگتے اک دن اللہ تعالی تک پہنچ بھی جائیں گے۔۔۔ 46:21) بڑے حضرت والا رحمہ اللہ کے وقت کا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ کیسے کیسے پینٹ شرٹ میں لوگ آتے تھے اور اللہ والا بن کر جاتے تھے۔۔ گر تو طالب نیستی و ہم بیا تا طلب یا بی ازیں یار وفا 47:11) سنتوں پر جان لڑا کر عمل کرنا ہے ایک ایک سنت عظیم الشان ہے۔۔۔ 47:59) اتباع بہت بڑی نعمت ہے۔۔ 48:50) حضرت مولانا قاسم ناتوتوی رحمہ اللہ کا ایک بہت پیارا شعر پڑھا۔۔۔ 50:12) آپ ﷺ کی اتباع عظیم الشان دولت ہے۔۔ اس لیے ہمارے اکابر کے اندر سنتوں کی ایک عجیب دھن تھی ۔۔۔ ایک نابینا بزرگ کا واقعہ۔۔۔سرما لگانے کا واقعہ ۔۔۔سنت کی اتباع میں کیا شان تھی کہ نابینا لیکن پھر سنت کے لیے سرما لگارہے ہیں۔۔ 52:35) تین چیزیں محبوب ہیں..حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:۔ {اَلنَّظَرُ اِلَیْکَ}۔ اے اﷲکے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جب اپ کو ایک نظر دیکھتا ہوں تو یہ ایک نظر مجھے سارے عالم سے لذیذ تر ہے۔ {وَالْجُلُوْسُ بَیْنَ یَدَیْکَ}۔ اور جب اپ کے پاس بیٹھتا ہوں تومجھے سارے عالم سے زیادہ لذیذ تر ہے کہ میں ایک سیکنڈ اپ کی صحبت میں بیٹھ جائوں۔{وَاِنْفَاقُ مَالِیْ عَلَیْکَ} اور آپ پر اپنا مال خرچ کرنا مجھے کائنات کی ساری لذتوں سے زیادہ لذیذ معلوم ہوتا ہے 54:20) دل کو بنائیں دل بن گیا تو تمام اعضاء و جوارح بن جائیں گے اور اگر دل برباد تو سب برباد۔۔۔ دل گلستان تھا تو ہر شے سے ٹپکتی تھی بہار دل بیاباں کیا ہوا عالم بیاباں ہوگیا اگر دل میں بہار ہے تو باہر بھی بہار ہے اور اگر دل ویران ہے سارا عالم ویران ہے۔ 55:51) دل بننے کے لیے دو کام ضروری ہے ایک مجاہدہ اور دوسرا صحبت اہل اللہ۔۔ 56:31) دونوں راستوں پر چلنا ضرور ی ہے۔۔۔